شندور تنازعہ کیس اور متنازعہ علاقے کے حقوق کے حوالے سے سابق ایم ایل اے سرفراز شاہ ، سنان احمد ایڈوکیٹ کا پریس کانفرنس

گلگت(سعادت علی ٹی این این) گلگت بلتستان کے حدود کی تحفظ اور مظبوطی چاہتے ہیں زرا برابر حصہ بھی شندور میں چترال کا نہیں ہے انکے پاس قانونی دستاویزات اور ثبوت کچھ بھی نہیں ہے گلگت بلتستان کی انتظامیہ تنخواہ و مراعات یہاں سے لیتے اور ناچتے چترال انتظامیہ کی اشاروں پر راجہ گوہر آمان کے زندگی میں کسی کے باب کا مجال نہیں ہوا کہ گلگت بلتستان کے طرف قبضہ کی غرض سے ملی آنکھ اٹھاکر دیکھیں متنازعہ خطہ کو جو حقوق دیتے وہ ہمیں کیوں نہیں دیا گیا ابھی تک وفاق نے گلگت بلتستان کو گلے سے نہیں لگایا پاکستان کے اعلی ایوانوں میں ہمارے نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے ہم آواز نہیں اٹھاسکتے وفاق سے مطالبہ ہے ہمارے خلاف اعلی ایوانوں میں اٹھنے والے آواز کی ساتھ دینے کے بجائے زمینی حقائق کو دیکھا جائے پاکستان ہماری وفاداری اور قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھ لیں ایسی کمیشن یا مفاہمتی اجلاس کو قبول نہیں جس میں گلگت بلتستان کے عوام کا منتخب نمائندے موجود نہیں ہوگا انتظامہ کو پلے بارگین کرنا ہرگز نہیں دینگے سپریم اپیلٹ کورٹ میں شندور تنازعہ کیس 2011 سے سرد خانہ میں پڑا ہےسابق ایم ایل اے سرفراز شاہ ، سنان احمد ایڈوکیٹ اور دیگر عمائدین غزر نے گلگت پر یس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چترال انتظامیہ اور کوہستان والے شندور اور دیامر میں گلگت بلتستان کی زمین پر ناجائز قبضہ کر رہے ہیں۔شندور باؤنڈری اشو پر سپریم اپلیٹ کورٹ میں کیس چل رہا ہے۔نامعلوم اور پراسرارکمیشن کی رپورٹ کے آنے پر جون 2011 سے کیس پنڈنگ چلا آرہا ہے۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ آنے تک چترال کی جانب سے ترقیاتی کاموں پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔ چترال پولو فیسٹول میں کمیشن رپورٹ آنے یا فیصلہ ہونے تک حصہ لے سکتا ہے۔ مقامی انتظامیہ کو عدالت کی جانب سے جاری حکم امتناعی کے تحت خلاف ورزی پر رپورٹنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ زمانہ قدیم سے غوچھار اور پنجہ لشٹ حد بندی تک ترقیاتی کام گلگت اور غذر سے ہوتا رہا ہے۔ انھوں نے کہا گلگت شندور ٹرک میٹل روڈ کی تعمیر کیلئے وفاقی فنڈ مشرف دور میں گلگت بلتستان کو ملا تھا۔ بحیثیت ایم ایل اے 2004 میں گلگت شندور ٹاپ تک روڈ مکمل کروایا۔ شندور ٹاپ پر عارضی چرواہوں کو صرف گھاس چرائی کی اجازت تھی۔ ریکارڈ میں شندور کی ملکیت موجود نہیں ہے۔ وفاقی حکومت نے ہندرپ اور شندور کو پروٹیکٹیو نیشنل پارک بنانے کی منظورہ دی ہے۔ شندور فیسٹول پولو کے بجائے شندور نیشنل پارک کی اشد ضرورت ہے شندور ٹاپ سے پولو فیسٹول کو ختم کیا جائے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے قدرتی ماحول پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔چترال سکاؤٹس سمیت دیگر غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افراد سے شندور کو خالی کرایا جائے۔ شندور واٹرشیٹ سیکورٹی پوائنٹ غوچھار میں گلگت بلتستان سکاؤٹس تعینات کی جائے۔ دوسری طرف کوہستان والے دیامر میں کئی کلومیٹر تک گلگت بلتستان کی زمین پر قبضہ کرچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری خیبر پختونخواں کے فیصلے قابل قبول نہیں ہیں۔ حدود تنازعہ میں اگر زیادتی جاری رہی تو انصاف کے لئے ثبوتوں کے ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان جائیں گے۔ ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کی جائے۔
ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم اپنی حب الوطنی کے تحت خاموش ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے مطالبہ ہے کہ شندور اور دیامر کے حوالے سے ہونے والے زیادتیوں اور خلاف ورزیوں کو ختم کیا جائے۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc