صدر پاکستان کے نام گلگت بلتستان کے سوشل ایکٹوسٹ پروفیسر علی شفا کا خط

قابل احترام محترم صدر پاکستان کے نام گلگت بلتستان کے ایک شہری کا خط

فرقہ واریت پھلانے میں آپ کامیاب ہوگئے ہمارے صدیوں پر محیط رشتوں کو تار تار کیا واقعی میں آپ کامیاب منصوبہ ساز تھے ہمارے لوگوں کے اندر قومی شعور آنے نہیں دیا واقعی میں آپ اسٹراٹیجک ایشوز کے ماہر تھے آپ نے ہمیں معاشی ترقی سے دور رکھا واقعی میں آپ اقتصادیات کے ماہر تھے ہمیں مزہب میں گھوسا کر دماغ بھوسہ کر دیا آپ واقعی میں بہت چال باز تھے آپ نے ہمارے مولوی صاحبان کو مطالعہ پاکستان اور دو قومی نظریہ کی تعلیم دے کر دیں سے دور فسادات کے ماہر بنایا یہ بھی آپکی کونٹر وار تھے ہمیں سوال کرنے سے خوب ڈرایا بار بار بتایا جو مملکت خداداد سے سوال کرے گا وہ غدار ہمسایہ ملک کے ایجنٹ ہوگا تو اسکو بھی مجاہد ملا جو کم سمجھتے اور مالی وسائل کے لیے محبت رکھتے تھے انکا خوب استعمال کیا اب ہمارے علاقے میں ہم پر اعتبار نہیں رہا کیونکہ ہماری تاریخ آپ نے پڑی تھی گنسارا سنگھ کو ہمارے آباؤ و اجداد نے گرفتار کیا تھا وہ سالا میجیر بروان نے اس قوم کی جرات کو ویسے ہی لکھا جیسے یہ ہیں ۔۔اب اعتبار نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے اوپر پاکستان کے دوسرے حصوں کی آفسر شاہی مسلط کیا گیا ہے سولین پر اعتبار کم کرکے فوجی ایڈمنسٹریٹرز کو تمام گلگت بلتستان میں پھیلایا ہوا ہے تاکہ مزید مقامی لوگ مشرقی ہمسایہ کی محبت میں گرفتار نہ ہو جائیں جس کا گلگت بلتستان میں موجود ایجینسیوں کی مدد سے پتہ چلایا گیا ہے کہ پہلے تو ایک حمید خان تھا جو بیس سالوں سے چیک کرتا تھا اب وہ بھی واپس آگئے تو مقامی افراد کی سخت نگرانی کی جاتی ہے کیونکہ کلبوشن گلگت بلتستان میں پکڑا گیا تھا جندال یہاں کے سابق سربراہ صوبہ کی خوبانی کی فیکٹری سے پکڑا گیا تھا الغرض گلگت بلتستان والے وہ نہیں رہے جو ستر سال پہلے تھے اس وقت حولدار کو سیلوٹ مارے تھے اب جنرل سے سوال کرتے ہیں اور سیاسی ہی صحیح پر تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم پاکستان کو گلگت میں جوتوں سے استقبال کیا گیا اور لوگوں کو اب پتہ چلا فرقہ پرستی سے تقسیم سے قتل وخون خرابے سے کس کو فایدہ ہورہا تھا تو وہ ماحول نہیں رہا نہ وہ پہلی سے محبت اب بھی اگر ہوش کے ناخن نہ لیے اور ہٹ دھرمی جاری رکھا تو بس ریٹائرمنٹ چند فوجوں کے ساتھ پاکستان کی آفسر شاہی ہوگی چودہ اگست کے پروگرام آپ دیکھیں جب ہم بچے تھے تو جھنڈے کے پیسے خود جمع کرتے تھے اب جھنڈے کے ساتھ جوس دے کر بھی پروگرام میں آنے والا بندہ نہیں ملتا تو بیچارے سرکاری ملازمین کو دھمکی والی چیٹی لکھ کر پروگرام میں لاتے ہوے اگلے ایک ماہ تک وہ کام پر نہیں آتے ہیں ۔۔۔
یہ سب کچھ گلگت بلتستان والوں نے نہیں آپ کی پاکستان سے آئی ہوئی لاتعداد ایجینسیوں کے اہلکار، جو انڈیا کے خلاف کم ہمارے خلاف زیادہ منصوبہ بندی کرتے ہیں آپ کے پاکستان سے آئے ہوئے جونیر افسران ہمیں آنکھیں دیکھتے ہیں اور کالے قانون دیکھا کر ڈراتے ہیں جب نہیں مانتے ہیں تو #باباجان اور #افتخار کربلائی کی طرح جیل میں ڈالتے ہیں اور تو اور ہمارا یہاں کے سوال کرنے والے کو فون کر کے ڈرایا جاتا ہے مقبوضہ کشمیر کی طرح گولی بھی مار جاسکتی ہے یہاں غائب بھی ہوسکتے ہیں اسٹیٹ سبجیکٹ رول کو آپ کے پاکستان سے آئے ہوئے آفسران نے بدنیتی سے 1970 میں ختم کیا بیچارہ مودی نے تو جنرل امجد شعیب کی کتاب پڑھ کر 2019 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں ہندو انتہا پسند تنظیم کو خوش کرنے کے کیا لیکن بھارت کی عوام آج بھی اس عمل کے خلاف کشمیریوں کے ساتھ ہیں جناب صدر آپ کے لوگ تو ہمیں سوال کرنے پر غدار اور کافر سمجھتےجھتے ہیں اور گلگت بلتستان کی سرحد سے آپکی ملاقات ہونے والے چین کو آپ لوگ بھائی اور ہم پر شک کرتے ہو تو کیا ہم سوال کرنا چھوڑ دیں آپکی شاعری اور ترانوں کو سن کر دھمال ڈالتے رہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔

صدر پاکستان کے نام خط
علی شفا گلگت بلتستان۔

About TNN-ISB

One comment

  1. بات تلخ حقیقت ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc