آہ استاد مربی ڈاکٹر مقدسی

استاد کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو
استاد تو ہر دور میں انمول رہا ہے

استاد محترم مہدی علی مقدسی انتہائی شفیق اور مہربان استاد تھے۔ آپ کا تعلق تھورگو بالا سے ہے اور اپ کا شمار بلتستان کے ان علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر دین کےلیے وقف کیا ہو۔ آپ نے قم المقدس سے فقہ میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد حالیہ دنوں جامعة المصطفی العالمیہ کراچی کیمپیس میں تدریسی فرائض سرانجام دے رہے تھے جبکہ ان کی فیملی اب بھی قم میں ہی مقیم ہے۔ ملک میں کورونا وائریس کی پھیلاو اور حالیہ لاک ڈاون کے باعث باڈر بند ہونے کی وجہ سے آپ دوبارہ ایران نہ پہنچ سکے تو چھٹیاں گزارنے کی قصد سے اپنے آبائی گاوں کی طرف رخت سفر باندھ لیا۔ وہاں پہنچ کر آپ کی تبعیت ناساز ہوگئی اور آپ اپنے رشتہ داروں کی مدد سے سکردو کے سرکاری ہسپتال میں داخل ہوگیا۔ مذکورہ ہسپتال میں چونکہ سہولیات کا فقدان ہے اس لیے آپ کو عبداللہ ہسپتال منتقل کیا گیا اسی دوران آپ کی تبعیت زیادہ بگڑ گئی اطلاعات کے مطابق آپ کو بھی ظالم کورونا نے اپنی لیپیٹ میں لیا تھا جس کی وجہ سے آپ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ یوں بلتی قوم ایک نہایت متدین، عالم با عمل، پیکر اخلاص و اخلاق ہستی سے اور میں اپنے بہت ہی شفیق اور مہربان استاد و روحانی باپ سے محروم ہو گیا۔ آپ کی داغ مفارقت میرے لیے اس قدر سنگین تھا کہ کئی دنوں تک گھر کے کسی کونے میں جاکر آنسو بہانا معمول بن گیا تھا۔ چونکہ آپ نہ فقد ایک استاد تھے بلکہ ایک اچھا دوست، مشیر، مبلغ، محقق اور اخلاص و اخلاق کا مثالی نمونہ تھے۔ آپ انتہائی منکسر المزاج، فرض شناس اور ذہد و تقوی کا پیکر اور عاشق اہلبیت تھے۔ آپ کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ پی ایچ کے حامل ہونے کے باوجود کبھی بغیر مطالعہ کے کلاس میں نہیں آتے تھے اور طلاب کے سوالوں کا ایسے انداز میں جواب دیتے تھے کہ کسی قسم کہ شک و شبہ کی گنجائش نہ رہتی۔ آپ کا شوق مطالعہ بھی قابل رشک تھا ہر وقت ان کے ہاتھ میں کتاب ہوتی تھی۔ کسی بھی موضوع پہ گفتگو کا موقع ملے آپ مطمئن بخش اور تفصیلی گفتگو کرتے تھے۔ آپ ایک بہترین محقق بھی تھے اور ہمیشہ نئی تحقیق کے جستجو میں رہتے تھے۔ آپ ایک استاد ہونے کے ناطے طلاب کو ایسے انداز میں درس دیتے تھے جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو نوالہ چبا کے دیتی ہے تاکہ بچے کو نگلنے میں آسانی ہوجائے۔ استاد مقدسی کے ساتھ گزرے لمحات زندگی کے قیمتی لمحات میں شمار ہوتے ہیں۔ ایسا شفیق اور مہربان استاد جس کی زبان میں میٹھاس گفتگو میں پیار اور غصے میں الفت شامل ہو ایسی اساتید کی راہنمائی خوش نصیبی کے سوا کیا ہوسکتی ہے۔ اگر اج میرے پاس کچھ ہے تو انہیں اساتیذ کی مرہون منت ہے۔ مجھے ہاتھ میں قلم پکڑنے کا سلیقہ انہیں اساتیذ نے سکھایا۔ میرے پاس الفاظ نہیں میں اپنے استاد کی کاوشوں کو کس طرح بیان کروں۔ ڈاکٹر مقدسی کے بارے میں لکھنے کےلیے شائد ایک کتاب بھی کم پڑجائے ایک کالم کے زریعے ان کی خدمات کا ذکر کرنا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہوگا۔ آپ سے پہلی ملاقات میں ہی دل فریفتہ ہوگیا تھا۔ ان کے انداز گفتگو سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ آپ کو طلاب سے بیحد محبت ہے۔ آپ واقعا مقدس شخصیت کے مالک تھے جب بھی ان کے کمرے کے سامنے سے گزرنے کا اتفاق ہوا انہیں رکوع و سجود کی حالت میں ہی پایا۔ آپ انتہائی عبادت گزار، شب زندہ دار اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار تھے۔ ان کے ساتھ زندگی کے کئی اہم موڑ گزرے اور آپ نے ہمیں اپنی مفید مشوروں سے نوازا۔ پچھلے سال جامعتہ المصطفی کے طلاب تفریحی دورے پر گلگت بلتستان کی طرف نکلے تو آپ بھی اس کاروان میں شامل تھے اور آپ نے طلاب کو اپنے آبائی گاوں تھورگو کا دورہ بھی کروایا اور اپنے گھر پہ دعوت کرکے پرلطف دسترخوان کا انتظام کیا جہاں آپ نے طلاب کی خاطر خواہ میزبانی کی۔ تمام طلاب آپ کی تواضع اور اخلاق سے کافی متاثر ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے آپ کے انتقال کا سن کر آپ کے شاگردوں میں عجیب بے چینی پھیل گئی۔ سب کی آنکھیں بےساختہ آنسو بہانے لگی۔ مختلف ممالک اور شہروں میں آپ کے شاگردوں کی جانب سے آپ کی ایثال ثواب کےلیے قرآن خوانی و مجلس ترحیم کا اہتمام کیا گیا۔ مرحوم اپنے خانوادے میں بیوہ سمیت دو بیٹیاں اور تین بیٹوں کے ساتھ سینکڑوں شاگردوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔ اللہ غریق رحمت کرے۔
خدا کی تجھ پہ رحمت ہو محمد کی شفاعت ہو
سدا میری دعا یہ ہے تجھے جنت کی راحت ہو
خدا حافظ اے میرے شفیق و مہربان استاد۔ آج آپ کی چالیس واں بھی گزرگئی مگر آپ کی یاد مجھے ہر روز ستارہی ہے
تاحشر تیری دید کو ترسےگی نگاہیں
یوں تیرے بچھڑجانے کا امکان تو نہیں تھا

از قلم: ایس ایم موسوی

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc