یوم دفاع پاکستان

یومِ دفاع، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اُس دن کی یاد میں منایا جاتا ہے جس دن ہماری افواج نے 1965ء میں ہندوستانی افواج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اور اپنے ملک کا دفاع کیا تھا۔ اسے ہر سال 6 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔
دشمن نے 6 ستمبر 1965ء کو ہمارے ملک پر حملہ کیا۔ یہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی افواج کی پیش قدمی روکنے کے لیے ردِعمل تھا۔ دشمن نے مرکزی طور پر لاہور، سیالکوٹ اور سندھ کے صحرائی علاقوں پر حملہ کیا تھا۔ 22 ستمبر 1965ء تک جنگ جاری رہی جس کے بعد فریقین نے اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام جنگ بندی کو قبول کرلیا۔

مگر ہماری افواج نہ صرف جنگ کے دوران معرکوں میں حصہ لیتی ہیں بلکہ امن کے دور میں بھی قوم کی تعمیر میں حصہ ڈالتی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز اکثر اوقات قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچاتی ہیں اور سیلابوں اور زلزلوں کے دوران ریلیف کی خدمات سرانجام دیتی ہیں۔ فوج کے زیرِ انتظام چلنے والے کئی ادارے مثلاً اسکول، کالج، ہسپتال سویلینز کو بھی گراں قدر خدمات فراہم کرتے ہیں۔

ہمارے قومی ہیروز کی تکریم کرنے کا کوئی مخصوص وقت نہیں ہے۔ کوئی بھی اسکول یا کمیونٹی فنکشن کسی بھی وقت منعقد کیا جاسکتا ہے تاکہ ان تمام باوردی خواتین و حضرات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاسکے جنہوں نے ملکی سلامتی میں اپنا کردار ادا کیا ہے

یومِ دفاع ہمارے اس عزم کی تجدید کا بھی دن ہے کہ ہم ایک مضبوط قوم ہیں اور ہم کسی بھی غیر ملکی قوم سے ڈریں گے نہیں چاہے وہ جتنی بھی مضبوط کیوں نہ ہو۔ ہماری فوج اس کی اور دیگر چیزوں کی علامت ہے۔ ہماری فوج ہمارے عظیم ملک پاکستان کی شجاعت اور حربی تکنیکوں کا مظہر ہے اور یومِ دفاع یہ سب کچھ یاد رکھنے کا دن ہے تاکہ ہم مضبوط رہ سکیں اور اپنے ملک کے بچوں اور نوجوانوں کو درست پیغام دے سکیں۔
یومِ دفاع پر ملک بھر میں فوجی پریڈز اور ایونٹ منعقد کروائے جاتے ہیں۔ فوجی پریڈز میں تازہ ترین ٹیکنالوجیز کی نمائش کی جاتی ہے۔ کبھی کبھی نئے تیار شدہ اسلحے کی لانچ بھی اسی دن کی جاتی ہے۔ ان ایونٹس کا واضح مقصد ہمارے ہیروز کو یاد رکھنا اور ہماری فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا بھی اس مقصد کے حصول میں کردار ادا کرتے ہیں۔

پاک فضائیہ کے طیارے یومِ دفاع کے لیے ریہرسل کر رہے ہیں۔
ہم سب کو اپنی مضبوط افواج پر اور ملک کی زمینی سرحدوں کی حفاظت اور ملکی سلامتی یقینی بنانے میں ان کے آئینی کردار پر فخر کرنا چاہیے۔ ہم بھلے ہی معاشی مسائل کا شکار ہوں مگر ہم غیر ملکی خطرات سے محفوظ ہیں کیوں کہ دنیا میں کئی لوگوں کے مطابق ہماری افواج ایشیاء کی بہترین افواج میں سے ہیں۔ جب ہم اپنے ماضی کے جنگی ہیروز کو سلیوٹ کرتے ہیں تو ہم ان کی قربانیوں کی تکریم کرتے ہیں۔

6ستمبر کا دن ہمارے اس عزم کی علامت ہے کہ اگر کسی نے ہماری سرحدوں کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش کی تو ہم جارحیت کو کچلنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔ جنگِ ستمبر کا جذبہ ایک کسوٹی ہے جس پر ہم بحرانوں سے نمٹنے کے لئے اپنے کردار اور کارکردگی کو پرکھ سکتے ہیں اور بحیثیتِ قوم اپنے رویوں اور صلاحیتوں کو جانچ سکتے ہیں۔ 1965ء کی جنگ نے جہاں ہمیں اپنے سپاہیوں کی جرأت و استقامت اور بے لوث قربانیوں کو دیکھنے کا موقع فراہم کیا وہاں اس نے ہمارے اجتماعی رویوں کے ان روشن پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا جن میں ملی وحدت، تنظیم، حب الوطنی اور قومی افتخار نمایاں ہیں۔ اس دن پوری قوم جارحیت کرنے والوں کو سبق سکھانے کے لئے فردِ واحد کی طرح اٹھ کھڑی ہوئی ۔ ہماری بہادر مسلح افواج اور عوام کے مابین ایک ایسا جذباتی رشتہ استوار کیا جو ہمیشہ دلوں کو گرماتا رہے گا۔ یہ ہمارے قومی شعور کا ایسا بھرپور اور جانفزا تجربہ ہے جو باعثِ افتخار بھی اور قابلِ تقلید بھی۔ آج ہم اپنے شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور اپنے غازیوں کے لئے سراپا سپاس ہیں ہمیں جنگ کے ایک اہم سبق کو یاد رکھنا چاہئے کہ ایمان و اتحاد اور مشکل حالات کا مقابلہ کرنے اور قربانیاں دینے کے عزم و حوصلے سے ہم کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔ ہمارے دشمن کے بالا دستی کے عزائم میں آج بھی ذرہ برابر تبدیلی نہیں آئی۔ اس کا مقصد خطے میں اپنی بالا دستی قائم کرنا ہے۔ وہ اپنے غریب عوام کا پیٹ کاٹ کر تمام وسائل اسلحہ کے انبار لگانے میں صرف کر رہا ہے اور اپنے بجٹ کا بڑا حصہ اپنی افواج کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے اور مہلک میزائلوں سمیت ہلاکت خیز ہتھیار تیار کرنے پر صرف کر رہا ہے۔ اس دشمن کے جارحانہ عزائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزیاں اس کی واضح دلیل ہیں۔ بھارت اس وقت خود کو طاقتور اور پاکستان کو اس کے بحرانوں کی وجہ سے بہت کمزور محسوس کر رہا ہے لیکن پاکستان کمزور نہیں ہے۔ بحرانوں میں پھنسے ہوئے ہونے کے باوجود پاکستان اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت سے آراستہ ہے۔

6 ستمبر یہ دن قوموں کی زندگی میں کبھی کبھی آتے ہیں۔ مگر زندہ قومیں ایسے دنوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔ اس دن کا مقصد صرف ان شہیدوں کو یاد کرنا ہی نہیں ہوتا جنہوں نے اپنا کل ہماری آنے والی نسلوں اور ہمارے آج کے لیے قربان کر دیا۔ ستمبر کی جنگ پاکستانی قوم کے لیے وقار اور لازوال داستان کا درجہ رکھتی ہے۔ دفاع پاکستان قوم میں جہاں ایک نئی امنگ پیدا کرتا ہے دفاع جتنا مضبوط ہو قوم بھی اتنی ہی مضبوط اور فخر محسوس کرتی ہے۔ بھارت نے طاقت کے نشے میں ایک آزاد ملک کی آزادی سلب کرنے کی ناپاک جسارت کی جس کو پاکستانی افواج اور قوم نے مل کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا اور دنیا کو یہ ثابت کر دکھایا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں ہماری مسلح افواج دنیا کی کسی افواج سے کم نہیں۔ افواج پاکستان اور قوم اپنے ملک کا دفاع کرنا خوب جانتی ہے۔ بھارت کسی بھی خام و خیالی میں نہ رہے کہ ہم اپنے دفاع سے غافل ہیں۔ دشمن نے آئندہ جارحیت کی سوچ بھی پیدا کی تو اس کا ذمہ دار بھی وہ خود ہی ہو گا خاک کے ڈھیر کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔ عبرت ناک سزا سے اسے کوئی بھی نہیں بچانے آئے گا۔ ملت پاکستان کے لیے 6 ستمبر شہیدوں اور غازیوں کو یاد کرنے کا دن ہی نہیں یہ دن ہماری عظمت کا نشان ہے۔ ان دنوں میں 23 مارچ 28 مئی 14 اگست اور 6 ستمبر اپنی نوعیت کے اعتبار سے قابل فخر اور یادگار دنوں کا درجہ رکھتے ہیں قوم اپنے جرأت مند فرزندوں ، شہیدوں، مجاہدوں کی بہادری اور حب الوطنی پر کیوں ناز نہ کرے جنہوں نے اپنے ملک کی سالمیت و حفاظت کے لیے اپنی خوبصورت جان بلند حوصلہ کے ساتھ ہمارے آنے والے کل کے لیے قربان کر دی اس پر پوری پاکستانی قوم رہتی دنیا تک اپنے ان شہیدوں مجاہدوں کو سلام پیش کرتی رہے گی۔
اور اس یادگار یوم دفاع پر دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کی سلامتی رکھے اور پاک فوج کو سیاست سے دور کرکے یونہی وطن پر جانثار ہونے کا جذبہ قائم رکھے(آمین)

*

تحریر۔۔۔۔ضیا ٕاللّٰہ

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc