بلتستان کی صلیب چڑھتی ثقافت اور ہمارا طرز عمل

کواردو میں موجود صلیب نما، بلتی فن تعمیر کے قدیم شہ پارے کو مقدس صلیب ثابت کرنے کی کوشش اپنے زوروں پر ہے۔ اس سنگی سرستون کے محل وقوع موضع سترنگ لونگما کے سادہ لوح عوام سمیت کواردو کی اکثر آبای اس مقدس صلیب کی برکات سمیٹنے کے لئے ابھی سے تیاریاں کر رہی ہیں۔ جو لوگ جھوٹ اور خیانت پر علاقے کی ترقی کی بنیادیں رکھنا چاہتے ہیں ان کی عقل اور ایمان دونوں پر جتنا ماتم کریں کم ہے۔ یہ بات تو تاریخ بلتستان کی الف بے سے واقف بچہ بھی جانتا ہے کہ یہاں کی تاریخ میں نہ کہیں عیسائیت کا کوئی نام و نشاں ہے، اور نہ ہی یہاں کے ثقافتی ورثے میں عیسائی تہذیب کی کوئی علامت پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ مختلف فورم پر بلتستان کی تاریخ کے کئی معتبر اساتذہ اور محققین اس بات کا اقرار کر چکے ہیں۔ اس کے برعکس بلتستان کے طول و عرض میں اسلامی تہذیب اور اس سے پہلے کے مقامی ادیان کی تہذیبوں کے آثار نمایاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ رسم و رواج، بول چال اور رہن سہن میں بھی ان تہذیبوں کے اثرات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ ان سارے حقائق کے باوجود ایک طبقے کا پھر بھی اس بات پراصرار ہے کہ بلے یہ بلتی فن تعمیر کا سرستون ہے، لیکن اسے صلیب ثابت کرنے میں کیا حرج ہے؟ کم سے کم اسی بہانے علاقے میں ٹورزم اور سیاحت کو فروغ ملے گا، جس کے نتیجے میں علاقے میں ترقی کا دور دورہ ہوگا، بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا،سڑکیں اپنی جگہ، گلیاں بھی نکھر جائیں گی وغیرہ وغیرہ۔ اب اس طبقے کو کون سمجھائے؟ جو لوگ اپنی تاریخ اور ثقافت کو بیچ کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، وہ آگے جا کر ایک لقمے کے لئے کیاسے کیا بیچیں گے؟ خدا ہی بہتر جانتا ہے! بلتستان کی تاریخ اور ثقافت کے ساتھ کی جانے والی اس بڑی خیانت میں وہ لوگ بھی برابر کے شریک ہیں جو بلتستان یونیورسٹی کے زیر سایہ عیسائی تبشیری مشینری کی کھلی سازشوں کو بچشم خود دیکھ کر بھی چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ میں آج معاشرے کے بااثر طبقوں کو اپنے طالب علمانہ چند سوالات کے ذریعے مورد استفسار قرار دینا چاہتا ہوں۔

علمائاور مذہبی طبقے کے نام!

آپ جو خود کو”العلماء ورثۃ الأنبیاء“ (علماء انبیاء کے وارث ہیں) کے مصداق سمجھتے ہیں۔ کیا حضرت ختمی مرتبتؐ نے یہ مقام علماء کو مفت میں دیا ہے؟ یا پھر اس لئے دیا ہے کہ وہ ن من دھن کی قربانی کے ذریعے دین اسلام اور شریعت محمدی ؐکی حفاظت کریں؟ عیسائی مشینری کب سے اور کتنی وسعت کے ساتھ بلتستان میں کام کر رہی ہے؟ کسی نے یہ جاننے کی زحمت نہیں کی۔ پہلے اس کے کرتوت شاید پوشیدہ رہے ہوں، لیکن اب تو وہ کھل کر میدان میں آئی ہے اور آپ کے ثقافتی ورثے کو عیسائیوں کی مقدس صلیب قرار دینے پر تل گئی ہے، اس کام کے لئے یورپ اور امریکا تک کے عیسائی اور ان کے ہم خیال مقامی سہولت کار پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اب بھی آپ اپنے جزئی مسائل میں مصروف رہیں گے؟؟!! آپ جو کشمیر، فلسطین، یمن، بحرین، افغانستان، پاکستان یہاں تک کہ امریکا میں ہونے والے انسانی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کو اپنا دینی،اخلاقی اور انسانی فریضہ سمجھتے ہیں، جو کہ لائق تحسین ہے۔لیکن آپ کے پڑوس میں اپنی تاریخ اور ثقافت کے ساتھ ہونے والے اتنے بڑے ظلم اور خیانت پر کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟!

دانشوروں اور تعلیمی طبقے کے نام!

قوم کے دانشوروں اور تعلیمی طبقے کی محنتوں کا ہی نتیجہ تھا کہ ستر سالہ محرومی کے بعد بڑی مشکل سے بلتستان کے نصیب میں ایک یونیورسٹی آئی ہے۔ لیکن اس قوم کی بدنصیبی دیکھیں کہ اس علمی درسگاہ کی باگ ڈور کچھ ایسے افراد کے ہاتھ میں دی گئی جو سستی شہرت اور مختصر مراعات کی خاطر یونیورسٹی کو تعلیم و تحقیق کی پٹڑی سے اتار کر عالمی سازشوں کے لئے چھتری کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ بلتستان یونیورسٹی کے ساتھ ہونے والے اس بہت بڑے ظلم اور ناانصافی پر آپ (قوم کے دانشور اور تعلیم یافتہ طبقہ) کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہر آنے والا شیخ الجامعہ اور انتظامیہ اس درسگاہ کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرتے رہیں تو یہ درسگاہ نہیں رہے گی بلکہ کرائے کے گھوڑوں کا اصطبل بن جائے گی۔

قوم پرستوں اور ثقافتی طبقے کے نام!

سب سے زیادہ تعجب بلتستان کی قوم پرست شخصیات اور تنظیموں پر ہوتا ہے جو بلتی قوم، بلتی یُل، بلتی ثقافت اور بلتستان کے حقوق کے نعرے لگائے نہیں تھکتے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض افراد اسلام اور مسلمانوں کو، بلکہ ہر دین اور مذہب کو بلتی قومیت کے لئے زہر ہلاہل سمجھتے ہیں۔ آج جب عیسائی مشینری، بلتستان یونیورسٹی انتظامیہ کی مدد سے بلتی قوم کی میراث لوٹنے میں لگی ہوئی ہے تو کیوں ان کو سانپ سونگھ گیا ہے؟! یہ عیسائیت کو بلتی قوم اور ثقافت کا امین سمجھتے ہیں یا پھر کچھ اور چکر ہے؟!

سیکورٹی اداروں اور انتظامیہ کے نام! بات بات پر امن کی بحالی کے نعرے لگانے، مختلف اجتماعات اور شخصیات پر پابندی لگانے، یہاں تک کہ بڑی سخاوت اور فراخدلی سے مختلف افراد کو شیڈول فور میں ڈالنے والے ہمارے سیکورٹی اداروں اور بلتستان ریجن کے انتظامیہ کو تو شاید یہ فرصت بھی نہیں ملی ہے کہ وہ اپنی چشم بینا، گوش شنوا، اور تیز فہم دماغ کو ذرا اس طرف بھی موڑ لیں کہ کواردو میں کیا ہو رہا ہے؟ ایک سرستون کو زبردستی صلیب بنانے کی کوشش کے نتیجے میں علاقہ مذہبی تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اگر عیسائی مشینری اس پتھر کو جبراًصلیب قرار دینے میں کامیاب ہوگئی اور اس کو نصب کرنے کے لئے کلیسا کی تعمیر پر کمر کس لے، تو پھر حالات نہ تو سیکورٹی اداروں کے ہاتھ میں ہوں گے، اور نہ ہی کسی دوسرے حکومتی فرد کے بس میں۔ لہٰذا پانی سر سے گزر جانے سے پہلے ہی اس مسئلے پر توجہ دی جائے!!

حرف آِخر:

مکتوب اور مسموع قرائن و شواہد بتاتے ہیں کہ مذکورہ پتھر عیسائیوں کے مقدس صلیب ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر امکان کی بات کی جائے تو بھی اس کا احتمال صفر کی حد تک ہے۔اس کے برعکس یہ ظاہر اور عیاں ہے کہ یہ بلتی فن تعمیر کا ایک حصہ ہے، جو راجہ سکردو کے محل کے لئے تراشا گیا؛ لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر سکردو منتقل نہ کیا جا سکا۔ اس کے باوجود بھی ہم آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی گنجائش کو مسترد نہیں کرتے۔ اب تک بلتستان یونیورسٹی کی طرف سے تحقیق کے نام پر جو کچھ ہوا ہے اور جو کچھ ہونے جا رہا ہے، اس کے بارے میں یقین ہے کہ وہ سب کے سب عیسائی مشینری کی سازشوں کا شاخسانہ ہیں۔ لہذا اس تحقیق کو سراسر مسترد کرتے ہوئے مذکورہ بالا بااثر طبقات سے درخواست کرتے ہیں کہ اس پتھر کی حیثیت، نوعیت اور تاریخ مشخص کرنے کے لئے علاقائی، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ تاکہ عیسائی مشینری سمیت یونیورسٹی انتظامیہ اور علاقائی سہولت کاروں کے ڈھنڈورے کا پول کھل جائے۔ وَمَا عَلَیْنَا إِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِینُ

 

تحریر : محمد سجاد شاکری

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc