گلگت بلتستان الیکشن 2020 ، خطے سے تعلق رکھنے والے کئی لاکھ ووٹر حق رائے دہی سے محروم ہونے کا ا نکشاف۔

سکردو (ٹی این این) جس طرح کراچی کے عوامی نمائندوں کا 2017 کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی کم کرنے کے حوالے سے شدید خدشات پایا جاتا ہے بلکل اسی طرح گلگت بلتستان میں مردم شماری کے مطابق جو آبادی دکھائی گئی ہے اس حوالے سے عوام اور عوامی نمائندوں سمیت سیاسی سماجی رہنماوں کو شدید پایا جاتا ہے۔پرنٹمیڈیا اور سوشل میڈیا پر عوامی خدشات اور احتجاج میڈیا کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ 2017 کے مردم شماری میں گلگت بلتستان کی آبادی 14 لاکھ 92 ہزار بتائی گئی ہے جس میں پاکستان کے مختلف شہروں اور بیرونی ممالک میں مقیم لاکھوں افراد شامل نہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر اور گلگت سے امیدوار گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع خان نے ہمارے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی قانونی حیثیت ایک ہے لیکن حق رائے دہی کے حوالے سے قانون الگ لہذا جس طرح دونوں خطوں کی حیثیت ہی اسی بنیاد پر آزاد کشمیر کے شہریوں کی طرح گلگت بلتستان کے شہریوں کو بھی گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں ووٹ کا حق ملنا چاہیے اور ان کیلئے الگ سے نشت بھی آزاد کشمیر اسمبلی کی طرح مختص ہونا چاہیے۔
غذر سے سابق رکن قانون ساز اسمبلی اور اُمیدار معروف سیاسی رہنما نواز خان ناجی نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے اس بات سے اختلاف کیا اور اُنہوں نے کہا کہ پاکستان ایک طرف گلگت بلتستان کو متنازعہ سمجھتے ہیں اور دوسری طرف گلگت بلتستان کے وہ لوگ جو پاکستان کے شہروں میں مقیم ہیں اُن کو پاکستان کے الیکشن میں ووٹ کا حق دیتے ہیں جو کہ سلامتی کونسل کے قراردادوں کی صریحا خلاف ورزی ہے ۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے شہری چاہئے دنیا کے کسی کونے میں رہتا ہو صرف گلگت بلتستان اسمبلی میں ہی ووٹ کا حق ملنا چاہئے۔ اُنکا مزید کہنا تھا میں پاکستان میں مقیم باشندوں کیلئے الگ نشت کابھی مخالف ہوں کیونکہ اگر ایسا ہوا تو گلگت بلتستان اسمبلی میں پاکستان کے شہروں سے منظور نظر لوگ آئیں گے جو کہ گلگت بلتستان کے حق میں نہیں ہوگا۔ اُنہوں نے کہا میرا مطالبہ ہے کہ چونکہ لداخ ریاست جموں کشمیر گلگت بلتستان کی اکائی ہے اور لداخ کے وہ تمام لوگ مختلف جنگوں میں اپنے گھر سے بیدخل گلگت بلتستان کے خاص طور پر بلتستان میں آباد ہیں اُن کیلئے گلگت بلتستان اسمبلی میں الگ نشت ہونا چاہئے یہ اُنکا حق ہے ۔
بلتستان سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہنما انجنئیر منظور حسین پروانہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں اور بیرون ملک مقیم گلگت بلتستان شہریوں کو ملا کر گلگت بلتستان کی ٹوٹل آبادی 25 لاکھ کے لگ بھگ بنتا ہے لیکن 2017 کے الیکشن میں جہاں خطے کی آبادی کو کم کرکے دکھایا گیا وہیں ہزاروں سال پرانی قدیم زبانوں کو بھی مردم شماری کے فارم میں شامل نہیں کیا تھا۔ ہمارے نمائندے سے خصوصی بات کرتے ہوئے انکا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت ایک ہے لیکن حق رائے دہی کے حوالے سے الگ قانون ہے کیونکہ آزاد کشمیر کے لوگ جو پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں انکو پاکستان کے الیکشن اور آزاد کشمیر الیکشن دونوں میں ووٹ کی سہولت حاصل ہے اور آذاد کشمیر اسمبلی میں الگ سے نشستیں مختص ہیں لیکن گلگت بلتستان کے شہریوں کا اگر ووٹ شہروں میں درج ہے تو وہ اپنے خطے کے الیکشن میں ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک اور ٹیوٹر پر بھی اس حوالے صارفین احتجاج کرتے نظر آتا ہے اور اس حوالے سے کوئی قانونی سازی نہ کرنے پر گلگت بلتستان اسمبلی کو تنقید کا نشانا بنایا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کو چاہئے کہ اس ہم ایشو کی طرف توجہ دیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم گلگت بلتستان کے شہریوں کو ووٹ کا حق دینے کیلئے میکنزم تیار کریں۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc