دیامر کا ایسا دور افتادہ گاوں جہاں بھیڑ،بکریاں، گائے اور بچے ایک ساتھ تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

چلاس( تحریر نیوز) تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن گلگت بلتستان میں محکمہ تعلیم شہری علاقوں کے کچھ اسکولوں کو رنگ روغن کرکے اور اساتذہ کو وردی پہنا کر تعلیمی انقلاب برپا کرنے جھوٹے دعوے کر رہے ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں ذیادہ تر علاقے بالائی علاقہ جات پر مشتمل ہیں جہاں لوگ آج بھی تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ تانگیر میں ایک ایسے پرائمری اسکول کا انکشاف ہوا ہے جو صرف دو کمروں پر مشتمل بغیر کسی بانڈری وال کے بلکل عوامی گزرگاہ پربنی ہوئی ہوئی ہے۔ اسکول میں کمرے نہ ہونے کی وجہ سے بچے گزرہ گاہ کے سامنے بغیر کسی سائیبان اور کرسی کے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جہاں سے عوام سمیت گاوں کے مال مویشاں مسلسل گزررہے ہوتے ہیں۔ لیکن آج تک کسی نے اس اہم ایشو پر توجہ دینے کی کوشش نہیں کی۔
حکومت کو سوچنے کی ضرورت ہے ایسے معاشرے میں جہاں لوگوں کو بنیادی تعلیم کی سہولت میسر نہ ہو وہاں کے بچے بڑے ہو کر اگر کسی دہشت گرد تنظیم کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں تو غلطی والدین کی نہیں بلکہ حاکم وقت کی ہے جنہوں نے اس طرف توجہ نہیں دیا، محکمہ تعلیم کو چاہئے کہ اس اسکول اور اسی اسطرح کے دیگر اسکولوں کی بحالی کیلئے فوری اقدامات کریں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc