بلتی زبان کی بقا اور یگے(YIGE) رسم الخط

بلتستان نہ صرف اپنے دلفریب مناظر اور مسحور کن جغرافیائی اور زمینی خصوصیات کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے بلکہ تہذیبی، ثقافتی اور لسانی انفرادیت اور جداگانہ شناخت کی بنیاد پر بھی اہل علم و دانش اور لسانیات اور بشریات کے ماہرین کی توجہ کا مرکز ہے۔ پاکستان میں بولی جانے والی ستر سے زاید زبانیں اور بولیاں ہند و یورپی زبان کی ہندو ایرانی زبان کی شاخیں ہیں اور غالبا یہ تمام زبانیں عربی فارسی رسم الخط میں ترمیم و تبدیلی اور اضافے کے ساتھ لکھی جاتی ہیں ۔ پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں میں بلتی زبان کو دو امتیازی خصوصیات حاصل ہیں کہ تمام دیگر زبانون کے برعکس صرف بلتی زبان ہندو یورپی کی بجائے چینی-تبتی زبانوں کی شاخ تبتو برمن سے ہے اور ایک جداگانہ رسم الخط “یگے” کی بھی حامل رہی ہے ۔ لیکن بلتستان میں ترویج اسلام کے بعداس رسم الخط کو آہستہ آہستہ ترک کر کے اس زبان کو تحریری شکل دینے کے لئے کچھ اضافوں یا بغیر کسی اضافے کے ساتھ فارسی عربی رسم الخط کو استعمال کیا جا رہا ہے اور چودہویں صدی میں اسلامی کی اشاعت کے بعد سے بلتی زبان کی تمام تر تصانیف اسی رسم الخط میں محفوظ ہورہی ہیں۔
آج کی دنیا میں جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی ہمارے لئے مستقبل کی راہیں ہموار کر رہی ہیں وہیں ماہرین تاریخ ، آرکیالوجی ، لسانیات اور کتیبہ شناسی جیسے علوم کی شمع لے کر ماضی کے اندھیروں میں جھانک کر ہمارے آباد و اجداد کے عروج و زوال اور عادات و اطوار کی داستانیں نئے سرے سے رقم کر کے مستقبل کی راہوں کی تعیین و تشخیص میں ہماری مدد کر رہے ہیں۔ اسی بات کو درک کرتے ہوئے سب سے پہلے یوسف حسین آبادی جیسے محققین نے بلتی زبان کے قدیمی رسم الخط کو دوبارہ زندہ کر نے اور اسے اس کے سرچشمے سے جوڑنے کے لئے عملی کوشش کا آغاز کیا اور یگے رسم الخط کو ایک بار پھر بلتستان میں متعارف کرایا۔ اس اقدام کے بعد کئی صاحب ذوق افراد اس قافلے میں شریک ہوئے اور انفرادی طور اس رسم الخط کے احیا کے لئے اپنا حصہ ڈالتے رہے اور کچھ احباب نے نہ صرف خود سیکھا بلکہ اسے دوسروں کو بھی سکھانے کا بیڑا بھی اٹھایالیکن بلتی زبان و رسم الخط کی اہمیت، انفرادیت اور خطرات سے دوچار ہونے کے باوجود رسمی طور آج تک کسی بھی جامعہ یا قومی ادارے میں اس کی تدریس یا تحقیق کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔
کسی بھی زبان کی بقا اور احیا اس زبان کے رسم الخط سے وابستہ ہے۔ اگر دنیا کی بڑی بڑی زبانوں کے عروج و زوال اور تغیر و تبدل کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں سال بعد اگر کسی زبان کے بولنے والے معدوم بھی ہوجائیں تو بھی وہ زبان اپنے رسم الخط کی بدولت تاریخ کے صفحات میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے لیکن رسم الخط کے بدلنے اور اردو ، فارسی اور عربی کے زیر اثر آنے سے بلتی زبان اپنے اصل مآخذ یعنی تبتی زبانوں سے دور ہوتی چلی گئی اور بیرونی الفاظ و ترکیبات کی یلغار نے نہ صرف اس زبان کی ہیئت کو بہت حد تک مسخ کر دیا ہے بلکہ اسے معدومی کے خطرے سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ ایک ہی سرچشمے سے تعلق ہونے کے باوجود بلتی کا لسانی رابطہ لداخ اور تبت کی زبانوں سے بہت کمزور پڑ چکا ہے اور آج ہماری نئی نسل اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ہماری تاریخ، زبان، ثقافت اور روایات سے ناآشنا ہے ۔

بعض محققین کا یہ ماننا ہے کہ مسلمان مبلغین بلتی زبان کے زوال کے اصل ذمہ دار ہیں لیکن میں اس بات سے سے جزوی طور پر اتفاق کرتا ہوں کیونکہ ابتدایی دور کے مبلغین نے بلتی کو ختم کرنے کی ارادی کوشش نہیں کی تھی البتہ یہ مبلغین جزوی طور پر اس زوال کے ذمہ دار ہیں جبکہ زیادہ تر ذمہ داری مقامی آبادی اور حالات کے جبر پر عاید ہوتی ہے۔
اردو زبان کی تشکیل اور ارتقا کی تاریح پر نظر دوڑانے سے ہمیں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسم الخط کس طرح کسی زبان کو مکمل طور تبدیل کر کے رکھ سکتا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ برصغیر میں دین اسلام کی آمد کے ساتھ عربی اور فارسی تہذیب و تمدن اور زبان و ادب کے بھی اثرات بھی یہاں کے نو مسلم معاشرے پر مرتب ہونا شروع ہوئے۔ مقامی طور پر بولی جانے والی بڑی زبانیں دیوناگری یا براہمی رسم الخط میں لکھی جاتی تھیں لیکن نئی تہذیب اور زبان ایک الگ رسم الخط کی حامل تھی اور دین اسلام کی مقدس آسمانی کتاب قرآن، احادیث اور تاریخ اسلام کی اکثر کتابیں بھی اسی رسم الخط میں محفوظ تھیں۔ چونکہ ان تمام علمی ذخیرے کو عربی-فارسی رسم الخط سے مقامی رسم الخط میں تبدیل کرنا نا ممکن تھا اس لئے تعلیمات دینی کے حصول کے لئے مقامی مسلمان عربی-فارسی رسم الخط سیکھنے لگے اور اسی رسم الخط کو مقامی زبانوں کے لئے بھی استعمال میں لایا جانے لگا۔ یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اسلام سے قبل کے ہندو سماج میں عام طور پر علم و فضل اور تحریر و کتابت کا حق صرف پنڈتوں کو حاصل ہوتا تھا اور ایک عام آدمی پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سے محروم ہی ہوتا تھا۔ اسلام نے بلا تخصیص علم کے حصول کے دروازے سب کے لئے کھول دئے جس کے سبب وہ لاکھوں افراد جو نئے مسلمان بنے تھے اور کسی رسم الخط سے بھی آشنا نہیں تھے، اسی نئے رسم الخط کو ہی لکھنے پڑھنے کے لئے اور اسلامی تعلیمات تک رسائی کے لئے استعمال کرنے لگ گئے۔ یوں فارسی اور عربی اصطلاحات اور الفاظ کی آمیزش سے ایک نئی زبان پنپنے لگی جو بعد میں اردو کہلانے لگی۔ رسم الخط اور مذہبی اختلافات کی وجہ سے مسلمان آبادی مقامی زبانوں سے دور ہوتی چلی گئی اور آج اردو بولنے والا ایک پاکستانی دیوناگری رسم الخط سے ناآشنایی کے سبب سنکسرت یا دیگر قدیم زبانیں نہیں پڑھ سکتا اور رسم الخط کی یکسانیت اور اسلامی تہذیب و تمدن سے قربت کے سبب سینکڑوں سالوں میں اردو کی ایک الگ شناخت بن گئی ہے جس کے اکثر افعال اگرچہ مقامی ہیں لیکن اسما و صفات زیادہ تر عربی فارسی کے ہیں۔ آج نئی نسل کی انگریزی رسم الخط سے آشنایی کے سبب انگریزی کے اثرات بھی قابل مشاہدہ اور اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ اسی طرح ایران کی قدیم زبان نے جب عربی رسم الخط کو اپنایا تو اس کا رابطہ ہندو اروپایی زبانوں سے کمزور پڑ گیا اور فارسی مکمل طور پر عربی کے زیر اثر آ گئی۔ دوسری طرف تاجکستان میں بولی جانے والی یہی فارسی روسی (سیریلک) رسم الخط کے حامل ہونے کے سبب روسی زبان و تہذیب کے زیر اثر ہے۔
اسی اصول کے تحت اگر ہم بلتی زبان کی سرنوشت کا مطالعہ یا مشاہدہ کریں تو اس کے زوال کے اسباب و عوامل کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسلام کی آمد کے وقت بلتی یل بون چھوس اور بدھ مت کے زیر اثر تھا اور مقامی زبان تبتی زبان سے وابستہ تھی۔ جب مبلغین یہاں آئے تو اس وقت دشوار گزار ہونے کے سبب تعلیمی مواقع کا فقدان تھا اور گنے چنے لوگ ہی لکھ پڑھ سکتے تھے۔ یہ مبلغین تعلیم کے زیور سے آراستہ تھے۔ انہوں نے جب لوگوں کو تعلیم دلانی شروع کی تو قرآن و احادیث کا مروجہ رسم الخط ہی نئے سرے سے سکھانے لگے۔ اور یوں عربی فارسی لکھنے والوں کی عوامی اکثریت تبتی رسم الخط “بود یگ (Bod Yig)” (یگے یا ایگے “یگ “سے ہی بنا ہے۔) لکھنے والی محدود اور مخصوص اقلیت پر غالب آ گئی اور بلتستان میں اسی رسم الخط کو زیادہ پذیرائی ملی۔
شواہد سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ قدیم رسم الخط کو بود یگ کہا جاتا تھا جس کی وجہ سے مسلمانوں نے اسے غیر اسلامی رسم الخط قرار دے کر اس سے دوری اختیار کی جس کے سبب تبت اور بعد میں لداخ سے ہمارا تہذیبی، تمدنی اور لسانی رابطہ ٹوٹنے کے سبب بلتی زبان رو بہ زوال ہو گئی اور عربی فارسی کے بے شمار الفاظ اس زبان میں شامل ہو گئے۔ بعد میں ڈوگرا راج کے زیر اثر آنے اور پھر پاکستان سے وابستگی کے بعد اس پر اردو کے اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔ لہذا جہاں ایک طرف ایران سے آنے والے مبلغین نے اسلام کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ یہاں کے عام افراد کو بھی علم کی دولت سے روشناس کرایا ہے جو قابل قدر ہے لیکن بالواسطہ اور غیر ارادی طور پر بلتی زبان کے زوال کی وجہ بھی بنے ہیں جس سے انکار ممکن نہیں۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے عربی-فارسی رسم الخط رواج پانے کے باوجود بلتی زبان کے صوتی تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر تھا کیوں کہ بلتی میں کئی آوازیں ایسی ہیں جن کے لئے فارسی رسم الخط میں حروف موجود نہیں تھے۔ کئی صدیاں گزرنے کے باوجود کسی نے بھی اس سقم کو دور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بعد کے ادوار میں جب تعلیم کا رواج عام ہوا اور ہر شخص زیور تعلیم سے آراستہ ہونے لگا تو بلتی زبان کے فارسی رسم الخط کے استعمال پر سوالات اٹھنے لگے اور اس رسم الخط کی صوتی کمزوریوں کی نشاندہی ہونے لگی۔ لہذا ان صوتی علامتوں کی تکمیل اور بلتی کے تحفظ کے لئے محقق و ماہر لسانیات محمد یوسف حسین آبادی کی تحریک پر ادبی تنظیم حلقہ علم و ادب کے پلیٹ فارم سے ادیبوں کے اجلاس میں سات اضافی حروف پر اتفاق کیا گیا جو کچھ حروف پرنقطوں اور علامات اضافے کئے گئے۔ بعد میں بلتستان دائرہ مصنفین کی کوششوں سے ایم ایس ورڈ ز کے اُردو فونٹ کو استعمال میں لاتے ہوئے بلتی کے لئے مکمل کی بورڈ (Key Board) کو ترتیب دیا گیا ہے جس میں بلتی زبان کے اضافی حروف کو بھی بڑی مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ ان کاوشوں کے باوجود عوامی دسترس میں نہ ہونے کے سبب اس اضافہ شدہ فارسی اردو رسم الخط کو پذیرائي حاصل نہیں ہوئی اور لوگوں کی اکثریت بلتی شاعری کو ضبط تحریر میں لانے کے لئے آج بھی اردوحروف تہجی کو استعمال کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ بعض حلقوں کی طرف سے “یگے” رسم الخط کے احیا کی کوشش کی جارہی ہے جو ایک طرف بلتی زبان کے صوتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور دوسری طرف بلتی زبان کے سرچشمے یعنی تبتی زبانوںسے تجدید روابط کا وسیلہ بھی ہے جس میں کامیاب ہونے کی ہونے کی صورت میں بلتی زبان کے ذخیرہ الفاظ میں جدت کے ساتھ اضافہ ہو سکتا ہے اور بلتی معدوم ہونے سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ یوسف حسین آبادی کے بعد اس کے بعد بھی بعض دیگر محققین جیسے عباس کاظمی، غلام حسن لوبسانگ، حسنین ژھرینگ، پھچو اقبال، رضا غالب جیسے درد دل رکھنے والے محققین اون زبان دانوں نے بلتی زبان اور یگے رسم الخط کے احیا اور ترویج کے لئے بہت اہم خدمات سر انجام دی ہیں۔ بلتستان کلچرل فاؤنڈیشن نے ثقافتی احیا اور یگے کی ترویج کے لئے خدمات انجام دی ہیں۔ اور آج تمام تر مخالفتوں کے باوجود درجنوں افراداس رسم الخط کو لکھنا اور پڑھنا جانتے ہیں۔ اس کے باجودابھی تک عوامی پذیرائي نہیں ملی ہے اور رائج ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔
بلتی زبان کو اس وقت تین تین مختلف طریقوں سے لکھنے کی کوششیں جاری ہیں:
1۔ فارسی-اردو رسم الخط:یہ رسم الخط گزشتہ چند سو سالوںسے بلتستان میں رائج ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بلتی زبان میں نثری ادب نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ تمام تر شعری ادبیات جن کا زیادہ تر حصہ قصاید، مراثی، نوحے، بحر طویل جیسے مذہبی موضوعات پر مشتمل ہے اور کچھ حصہ آزاد موضوعات اور غزل وغیرہ سے متعلق ہے۔وہ اسی رسم الخط میں محفوظ ہے۔ لیکن یہ بلتی زبانوں کے صوتی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے اور بعض اوقات پڑھنے میں دشواری اور غلطی کا سبب بنتا ہے۔
2۔ رومن رسم الخط: بعض افراد صرف ایک دوسرے کو ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے کے لئے اس خط کا استعمال کر رہے ہیں۔
3۔ یگے: یہ بلتی زبان کے لسانی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے لیکن اس کے جاننے والوں کا حلقہ بہت محدود ہے اور اس وقت تجدیدی دور سے گز ر رہا ہے۔ اس رسم الخط کے درج ذیل افادی پہلو ہیں :
1. 1ے بلتی زبان کے لسانی تقاضوں سے ہم آہنگ اور بلتی کے تمام اصوات کا حامل ہے۔
2. بلتی زبان و ادب اور تاریخ کے14 سو سالہ اثاثہ اسی زبان میں محفوظ ہے۔اس رسم الخط کے احیا کی صورت میں ہمیں اپنی تاریخ اور ماضی کے بارے میں بہتر آگاہی ملے گی۔
3. یہ خط پاکستان کا واحد رسم الخط ہے جو اپنی جداگانہ حیثیت کی وجہ سے بہت ممتاز بن سکتا ہے۔
4. بلتستان کا لداخ، تبت اور دیگر چینی تبتی زبانوں سے رابطہ بحال ہوگا جس سے ہمارے لسانی سرمائے میں اضافہ ہوگا اور ہمیں ديگر زبانوں کے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں رہے گي اس طرح ہماری زبان بیرونی یلغار سے محفوظ رہے گی۔
5. بلتی کو یگے رسم الخط میں لکھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمیں متشابہ الفاظ کی شناخت اور ان کے معانی سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ بلتی میں کلمے کی نوعیت کے مطابق سابقہ حروف کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان سابقہ حروف میں بعض ملفوظ اور بعض غیر ملفوظ ہوتے ہیں۔ مثلاِ ردو کس کے دو معنی ہیں یعنی دراڑ والا پتھر اور پتھر کی بنی سیڑھی۔ لیکن فارسی رسم الخط کے ساتھ یہ مشکل ہے کہ جب تک لفظ کو جملے میں استمعال نہیں کیا جاتا تب تک دونوں معانی کو ظاہر نہیں کیا جا سکتا جبکہ یگے رسم الخط میں دونوں معانی کو آسانی سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ جیسے:རྡོ་བཀས་ اور རྡོ་སྐས་ میں “کَس” سے پہلے سابقہ حروف “བ” اور ” ས” سے فورا پتہ چل جاتا ہے کہ کونسا لفظ کس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ བ فعل سے قبل اور ས اسم سے قبل بطور سابقہ استعمال ہوتا ہے لیکن تلفظ میں نہیں آتا۔
ذاتی طور پر میں خود پہلے بلتی زبان کے اصل رسم الخط “یگے” سے آشنایی نہیں رکھتا تھا اس لئے اس زبان کی وسعت اور لغت سازی کی صلاحیت سے پوری طرح آگاہ نہیں تھا لیکن جب سے میں یگے رسم الخط کے ذریعے تبتی لغات پڑھنے اور سمجھنے کے قابل ہوا ہوں تب سے یہ بات کہتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوں کہ ہماری زبان اگر پھر سے اپنی اصل سے جڑ جائے تو دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کا ہم پلہ بن سکتی ہے۔ چشمے کے دہانے کو بھاری پتھروں سے بند کر کے خشکسالی کی شکایت کرنا عقلمندی نہیں ہے۔
تحریر: ڈاکٹر نذیر بیسپا

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc