سانحہ رونئی ۔اور ایس پی شیرخان

جہاں ہم پولیس اور دیگر اداروں پر کھل کر تنقید کرتے ہیں وہیں ان اداروں میں عوام دوست پالیسی کو اپنانے والے بہادر ، فرض شناس اور قابل افسران کو بھی کھل کر سراہنا چاہئے تاکہ جہاں ایک طرف ان کی حوصلہ افزائی ہو وہیں دوسری طرف دیگر ارباب اختیار کی توجہ بھی مبذول ہو کہ حقیقی عوامی خدمت کیسے کی جا سکتی ہے۔ دیکھا جائے تو ایس ایس پی دیامر شیرخان نے جہاں دیامر پولیس فورس کی پروفیشنل صلاحیتوں میں اضافہ اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے تاریخ ساز اقدامات کیے ہیں وہیں انہوں نے ماضی میں محکمہ پولیس میں بے پناہ کارنامے بھی سر انجام دیئے ہیں۔جو ایک دلیر،زہین ،معاملہ فہم،دوراندیش اور سحر انگیزشخصیت کے مالک انسان ہیں۔بلا شبہ جہا ں ان کے لبو ں پر سجی دائمی مسکراہٹ اور سادگی اور علاقائی رسم و رواج کے مطابق گھل مل کر پولیس اور شہر یو ں کے دل جیت لیے ہیں۔وہیں ان کے انصاف اور اعلی معیار پولسینگ کی بدولت ،چورو ں ،اچکو ں،بد معا شو ں اور سود خوروںپر ہیبت بھی طاری ہے ۔ایک پیشہ وارانہ اور محکمہ سے متعلق جدید مہارتوں کے حامل پولیس آفیسر تصور کیے جاتے ہیں۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بہتر اور موثر طریقے سے چلانے کیلئے جدت پسند خیال کئے جاتے ہیں۔مختلف اضلاع میں دوران تعیناتی آپریشنل سروس کو کھڑا کرنے اور انکو موثر طریقے سے آپریشنل کرنے کا سہرہ انہیں کے سر ہےیہی وجہ ہیکہ سابق صدر ممنون حسین نے تمغہ شجاعت کے اعزاز سے بھی نوازا ہے ۔
۔یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ پولیس میں بعض ایسے آفیسران اورسپاہی ضرور ہیں جو محکمے کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں لیکن اس محکمے میں ایسے آفیسرز اور اہلکار بھی موجود ہیں جو بدعنوانی کو اپنے لئے گالی سمجھتے ہیں۔
پولیس کا وجود آج بھی ایک عام شہری کیلئے طمانیت کا باعث ہوتا ہے۔ کسی ویران جگہ ۔کے کے ایچ۔رونئی۔فاروق آباد ۔ پر رات کو گزرتے ہوئے اگر نیلی بتی والی پولیس کی نیلی ڈاڈسن گشت کرتی گزرے تو دل میں فوراً سکون کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہی احساس تحفظ صرف دیامر میں نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان میں پولیس کے وجود کی بنیادہے ۔ عام آدمی کو اندازہ نہیں کہ پولیس کلچر میں کتنی تبدیلی آ چکی ہے۔
۔ افسوس منفی پہلو فوراً میڈیا اور سوشل میڈیا میں عام ہوجاتا ہے لیکن مثبت بات کو ’خبر‘ ہی نہیں سمجھا جاتا۔ لوگ سٹی تھانہ چلاس کے تھانیدار کو ہی پولیس سمجھتے ہیں اور اکثریت کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ صوبائی سطح پر اس ادارے میں مقامی و غیرمقامی انتہائی تربیت یافتہ اور کوالیفائیڈ آفیسرز بھی موجود ہیں۔ موجودہ انسپکٹر جنرل پولیس مجیب الرحمن ماڈرن پولیسنگ پر یقین رکھتے ہیں۔ جب سے انہوں نے جی بی میں زمہ داری سنھبالی ہے تب سے پولیس نظام میں بہتری کیلئے سائنسی خطوط پر اقدامات ۔اور علاقائی رسم و رواج کے مطابق عوامی ڈھیلنگ ۔تعلقات عامہ ۔اور عوام دوست پالیسی اپنانے والے پولیس آفیسرز تمغہ شجاعت شیرخان جیسے ایس ایس پیز کی بہترین حوصلہ افزائی بھی کی ہے ۔
اسی طرح گلگت کے دیگر اضلاع کے ساتھ ساتھ دیامر کے پولیس کو بھی مظبوط اور مربوط کر دیا گیا ہے اور خاص کر ایس پی دیامر شیرخان نے دیامر پولیس کو شہریوں کے ساتھ اچھے اخلاق اور برتاٶکا حکم بھی دیدیاہے ۔سسٹم میں شفافیت اور جدت کی وجہ سے جرائم کی رپورٹنگ اور اندراج میں بے تحاشہ کمی آچکی ہے ۔ ۔
بہت کم لوگ اس بات پر غور کرنے کی زحمت کرتے ہیں کہ پولیس کے وسائل کتنے ہیں اور اس سے توقعات کی فہرست کتنی طویل ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کی بڑھتی ہوئی آبادی سمیت مضافاتی ضلع دیامر کے کئے علاقے ۔داریل ۔تانگیر ۔تھور ۔ہڈر۔کھنر ۔تھک نیاٹ۔بٹوگاہ ۔گوہرآباد اور تھلیچی دریا کےکنارے تک امن و امان کی صورتحال کو دیامر پولیس ہی دیکھتی رہتی ہے ۔
اس وقت گلگت بلتستان کی پولیس میں ایک اہلکار تقریبا 563 شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھانے کے لئے دستیاب ہے۔ حالآنکہ یہ نفری معیاری پولیسنگ کے اعتبار سے بہت کم ہونے کے باوجود امن ا امان کی کی فضاء کو برقرار رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔
گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں دہشتگردی۔انتہاء پسندی کے واقعات گزشتہ عشرے سے وقفے وقفے سے جاری ہیں۔
گزشتہ دنوں پیش آنے والا رونئی سانحہ نے پولیس یا قانون نافذ کرنیوالے اداروںکیلئے چیلنجز کا پہاڑ کھڑا کرکے رکھدیا ہے ایک طرف سی ٹی ڈی اہلکاروں کی کاروائی جبکہ دوسری طرف پانچ پولیس اہلکار سمیت 7 بیگناہ انسانوں کی شہادت نے حالات کا پینترا مکمل تبدیل کرکے رکھدیا ہے ان 7 شہادتوں نے عوام علاقہ کے لئے کئے مشکوک سوالات چھوڑ گئے جسکا جواب نہ عوام کے پاس ہے اور نا ہی حکومت وقت کے پاس ۔
کہیں نہ کہیں تو بہت بڑی غلطی ہوچکی ہے جسکے وجہ سے اتنی قیمتی جانیں ضائع ہونے میں دیر نہیں لگی ۔۔
لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں کہ یہ واقعہ ذاتی دشمنی کے 2016 سے شروع ہونے والے سلسلے کے بدلے کی ایک مظبوط اور مربوط کڑی ہے۔اس واقعے کے رونماء ہونے کے بعد
حکومتی اندرونی حلقوں سمیت عوامی نجی محفلوں میں ہونے والی چیمہ گوئیاں اعلاج اعظم نامی بندے کو پانچ پولیس اہلکاروں کا قاتل ٹھہراتے ہیں جبکہ لواحقین و دیگر عوام علاقہ پولیس اہلکاروں کی اندرونی بغاوت سے تعبیر کرتے ہیں ۔۔
لیکن اس واقعے کااصل مجرم کون ہے ۔؟
دو مقامی شہریوں کو کس نے شہید کیا۔؟
اور پانچ سی ٹی ڈی پولیس اہلکاروں کو کس نے شہید کیا۔؟
آئندہ کچھ دنوں میں ڈی آئی جی اویس کے نگرانی میں تشکیل دی جانے والی 8 رکنی جے آئی ٹی ۔جو لیاقت ۔حنان ۔رٶف۔ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمائندوں پر مشتمل ہے اندرونی رپورٹ منظرعام پر لاتے ہوۓ نامعلوم سے معلوم کرنے میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑینگے۔۔۔
اس طویل جنگ میں عوام حساس اداروں کے ساتھ دینے کے علاوہ محکمہ پولیس دیامر کا سربراہ تمغہ شجاعت ایس پی دیامر شیرخان کی مکمل حمایت کرینگے ۔۔جو قانون نافذ کرنیوالے اور سیکیورٹی اداروں اور لواحقین اور عوام کے شانہ بشانہ ہمہ وقت کھڑا ہے۔۔
ایس پی دیامر شیرخان کو آئندہ دو سالوں تک دیامر میں خدمات کا موقع فراہم کرتے ہوۓ اعلی حکام انکی سرپرستی کرینگے تو کوئی بعید نہیں کہ جرائم میں نہ صرف کمی آئیگی بلکہ جرائم کی شرح زیرو فیصد میں آکر رکنے کے ساتھ ساتھ عوام کا پولیس پر کھویا ہوا اعتماد پھر سے مکمل طور پر بحال ہوگا جو مستقبل قریب میں خوشی کی نوید اور پرامن معاشرے کے قیام میں انقلاب کی دستک ہوگی ۔

تحریر.ضرب شمشیر علی ۔
ابوسنان ایم ڈی چلاسی۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc