خوف کی پرچھائیاں گلگت بلتستان پر ۔۔۔۔۔۔

#بھارتی”را”سوشل میڈیا کےراستے پاکستان پرحملہ آور ہے!کروڑوں ڈالرز کابجٹ افواج پاکستان کاامیج بگاڑنےکی سازش!
نفرت آمیز مواد جھوٹی خبریں اور ہمارےلوگوں کااستعمال!ٹوئٹر فیس بک واٹس ایپ یوٹیوب اس دور کےہتھیار ہیں!
اس کوکہتےہیں5thجنریشن وار فیئر…جدید دور کی جنگ اس نہج پرہی لڑی جاتی #ہے
یہ سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے والا مسیج جو گزشتہ کئی برسوں سے تقریبا ہر گروپ میں چل رہی ہے اسکا مقصد عوام کو ایک ایسی حالت میں رکھنا جس سے عوام کی فکر سن رہے اور اسکو کہتے خوف پھلانا تاکہ کوئی شخص سوال ہی نہ کریں! اگر کوئی سوال کریں تو بھی کوئی یقین نہ کریں ۔۔اگر کوئی شخص زیادہ فدکنے کی کوشش کریں تو خوفزدہ میڈیا اور عدلیہ کے ذریعہ نواز شریف اور خواجہ آصف کی جیسی مثالی سزائیں دی جاتی ہے چاہیے وہ شخص کیسا پرسا کیوں نہ ہو کسی بھی صاحب حیثیت فرد کو پھنسانے کے لیے ہر کیٹیگری کی سزا بو پہلے سے تیار پڑا ہوا ہے۔۔۔۔۔کسی کو گستاخ بناکر۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تو ناموس بل اور سوشل میڈیا بل پتہ نہیں کیا کچھ بنائے گئے ہیں تاکہ مزید تنقید اور سوال کرنے والے کے منہ کو بند کیا جا سکے اگر سوال ہوگا تو جواب دینا ہوگا جوکی ایک طاقتور ترین کی توہین ہے اور نان پروفیشنل لوگوں کو جواب دینا توہین ہے اور مشکل بھی تو ایسے میں بہترین حل یہ کہ سوال کرنے والے کو غدار اور کافر قرار دو ۔۔۔چند سال پہلے پارلیمان میں خواجہ آصف نے تمام اداروں کی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ اور ایکسٹرنل اوڈیٹ کا زکر کیا تھا اور کوئی غداری یا جاسوسی نہیں تھی شفافیت اور جانچ پڑتال کارکردگی کو بہتر سور وسائل کا بہتر استعمال کو بڑھتا ہے جدید تحقیق کے مطابق یہ بہت ضروری بھی ہے لیکن پاکستان میں تو ہر ادارے کے پر کاٹ کر نمبر ون پوزیشن حاصل کرنے کا واحد راستہ پر گامزن لوگوں کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور نون لیگ ایک دفعہ پھر زیرے اتاب آگئ سب کے عدالتی نظام اور عمران خان کا سہارا لیا گیا اس ملک میں عوام کو لمبے عرصے سے ایک دوسرے سے ڈرایا ہوا ہے اور یہ خوف عام کیا ہے کہ کسی کو مذہبی جنونیوں سے خوف ہے اور جنونی کچھ بھی کریں جناب آزاد ہے اور کسی کو زبان کا تعصب کسی کو مہاجر بناکر تو کسی کو صوفی محمد اور سپاہ صحابہ پاکستان بناکر تو کہاں کمانڈرز بناکر الغرض جہاں بس چلتا وہاں خوف کا سماں پیدا کرنے کا ایک ہی مقصد ہے کہ مرضی کے فیصلے کریں مرضی کے حکمران کا انتخاب کریں ورنہ عملاً تو فیصلے وہی کرتے جو یہ سب کچھ کرتے ہیں اور سارے سیاستدانوں کو بھی اس بات کا پتہ ہے لیکن یہ جاہل گروہ بھی بس مادہ پرستی میں مبتلا ہوکر انہوں نے اپنی اور عوام کی ساخت کو بے اثر کیا ہوا ہے کھبی قاف لیگ تو کبھی انصاف کے دروازے پر جاکر ایسے میں اس ملک میں عوام کی تربیت بس سوال نہ کرنے والا طبقہ طوائف سے بدترین جو فارورڈنگ میسج کو فاروڈ کرکے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کی چکر ہے باقی عبادات اور عمال کی تو اہمیت ہی کیا اگر کوئی بندہ دن کے کچھ لمحات مسیجیز فاروڈ کرنے بیٹھ جائے تو سب راضی تو خدا راضی فلحال تو #سیپک اور کچھ اور پروجیکٹس ہیں جن کو دیکھا کر گلگت بلتستان والوں کو خوف میں مبتلا رکھ سکتے ہیں لیکن فرقہ وارنہ گیم لوگ سمجھ گئے ہیں کچھ دن پہلے گلگت سے ایم سنی بھائی بتا رہے تھے ایف سی والے سنی کو جب حالات خراب تھے تو دل کھول کر مدد کرتے تھے تو اسی پ
طرح کچھ لوگ شعیوں کو بھی کرتے ہونگے شیعہ بن کر ورنہ انکی مدد کے لیے علمائے کرام پنچاب سے 1995 سے آئے ہوئے ہیں ہر سال ایلکشن میں آکر یہاں کے لوگوں کی تقدیر بدل رہے ہیں علاقے میں جو دودھ کی ندیاں اور پانچویں صوبے کی جو رحمتیں نازل ہوئی یہ انہی شیعہ پنجابی علماء کی بدولت ہے اللہ تعالیٰ انکو بھی ہدایت دیے اور ایف سی والی کی طرح اپنے گاؤں تک محدودیت عطا فرمائے تاکہ گلگت بلتستان کے یہ کم عقل لوگ سمجھ سکے کی قوم مزہب سے نہیں مشترکہ مفادات کلچر اور تاریخ سے بنتی ہے میرا مزہب آج مسلمان ہوں کل کو اگر میں یہودی بھی ہوا تو کدھر کا !!!!!!! گلگت بلتستان کا پہلے یہودی بعد میں کہلاونگا تو یہودی والی مثال سمجھنے کے لیے دی ہے اسی پر کہیں فتویٰ جاری نہ ہو پاکستان سے محبت کا جو تعلق اسکو اسٹبلشمنٹ کے لوگ دلوں سے نکال رہے ہیں جہاں کے لوگوں کو تنگ کر کے تقسیم کرکے اور منفی کردار ادا کر وا کر تو را سے زیادہ طاقتور افراد آپکی اسٹبلشمنٹ کے اندر ہیں جو گلگت بلتستان کے لوگوں کو بلوچستان کی طرح پہاڈوں میں بھیجنے کے لیے بے چینی سے کام اور انتظار کر رہے ہیں ابھی تک ففتھ جنریشن وار کی مارکیٹنگ میں لگے ہو جناب آپ کے بندوں نے تو سیونتھ جنریشن وار شروع کیا ہوا ہے اگر یقین نہیں تو کسی بھی گلگت بلتستان والے سے ایجینسی والا بند کر نہیں گلگت بلتستان والا بند کر پوچھو تاکہ سچائی کا اندازہ ہو اب جو لوگ نعرے بازی کرتے وہ کھانے پر بیٹھ کر آپس میں گالیاں دے رہے ہیں جنوں کشمیر میں یہی دور پہلے چلا تھا کہ لوگوں میں مایوسی اور بددلی کے بعد مقابلے کا دور گلی کوچوں تک پہنچ گیا تھا اس میں پاکستان کا بھی کردار تھا اور گلگت بلتستان کی موجودہ حالات میں پاکستان نہیں پاکستان کے لیے کام کرنے والے ناسمجھ یا گلگت بلتستان دشمنی والے لوگ پاکستانی محبت کو یہاں کے عوام خصوصاً نوجوانوں کے دل سے نکالنے میں کامیاب جارہا ہے میرا مطلب خوف کو کم کرنا اور بند آنکھوں کو کھولنا ہے آپ اسکو ففتھ گفتھ یا شففھ جنریشن گیپ یا وار میں ڈال کر دیکھو سچائی یہی ہے لوگ بدل چکے ہیں صرف خوف اور کچھ مفادات کے لیے آپ کے ساتھ ہی۔ انکو اچھی افر چاہیے آپکی ففتھ اور سکیتھ کی سے زیادہ وہ ڈالر کی گنتی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ احسان محمود خان نے بہت سی چیزوں میں کمی اور بہتری لانے کی کوشش کی اور کامیاب بھی ہوئے تھے اب دیکھتے ہیں کی اگلے جناب سفیر امن بنتے ہیں یا #آری میی بن کر رہتے ہیں انکا زکر اس لیے ضروری تھا جو کچھ ہوتا ہے انکی منظوری سے ہوتا ہے باقی سب مہرے ہیں جو استعمال ہوتے ہیں اصل بندے کو میسج دینا بھی کارخیر اور مخلیصی ہے اسکو مفلیصی نہ سمجھا جائے ۔
خدا سب کا حامی و ناصر ہو آمین

تحریر: علی شفا

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc