سندوس کی زمین اداروں کے نشانے پر ہے ایک ایک انچ زمین کا دفاع کرینگے اغا علی رضوی

سکردو(پ ر) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سندوس کی زمین ایک طرف دریائی کٹاو کی زد پہ ہے تو دوسری طرف اداروں کے نشانے پر ہے۔ سندوس کے عوام نے ایلیمنڑی کالج کے لیے زمین مفت عطیہ کرکے پورے خطے اور ریاست پر احسان کیا تھا اور اس احسان کا بدلہ بقیہ زمینوں کو چھین کر دے رہا ہے۔ سرکاری افسران ماضی میں سکردو کی زمینوں کو الاٹمنٹ کے نام پر قربانی کے گوشت کی طرح بانٹتے رہے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مختلف ادارے بھی ایسے عوام دشمن فیصلوں کی پشت پناہی میں مصروف رہے۔ سکردو کی زمینیں خالصہ سکھ کی نہیں بلکہ یہاں کے عوام کی ہے۔ ہم ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے فیصلوں سے اجتناب کریں جو خطہ دشمن اور عوام دشمن ہو۔ جہاں جہاں ریاست کو ضرورت پڑی ہے یہاں کے عوام نے جان و مال اور زمینیں قربان کیں ہیں لیکن خالصہ سرکار کے نام پر عوامی اراضی کی بندر بانٹ افسوسناک ہے۔ ایک طرف کشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کے خاتمے پر واویلا مچایا جا رہا ہے تو دوسری طرف یہی کچھ گلگت بلتستان میں ہو رہا ہے۔ یہ دوغلی پالیسی اب ختم ہوجانا چاہیے۔ ہم صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان، چیف آف ارمی سٹاف اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خالصہ سرکار کے نام پر یہاں کی زمینوں کو خالصہ سکھ کی قرار دیکر عوام سے چھین کر من پسندوں میں تقسیم کرنے کی ریت ختم کرے اور تسلیم کرے کہ اس خطے کو یہاں کے عوام نے اپنے زور بازو سے آزاد کرایا اور یہاں کی اراضی یہاں کے عوام کی ہے اور خالصہ سرکار سے یہاں کی زمینوں کا تعلق ظاہر کرنے والا جنگ آزادی کو تسلیم نہ کرنے والے ہیں۔ہم کشمیر پر جاری مظالم کی مخالف کرتے ہیں اور کشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ سمیت سٹیٹس کا خاتمہ ہندوستان کے مکروہ اور عوام دشمن خونی چہرہ کا آئینہ دار ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام بھی کشمیری مظلوم عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc