سپریم کورٹ آف پاکستان کا گلگت بلتستان کے حوالے سے ایسا فیصلہ سُن کر عوام دھنک رہ جائے۔

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) گزشتہ دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کی حیثیت کے حوالے ایک مقامی وکیل کی پٹیشن پر عوام نے تاریخی فتح قرار دیا اور امید لگائے بیٹھ گئے۔ لیکن شائد گلگت بلتستان کے عوام کو یہ معلوم نہیں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا گلگت بلتستان کے حوالے سے پہلے ہی فیصلہ دیا ہوا ہے لیکن عمل درآمد کرنے کیلئے وفاق پاکستان تیار نہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کا تاریخی فیصلہ28 اپریل1999ء میں صفحہ نمبر 42 پر حکم صادر کیا ہوا ہے کہ گلگت بلتستان تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے ا نڈیا،چین تبت،روس کے درمیان ایک انتہائی حساس خطہ ہے، یہ عدالت فیصلہ نہیں کر سکتی کہ گلگت بلتستان کو کس طرح کی حکومت د ینی چائیے کیونکہ اس بات کی آئین پاکستان اجازت نہیں دیتی،اور نہ ہی ہم ہدایت دے سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دی جائے کیونکہ یہ ملک کے عظیم تر مفاد میں نہیں در اصل یہاں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی رائے شماری ہونا باقی ہے۔ سپریم کورٹ کے اُس حکم نامے میں حکم کرتا ہے کہ ناردرن ایریاز(آج کا گلگت بلتستان) ریاست جموں و کشمیر کا آئینی حصہ تھے، حکومت پاکستان چھے مہینوں کے اندر یہاں بنیادی حقوق،سیاسی اور انتظامی اداروں کی فراہمی کو یقینی بنائیں، اس طرح کے اقدام سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف پر کوئی فرق نہیں پڑنا چائیے۔ اس حوالے سے اگر عالمی عدالت کی بات کریں تو یہ با بھی ایک حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد 30 مارچ1951 ء میں پاکستان اور انڈیا نے اس بات کو قبول کرکے د ستخط کئے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کی اسمبلیوں کو ریاست جموں و کشمیر کی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
لہذا اگر مزید کسی فیصلے کی انتظار میں خوش فہم ہونے کے بجائے اگر پاکستان مسلہ کشمیر گلگت بلتستان کو الگ کرتے ہوئے یکم نومبر 1947 کی آذادی کو تسلیم کرتے ہوئے یہاں رائے شماری کرتے ہیں تو گلگت بلتستان پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بن سکتا ہے بصورت دیگر گلگت بلتستان کے عوام کوقومی شناخت دینے اور سی پیک کے معاملات کو قانونی بنانے کیلئے مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے آذاد کشمیر طرز پر بااختیار سیٹ اپ دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc