پروفیسر حشمت کمال الہامی..

مجھے آج بھی یادہے وہ دسمبر کا مہینہ تھا،اسکردو میں خون جما دینے والی سردی تھی۔ بوائز ڈگری کالج سکردو میں پروفیسر حشمت کمال الہامی ہماری اُردو کی کلاس لینے کے بعد باہر صحن میں تشریف فر ماتھے،اتفاقا وہاں سے میرا بھی گزر ہوا،پروفیسر حشمت کمال الہامی نے مجھے مخاطب کیا،بیٹا دیکھو وہاں کتنا خوبصورت پھول کھلا ہے،سفیدرنگ کا وہ پھول دسمبر کی اس کڑاکی کی سردی میں کھلتا دیکھ کر میں ششدرہ گیا،پھر ہمار ے عظیم استاد کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے ادب سے فرمایا،سریہاں سے طالبعلموں سمیت اساتذہ کی ایک بڑی کھیپ کا گزرہوتا ہے لیکن اس پھول پر کسی کی نظر نہ پڑی سوائے آپ کے تو فرمانے لگے،بیٹا شاعر اورادیب قدرت کی انہیں غیر معمولی نشانیوں پر نظر رکھا کرتے ہیں،قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اس میں کھو کر شعر کہہ ڈالتے ہیں۔پروفیسر حشمت کمال الہامی واقعی میں کمال تھے،ہمیں دو سال تک آپ کی شاگردی اور رفاقت کا شرف حاصل رہا ہے،آپ نہ صرف ایک پروفیسر بلکہ ایک عظیم شاعر اور ایک عظیم رہنما بھی تھے۔طالبعلموں کے ساتھ آپ کا رویہ دوستانہ ہوتا تھا،بے تکلفی اس قدر تھی کہ کلاس میں کبھی معلوم نہیں ہونے دیا کہ استاد ہیں یا کوئی ہم جماعت طالب علم۔فرائض کی آدائیگی کے معاملے میں آپ نہایت ہی سخت تھے،وقت کی پابندی آپ میں رچی بسی تھی۔کلاس کے شروع ہونے سے پانچ سے دس منٹ پہلے آپ کلاس کے دروازے کے آس پاس ٹہلتے دیکھائی دیتے تھے،جوں ہی کمرہ کلاس سے درس دینے والے استاد نکل جاتے آپ فورا کلاس میں داخل ہوجاتے،بوائز ڈگری کالج سکردو میں گزرے دو سال کے دوران کبھی آپ کو کلاس میں تاخیر سے آتے نہیں دیکھا۔آپ کی کلاس نہ صرف اُردو کی حد تک محدود ہوجایا کرتی تھی بلکہ طلباء کو جدت اور حالات حاضرہ کے مطابق اُردو شعرا ء کے کلام کی تشریح اور وضاحت کیا کرتے تھے۔اگر چہ آپ عارضہ قلب کے میں مبتلا تھے۔آپ کو ڈاکٹرز کی طرف سے سختی سے منع کیا گیا تھا کہ آپ کھڑے ہوکے نہ بیٹھیں،زیادہ نہ بولا کریں اور زیادہ سے زیادہ آرام کی ہدایت کی گئی تھی،مگرآپ تھے کہ جنون کی حد تک اپنے فرائض سے وابستگی تھی،طلباء سے محبت تھی،کالج سے محبت،اپنے مستقبل کے ہونہاروں کی پرواہ تھی،خرابی صحت کے باوجود بلا ناغہ کالج آیا کرتے تھے اور فیض علم سے طلباء کو مستفید کرتے تھے،راقم کیسے فراموش کرسکتا ہے آپ کی اُن خدمات کو جو آپ نے قوم کے لیے دی ہیں،یہی آپ کی رہنمائی اور شفقت کا نتیجہ ہے کہ دوسا ل ڈگری کالج اسکردو میں آپ کی شاگردی کے بعد ہم بولنے،لکھنے،اظہار خیال کرنے اور اپنے آپ کو منوانے کے قابل بنے۔بہت سے تعلیمی اداروں سے وابستہ رہے،بہت سے اساتذہ ہمارے گزرے لیکن آپ کا شمار ان اساتذہ میں سے ہے جنہوں نے ہمیں جہد مسلسل کی سمت گامزن کیا،سکوت ِبحر کو اضطراب میں تبدیل کردیا۔یہی وہ اضطراب تھا آپ کے اندر کہ آپ نے خراب صحت کی کبھی پرواہ نہیں کی۔آپ کے طالبعلم یہ کیسے فراموش کریں کہ آپ کلاس میں لیکچر کے دوران کئی مرتبہ چکر اکر گرنے لگے اورآپ کو سہارا دے کر ہم کرسی پر بیٹھایا کرتے تھے،دو منٹ کے بعد آپ اپنے جیکٹ کی جیب سے ٹیبلیٹ نکال کر لیا کرتے تھے اور پھر اپنا لیکچر جاری رکھتے تھے،شدید اسرار کے باوجود آپ نے کرسی پر بیٹھ کر درس دینے کو گوارا نہیں کیا،آپ یہی فرمایا کرتے تھے کہ بیٹا یہ کرسی میرے لیے نہیں ہے،ہمارا کام یہاں کرسی پر بیٹھنے کا نہیں بلکہ درس دینے کا ہے،کالج آتے ہوئے کئی مرتبہ آپ راستے میں عارضہ قلب کی وجہ سے گر گئے،لیکن اس تما م تر صورت حال کے باوجود آپ کو اپنے شعبے سے، علم سے،ہمارے مستقبل سے جو لگاؤ تھا اس کے سامنے آپ کو تمام مشکلات نیچ نظر آتی تھی۔کلاس کی صفائی کے خیال سے لے کر کالج کے صحن اور باغ کے ہر کونے کونے پر آپ کی کڑی نظر ہواکرتی تھی۔کالج کے اوقات کار کے اعلاوہ بھی آپ طالب علموں کے لیے ہمیشہ میسر ہوتے تھے۔طالبعلموں کو ہوٹل میں بیٹھاتے اپنے پیسوں سے چائے پلاتے اور ان کے تعلیمی مسائل حل کرتے نظر آتے تھے۔راقم کا شمار آپ کے ان چند طالبعلموں میں ہوتا تھا جن سے آپ کو لگاؤ تھا،اسکردو کے سٹی ان ہوٹل میں کئی گھنٹوں کی نششت کو فراموش کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔آپ ادب گلگت بلتستان کے ایک چمکتے ستارے تھے اورآج بھی ہیں۔آج آپ ہم میں نہیں ہیں لیکن آپ کی شاعری،آپ فکر،آپ کی دانش آپ کے ہزاروں طالبعلموں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔آپ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ فخر پاکستان بھی تھے،آپ نے پاکستان کی عالمی سطح پر چند مشاعروں میں نمائندگی بھی کی،لیکن وہی بات پاکستان میں وہی ادیب ہوتا ہے۔جس کے تعلقات وسیع ہوں،اس لیے گلگت بلتستان کے ادیبوں کو زیادہ پذیرائی نہیں ملتی۔آپ کی علمی و ادبی خدمات کے پیش نظر آپ کی سوانح حیات آپ کی زندگی میں ہی منظر عام پر لائی جاچکی تھی، حلقہ د ب احباب بلتستان کی طرف سے۔آپ گلگت بلتستان کے حالات میں تغیر دیکھنے کے خواں تھے۔آپ نے بلتستان یونیورسٹی کو کھر پوچو کے وسیع ٹاپ پر بنانے کی تجویز دی تھی اور کہا کرتے تھے اگر یہاں یونیورسٹی کی تعمیر کی گئی تو یہ دنیا کی بلند ترین مقام پر پہلی یونیورسٹی ہوگی جو کہ اپنے معیار اور جغرافیائی حالات کے باعث بھی خوب جانی جائے گی۔آ پ کی خدمات کو ایک ہی تحریر میں سمونا ناممکن ہے،آپ کی وفات سے سرزمین گلگت بلتستان میں ایک خلاء پیدا ہوا ہے،آپ کے ہزاروں طالبعلم ایک شفیق دوست،ایک عظیم استاد،ایک نڈر رہنما سے محروم ہوئے،آپ گوہر نایاب تھے،اور پہاڑی سلسلوں کے بیچوں بیچ وہ گوہر نایاب تھے جس کو ہم نے کھو دیا۔
پہاڑی سلسلے چاروں طرف اور بھیج میں ہم ہیں
مثال گوہر نایاب ہم پتھر میں رہتے ہیں
حکومت پاکستان اور خاص کر حکومت گلگت بلتستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ کی علمی اور ادبی خدمات کے پیش نظر آپ کو تمغہ امیتاز سے نوازا جائے۔خدا آپ کو جنت میں کروٹ کروٹ سکون اور چین عطا کرے اور درجات بلند فرمائے آمین۔
تحریر عبدالحسین آزاد

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc