مزاحیہ تنقیدی باتیں. تحریر : حمایت حسین خیال

چند روز قبل جامعہ میں فراغت کے لمحوں میں ہونے والی گفتگو نے مجھ مجبور کر دیا کہ اس کو قلم بند کر لوں. آج تک ایسی دلچسپ گفتگو نہیں ہوئی. طنز و مزاح سے بھر پور مکالمے میں بہت سارے سوالات ہیں. ویسے بہت سارے دوستوں کا کہنا کہ سیاسی، سماجی اور معاشرتی باتوں سے ان کا دل بھر چکا ہے. سو آج ذرا ماضی سے کچھ ہٹ کے.
یونیورسٹی کے پہلے روز اور پہلی کلاس اکثر طلباء کو یاد رہ جاتی ہے. میں گزرنے والے واقعات و حادثات کو اکثر بھول جاتا ہوں. اس لئے کسی بھی واقعے کو یاد رکھنا میرے لئے بہت مشکل ہوتا ہے. لیکن پہلا دن اور پہلی کلاس کو کچھ اس طرح سے یاد رکھا ہوا ہے. مجھے جو پہلی کلاس میں نشست ملی اس کے بازو میں کچھ لکھا ہوا پایا. غور کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ تو پہلا کلمہ ہے. سو اس کو ادب و احترام کیساتھ پڑھا. سوچا کہ یہ ان طلاب کے لئے لکھا گیا ہو جو کیمبرج اور نہ جانے کن اداروں سے پڑھ کے آئے ہوں گے. یا لکھنے والے کا مقصد زبردستی غیر مسلمانوں کو مسلمان بنانے کی سازش تھی. پس لکھنے والے کے جو بھی مقاصد تھے کلمہ پڑھنے کے بعد میں اب دوبارہ سے نیا مسلمان بن چکا تھا.
اگلے دن کلاس دیر سے پہنچنے کی وجہ سے وہ کرسی نہ مل سکی. جس پہ اور بھی بہت کچھ لکھا ہوا تھا. کلاس کے آخری حصے کی جانب خالی کرسیوں میں سے ایک کو انتخاب کر لیا. قلم و کاپی سنبھالا اور لیکچر نوٹ کرنے لگا. تھوڑی دیر بعد استاد محترم کا سیل فون بجنے لگا اور وہ کمرہ جماعت سے بایر تشریف لے گئے. اس بار کرسی کے بازو میں کچھ زیادہ ہی باریک لفظوں کو منتظر پایا. آنکھوں پھاڑ کردیکھا اور پڑھنے لگا. معلوم ہوا آئین پاکستان کے اہم آرٹیکلز لکھے گئے تھے. کرسی میں موجود تمام اہم آرٹیکلز کو پڑھا اور مایوسی ہوئی کہ گلگت بلتستان کا کہیں غلطی سے بھی تذکرہ نہیں کیا گیا تھا. ارادہ کیا کہ آئین پاکستان کو مکمل پڑھ لوں. گھر آنے کے بعد آئین پاکستان کو نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا اور تسلی ہوئی اور مایوسی بھی. لکھنے والے نے مسلمان تو بنا دیا لیکن پاکستانی نہیں بنا سکا. کاش وہ آئین پاکستان میں ترمیم کئے دیتا اور گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ، آزاد کشمیر کی طرح کا سیٹ اپ، عبوری صوبہ یا پاکستان کے کسی صوبے کے ساتھ ملا دیتا تو آج میں بھی فخر سے پاکستانی ہونے کا دعوی کرتا اور پاکستانی حکومت اور اداروں کو پاکستان سے محبت کا سرٹیفیکٹ پیش کرنی کی نوبت نہ آتی…….
خیر آج ان تلخ حقائق پہ گفتگو کرنے کا کوئی ارادہ نہیں. اب روز کا معمول بن چکا تھا کہ ایک نئی کرسی کا انتخاب کرتا اور نئی باتیں سیکھنے کی کوشش کرتا. کرسیاں اور دیوار کہیں کمزور انگلش والوں کے لئے گرائمر کے قوانین اور مختلف جملوں کے فارمولے تو کہیں میر، مرزا، اقبال کے اشعار سے مزین تھیں. کہیں در و دیوار پر ماحول کو صاف رکھنے کی بھی ہدایات لکھی گئی تھی تو کہیں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے نعرے لکھے گئے تھے جو اب بھی موجود ہیں….
چند ہی دنوں میں اسلامی باتوں نے اسلامی باتوں نے اپنی جانب مائل کئے رکھا تو دوسری جانب شاعروں کے اشعار نے محبوب اور محبت کا راستہ دیکھا دیا. کہیں فلسفی بنتے رہے تو انگلش اور تاریخ نے ہمیں ادیب اور محقق بنے پر مجبور کیا. جگہ جگہ صاف ستھرا ماحول کے اشتھار بھی لگے ہوئے تھے.
اب جب دوسرے اور تیسرے سمسٹر کے گزرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ سب گراں قدر خدمات کسی کو مسلمان بنانے ، تاریخ پڑھانے ، ادیب، شاعر بنانے کے لئے ہرگز نہ تھیں. یہ تو امتحان میں اچھے گریڈ کے حصول کے لئے لکھے گئے تھے.
کل جب میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ اس طرح کرسیوں اور دیواروں پر لکھنے سے اجتناب کرنا چاھئے. تو میرے دوست کا کہنا تھا کہ کب تک کتاب کے اوراق کو میلے کرتے چلیں جائیں کچھ انوکھا کام بھی تو کرنا چاھئے، رہی بات سیاسی اور مذہبی نعروں کا ، اگر وہ نعرے نہ لکھیں گے تو ان کی موجودگی کیسے معلوم ہوجائے گی. کیسے دوسرے کا کافر ،باطل قرار دیں گے. ویسے جامعہ کی انتظامیہ بھی تو کرپشن کے محاز پہ فاتح ثابت ھوئی ہے. اتنا سارا فنڈ ملنے کے بعد ایک آدھ دیوار تک سفیدی نہیں کرتے.
میرا کہنا ہے کہ طالعبوں کو دوران پیپر باتوں اور نقل سے پرہیز کرنا چاہئے.
میرے دوست کا کہنا ہے کہ اب دوست مصیبت میں بھی کام نہ آئے اس کی دوستی کا اچار بنا ڈالیں..؟ ویسے دوست وہی ہوتا ہے جو مصیبت میں کام آئے.
میرا کہنا ہے کہ طالبعوں کو دوسروں کے ریسرچ پیپر اور ایسائمنٹ چوری نہیں کرنی چاھئے. ہمیں چاہئے کہ خود سے تحقیق کر لیں .
میرے دوست کا کہنا ہے کہ دوسری کا کام چرانا اور اپنا بنا کے پیش کرنا ایسا فن ہے جس کا مظ ہرہ ہر کوئی نہیں کرسکتا. ویسے اس جامعہ کے وی سی صاحب نے بھی ایسا کچھ کیا تھا تو اب دیکھو ہر جگہ اس کا نام لیا جا رہا ہے.
میرا کہنا ہے کہ اساتذہ سے سیٹنگ نہیں کرنی چاہئے. محبت لازمی شے ہے مگر کچھ مفادات کی خاطر اساتذہ کے اتنے قریب نہیں جانا چاہئے کہ جس کے بعد فیل ہونے والا طالبعلم ٹاپ کر جاتا ہے.
میرے دوست کا کہنا ہے کہ یہ کام انتہائی مشکل ہے. پورا سمسٹر ٹیچر کے……………. بس یہ کہ ہر کسی کی بس کی بات نہیں……………..
اب میں لاجواب ہوا تو اپنی باتوں کا رخ بدلنے لگا . پوچھنے لگا کہ چند ایک اساتذہ کا رویہ تلخ کیوں…………….؟ انہیں تو پیار محبت سے پڑھانا اور سمجھانا چاہئے.
میرے دوست کا کہنا ہے کہ کیسے پیار محبت سے پڑھائیں گے. ذرا سا نرم لہجے پہ بات کرنے لگ جاتے ہیں تو انہیں ڈرا دھمکانے کی کوشش کی جاتی ہے ، ان کی تعظیم کرنا چھوڑ دیتے ہیں وغیری وغیرہ دوسری جانب مہینوں کی تنخواہیں رکی ہوئی ہیں. سالوں سے کنٹرکٹ پہ چل رہے ہیں. جامعہ میں خالی آسامیوں کے موجود ہونے کے باوجود انہیں مستقل نہیں کیا جاتا.

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc