استاد شاعر حشمت علی کمال الہامی

2020 کے مارچ اپریل میں سکردو کالج روڈ کے پنار ہوٹل میں جب ہم معمول کے مطابق ساتھ بیٹھے اور دودھ پتی چائے کا جیسے ہی آرڈر دیا تو استاد محترم پروفیسر حشمت علی کمال الہامی صاحب ذرا رازدرانہ انداز میں فرمانے لگے دانش! مجھ پر ایک تفصیلی کالم لکھیں جس میں میرے بارے میں جو کچھ آپ جانتے ہیں وہ سب تحریر میں آئے، ویسے اس شہر میں میرے بارے میں آپ سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ہے ۔ انسان کی زندگی کا کیا اعتبار اور میں ویسے بھی تین بیماریاں پال رہا ہوں
دنیائے حادثات کا کیا اعتبار ہے
انساں کی حیات کا کیا اعتبار ہے
میں نے کہا استاد محترم خدا آپ کو عمر خضر عطا کرے ایسی باتیں تو ناسمجھ لوگ کرتے ہیں ، آپ تو پورے ایک عہد کے استاد ہیں ، یہ باتیں آپ کے ایک طالب علم کے لئے ہر گز اچھی نہیں لگتیں ۔ میری ان باتوں سے استاد صاحب لمحہ بھر کو خاموش ہوگئے مگر سوائے لب کے چہرے کا پورا تیور بتا رہا تھا دانش تمہیں ہر حالت میں لکھنا ہوگا، مجھے لگتا ہے میں اگلے سال تک آپ کا ساتھ نہ دے سکوں ۔

استاد صاحب آپ پر ایک کالم کیا میں پوری کتاب لکھ سکتا ہوں میں نے جواب دیا۔ 32 برسوں سے ہم ساتھ ساتھ ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں برابر کے شریک رہے ہیں ۔استاد محترم سے میری پہلی ملاقات 1989 میں سیٹلائٹ ٹاؤن میں ہوئی تھی جہاں ہم دونوں کے سرکاری کوارٹر آمنے سامنے تھے۔ وہاں سے روزانہ بازار اور بازار سے واپس سیٹلائٹ ٹاؤن جانا ہمارے معمول میں شامل تھا , اس دور میں ابھی ہر کسی کے پاس گاڑی نہیں تھی بس چند سوزوکیاں چلتی تھیں۔ ایمرجنسی صورتحال میں ہم سوزوکی کی فرنٹ سیٹوں پر سوار ہوتے جبکہ عام حالت میں پیدل ہی جانا پسند کرتے اور سیٹلائٹ ٹاؤن سے علمدار چوک وہاں سے تاریخی گنگوپی نہر سے گزر کر بازار پہنچ جاتے ۔ان 32 سالوں میں بس میرا راولپنڈی اسلام آباد یا کراچی لاہور کی طرف جانا ملاقاتوں کی راہ میں حائل ہو جاتا ورنہ ہم ہوتے، ہماری چائے اور علم و ادب کی گفتگو۔ میں آپ کے ساتھ ہوں نہ ہوں آپ کی محفل بلا ناغہ جمتی اور کوئی نہ ہو تو خود اکیلے بھی پانچ پانچ گھنٹے مزے سے بیٹھ جاتے اور 5 غزلیں تخلیق کرکے اٹھتے ، مگر اکثر آپ کے حلقہ احباب کے لوگ ساتھ دیتے ۔ آپ کا حلقہ احباب نہایت وسیع تھا۔ استاد صاحب کے سامنے ہماری ذہانت و قابلیت کی حیثیت سمندر اور قطرے کی سی تھی مگر اگر تھوڑی بہت ، بہت بھی نہیں ، بس تھوڑی تھوڑی اگر آتی ہے تو وہ بھی استاد محترم کی صحبت کا نتیجہ ہے۔ جب بھی کسی لفظ یا جملے کے حوالے سے مشکل پیش آتی اور پوچھ لیتے تو اپنے گلاب جیسے کھلتے چہرے کو مزید کھلکھلا کے سمجھانے لگتے ۔ساتھ فرمانے لگتے دانش! اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں سوائے دو کاموں کے باقی کاموں میں اب تھکاوٹ محسوس کرتا ہوں ۔ ان دونوں کاموں میں ایک لیکچر دینا ہے ۔ میرے سامنے سینکڑوں طلبا ہوں اور میں اردو ادب پڑھاتا جاوں جو گھنٹوں گھنٹوں بھی ہو تو میری باقی تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے اور دوسرا کام میری زندگی کے تجربات کو نثر یا نظم میں قلمبند کرنا ہے ۔ میں ایک غزل لکھنے بیٹھ جاوں تو تمام ممکنہ قافیے لین میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور میں سارے قافیے پر تخیل کے عین مطابق لفظوں کا پیراہن پہناتا جاتا ہوں ۔
ہم نے شعر و ادب میں جو کچھ کر پایا یا اب تک نو کتابیں تخلیق کرنے کی ہمت ہوئی تو ان ساری کامیابیوں میں بھی استاد صاحب کا کردار نمایاں ہے ورنہ ہم نے کسی کالج کا دروازہ نہیں دیکھا میٹرک سے ایم اے تک پرائیویٹ تعلیم حاصل کی ۔بحرحال ہم نے استاد صاحب کے حکم کی تعمیل میں تین قسطوں پر مشتمل ایک آرٹیکل لکھ چھوڑا اور کے ٹو اخبار سمیت بعض دیگر اخبارات نے شائع بھی کیا۔
استاد صاحب نے اس سال ایک اور خواہش کا اظہار کیا ، فرمانے لگے دانش آپ کے پاس ، جناب حسرت صاحب اور میرے سمیت نامور محقق جناب یوسف حسین آبادی صاحب کے پاس بھی گاڑی ہے ۔ ہم پاکستان تو گھوم چکے اپنے خطے میں ابھی بہت سی وادیاں، گاوں اور سیرگاہیں دیکھنا باقی ہیں۔ اب کہ بار ہم ایسا کرتے ہیں کہ ہم مہینے میں دو بار تمام وادیوں کا دورہ کرتے ہیں اور کھرمنگ، خپلو شگر روندو کی سیرگاہیں دیکھتے ہیں، ان کے بعد ہم گلگت کے ہنزہ، نگر، غذر، دیامر اور استور اور دیوسائی کی بھی سیراب کرتے ہیں ۔ استاد صاحب کی اتنی بڑی اور لمبی خواہش کے اظہار پر میں نے جب کیوں کا سوال اٹھایا تو اب کہ بار اپنی اس غزل کے مطلع کے ساتھ مقطع بھی اٹھایا ۔
دنیائے حادثات کا کیا اعتبار
انسان کی حیات کا کیا اعتبار ہے
ماہ کمال کا بھی مقدر ہے جب غروب
تو چودھویں کی رات کا کیا اعتبار ہے
استاد صاحب بیمار ہونے سے قبل میں بیمار ہوا اور ڈی ایچ کیو ہسپتال والوں نے مجھے بھی عبداللہ ہسپتال جانے کا مشورہ دیا مگر میرے دوست اختر رزاقی نے مجھے روکا اور سی ایم ایچ جانے کو کہا ۔ سی ایم ایچ والوں نے شروع دن سے مجھے میڈیکل وارڈ میں داخل کرکے علاج شروع کیا جہاں چھے دنوں کے اندر میرا بخار اتر گیا اور فارغ ہو کر گھر آگیا ۔ مجھے وہم ہونے لگا کہ اگر وبائی بیماری کرونا ہے تو میں بھی مر جاوں گا مگر ڈاکٹر نے قسمیں کھا کر سمجھایا دانش صاحب آپ کو سیمپل بخار تھا جسے ہم نے دور کر دیا ہے گھر جا کر خوب کھائیں اور زندگی سے لطف اٹھائیں ۔میں ابھی گھر پہنچا ہی تھا استاد محترم کا فون آیا دانش صاحب میں عبداللہ ہسپتال میں داخل ہو گیا ہوں مجھے بخار کے علاوہ عارضہ قلب بھی ہے اور بلڈ پریشر بھی اعتدال میں نہیں رہتا اوپر سے شوگر کا لیول بھی اوپر ہے، میں کیا کروں؟ میں یہیں سے علاج کراوں یا سی ایم ایچ جاوں مشورہ دو۔ میں نے جواب دیا اگر آپ کا علاج بہتر ہو رہا ہے تو یہاں ٹھیک ہے ورنہ وقت ضائع کئے بغیر سی ایم ایچ داخل ہو جائیں ۔ دو دنوں کے اندر آپ کے بیٹے سرتاج کمال نے فون پر کہا دانش صاحب ابو کی سانسیں اکھڑتی جا رہی ہیں آپ جرنیل احسان محمود کو یا فون کریں یا نمبر سینڈ کریں میں ابو کو یہاں سے وہاں منتقل کرنا چاہتا ہوں ۔ جرنیل احسان محمود خان سے اس دن میری تو بات نہیں ہوئی تاہم ہمارے دیرینہ دوست نامور سکالرز جناب محمد حسن حسرت صاحب کی بات ہوئی تھی تو جرنیل صاحب نے ایمبولینس بھیجنے کا بندوبست کیا تھا ۔ سرتاج کمال سوشل میڈیا پر اپنے پیارے بابا کی صحت یابی کے لئے عقیدت مندوں سے دعاوں کی مسلسل اپیل کرتے رہے مگر خدا کو کچھ اور منظور تھا استاد محترم اپنے ہزاروں لاکھوں شاگردوں، عقیدتمندوں اور رشتہ داروں کو سوگوار چھوڑ کر راہی جنت الفردوس ہوگئے ۔یہ خبر بجلی بن کر گری مگر ایک بیمار آدمی رونے کے علاوہ کر کیا سکتا تھا ۔ شام کے بعد جناب محمد حسن حسرت صاحب کا فون آیا اور دونوں طرف سے گریہ و زاری کی صدائیں بلند ہوگئیں ۔ جی بھرنے تک اشک افشانی کرنے کے بعد حسرت صاحب نے کہا دانش آپ مجھے پرسہ دیں میں آپ کو دوں گا۔
حلیم طبع استاد صاحب کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ پوری زندگی اردو اور بلتی ادب کے فروغ کے لئے صرف کی۔ آخری سانسیں جب چل رہی تھیں اور آپ کو معلوم بھی ہو چکا تھا اب اپنے شعرا و ادبا کو خدا حافظ کہنے کا وقت آن پہنچا تو انہوں نے آخری سانسوں کے ساتھ یہ اکلوتا شعر کہہ دیا اور سراہنے پر موجود کاغذ پر رقم کیا جو بعد میں آپ کی بیٹی نے سوشل میڈیا پر وائرل کیا وہ یہ تھا ۔
گلستان ادب کے اے نگہبانو خدا حافظ
حسین بزم سخن کے اے سخندانو خدا حافظ
آپ نے اپنی ساری زندگی میں جو کچھ لکھا ان میں سے سوائے رباعیات کے سارا مواد چھاپنے کا منتظر تھا ۔ ان میں
مقالات کمال الہامی
مقدمات کمال الہامی
قطعات کمال الہامی
منظومات کمال الہامی
غزلیات کمال الہامی
عرفانیات کمال الہامی
مضامین کمال الہامی
کمال الہامی کے افسانے
کمال الہامی کے انشائیے
کمال الہامی کی آزاد نظمیں
کمال الہامی کے بلتی کلام
کمال الہامی کے بلتی نثر پارے
یہ سارے مواد کا انبار مختلف کاٹن میں جمع تھے اور اب کہ بار پختہ ارادہ رکھتے تھے چاہے دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے دو چار کتابیں منظر پہ ضرور لائیں گے مگر بجائے اس کے آپ خود منظر سے غائب ہو گئے ۔
خدا ہم جیسے ہزاروں لاکھوں شاگردوں کے استاد کو کروٹ کروٹ سکون و قرار عطا کرے اور آپ کے لواحقین سمیت ہم سبھی سوگواروں کو یہ عظیم دکھ سہنے کی توفیق عطا کرے آمین ۔

تحریر ۔ احسان علی دانش

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc