ایک نظر حلقہ دو سکردو پر

حلقہ دو سکردو آبادی کے لحاظ سے بلتستان کے سب سے بڑا حلقہ ہے. حلقہ دو کے عوام پچھلے کئ انتخابات میں مزہبی پارٹی یا مزہب کے زیر اثر نمائندہ کو منتخب کر کے حلقے کئ نمائندگی کے لیے اسمبلی ہہنچایا ہے. پچھلے الیکشن میں بھی ایم ڈبلیو ایم کو حلقہ نمبر دو کے عوام نے ان سے منشور پوچھنے کی بجائے مزہب کے نام پہ ووٹ دئیے. اس سے پہلے بھی تحریک جعفریہ اور پی پی پی مزہبی نعرے کیساتھ میدان مارنے میں کامیاب ہوے تھے…
اس سال بھی باقاعدہ کمپین شروع کی ہوئی ہے عوام پوچھیں پچھلے سال ہم نے ووٹ دے کر جتوایا تھا…..
حلقے کو کہا کیا دیا کونسی ترقیاتی کام ہوئے.. ؟؟؟خیر
میرے بلتستان کے یہ حلقہ جہاں تقریباً ہر جگہے اور علاقے سے سرکار نے زمینیں خالصہ سرکار کے نام پہ لی ہوئی ہے جن میں ائیر پورٹ 27 ہزار کنال, جی بی سکاوٹس 700 کنال, سی ایم ایچ, آرمی امنیشن سنٹر, فشریز, زراعت 1118 کنال وغیرہ نے زمینیں لی ہوئی ہے. تا ہم حلقہ دو کے باسیوں کو کہیں سے بھی ریلیف میسر نہیں ہے سی ایم ایچ حلقہ دو کے سینے پہ موجود ہونے باوجود ان کو کوئی ایڈونٹیج حاصل نہیں ہے.. جب کبھی ایمرجسی ہوجاتی ہے تو بھاری فیس ادا کر کے ہی ٹریٹمنٹ کرنی پڑتی .. غریب آج بھی سکردو ڈی ایچ کیو ہسپتال کا رخ کرنے پہ مجبور ہے… بے نظیر ہسپتال کو سیاسی نمائندوں نے کوئی توجہ نہیں دی ہے ہسپتال میں کوئی سپسلسٹ ڈاکٹر اور جدید مشینری موجود نہیں ہے جس سے عوام بری طرح متاثر ہورہے ہے…..
چندہ, بشو, کھربوہ, کواردو, قمراہ, کچورہ, سدپارہ ان علاقوں میں کہیں اک ڈسپنسری موجود ہوگی.اکثر جگہوں پہ یہ سہولت بھی موجود نہیں ہے….
کسی معاشرے میں چینج/تبدیلی لانی ہو سماج کی شعوری حد بلند کرنا ہو معاشی طور پہ مستحکم رکھنا ہو دوسرے اقوام سے کمپیٹ کرنا ہو یا اپنے معاشرے میں غلامانہ زہنیت کو ختم کر کے آزادانہ سوچ کے ترقی کرنی ہوتو تعلیم ہئ اس کا زینہ بنتی ہے تعلیم ہئ کی مرہون منت سےیہ تمام ممکن ہوسکتی ہے…
حلقے کی ہم تعلیمی مسائل بھی بلتستان کے دیگر حلقوں سے کم نہیں ہے پورے حلقے میں سدپارہ سے لیکر بشو تک سرکاری سرکاری سکولوں کی اعداد شمار کچھ اسطرح سے ہے پورے حلقے میں بوائز کے لیے 29 پرائمری سکول ,15 مڈل سکول , اور صرف 3 ہائی سکول موجود ہے.. گرلز کیلیے 13 پرائمری سکول , 11 مڈل اور صرف 2 ہائی سکول اس وقت موجود ہے. جو کہ ڈیڑھ لاکھ کی آبادی کیلئے آٹے میں نمک کے برابر ہے پورے حلقے میں صرف 2 گرلز ہائی سکولز اور 3 بوائز ہائی سکولز ہونا المیہ ہے اور اہل حلقہ کئ خاموشی سوالیہ نشان ہیں..؟؟؟؟
سابقہ نمائندہ کو ہم بی ایس ایف نے سکولوں کی اپگریڈیشن, سرکاری سکولوں میں فیس لینے کے علاوہ ٹیچرز کی کمی کے بارے میں بار بار توجہ مبزول کرنے کے باوجود کچھ نا کرسکا.
حلقے میں صرف اک انٹر کالج اور کیڈٹ کالج موجود ہے اس میں بھی گمبہ و دیگر علاقوں کے طلبا کو داخلے کے لیے مشکلات رہتا ہے..کیڈٹ کالج سکردو میں تعلیمی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے نا طلبا کی کونسلنگ کی جاتی ہے نا انکو داخلے کے دوران رعایت دی جاتی ہے بی ایس ایف کا دیرینہ مطالبہ گرلز کالج سائیڈ سلیکشن کے باوجود ابھی تک کام شروع نہیں ہوسکا…..
حلقہ نمبر دو میں آج بھی لوگ پانی کئ اک اک بوند کیلئے ترستے ہیں.. جہاں نمائندے بلند بانگ کھوکھلے نعرہ لگاتے ہیں انکے پہلو میں لوگ پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں.. سر فہرست مین بازار گمبہ سکردو پچھلے اسد عاشورہ کے ایام میں بی ایس ایف کی طرف سے سبیل امام حسین ع کا اہتمام کیا تو ہمیں پتہ چلا کہ گمبہ سکردو کے مین بازار اور آس پاس کے محلوں میں پانی کئ سخت کمی ہیں… صبح سے بارہ بجے بازار کے اس طرف پانی کئ ٹائمنگ ہے اور سکینڈ ٹائم خانقاہ سائیڈ کے محلوں کو پانی دیا جاتا ہے. ہمیں اک اک دیگ میں پانی بھرنے کیلئے کافی مشکلات کا سامنا رہا… اسی طرح طفیل کالونی میں اگر آپ جائے تو آپ تھر پارکر کی صورتحال سے کم نظر نہیں آتے ہے.. پورے 800 گھرانوں کے لیے صرف تین نل ہیں وہی سے لوگ شام کے وقت قطاروں میں بیٹھ کے اپنی برتنوں میں ضرورت کے پانی بھر کے لے جاتے ہیں. اور گھروں میں کھانا پکانے اور دوسری ضروریات زندگی کے لیے استعمال کرتے ہیں.. یہی صورتحال کواردو, کلاں کے کچھ محلے, حوطو وغیرہ کے بھی ہیں…
سیاحتی مقامات میں صرف کچورا کے علاوہ باقی تمام علاقوں میں موجود اب بھی لوگوں کی نظر سے اوجھل ہیں. ان علاقوں میں اب تک کسی بھی نمائندے نے سیاحتی مقامات کے طور پہ تسلیم نہیں کیا اور آج بھی سڑک, صاف پانی, سگنل نا ہونے کی وجہ سے سیاح کئ توجہ حاصل نہیں کر سکی ان علاقوں میں میں چندہ, گنگس سنگے, تندل, بشو, شگری بالا, کتپناہ جھیل سر فہرست ہیں……………
ہمیں بحیثیت باسی اس علاقے کی تعمیر وترقی کیلیے سوچنا ہوگا.. مسائل کے حل کے لیے اتحاد و اتفاق سے اقدامات کرنا ہوگا…. ہمیں اس سکوت کو توڑنا ہوگا جو ہماری خامشی کیوجہ سے اک طبقہ ہی حکمرانی کر رہے ہیں ان کے سامنے سوالات رکھنی ہوگی.. ہمیں سائنسی بنیاد پہ فیصلے کرنے ہونگے… ہم نے مزہب کے نام پہ مزہبی پارٹیوں کو پچھلے کئی الیکشن میں ووٹ کے زریعے حق حکمرانی فی لیکن بدلے میں مایوسی اور غربت و بے روزگاری کے علاوہ کچھ نہیں دیا. سڑکیں آج بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہے, کوئی بھی سڑک پکی نہیں ہے سیاح کو اٹریکٹ کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیا. تعلیمی مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہی نہیں ہے…
ایم ڈبلیو ایم سے پچھلے پانچ سال کی کارکردگی پوچھیں ؟؟؟
پی پی پی سے اپنے ٹنیور کی ترقیاتی کام پوچھیں.. ؟؟؟
تحریک اسلامی سے پچھلے سال کے کونسل اور پچھلے ادوار کی عملی کارکردگی پوچھیں… ؟؟؟
ہم سب کو آزمانے کے بعد پھر بھی آنکھیں بند کر کے نمائندہ انتخاب کریگا تو آپ بھی اس گناہ میں برابر کے شریک ہونگے……
ووٹ دیں تعلیم کیلئے, صحت کیلئے, سیاحت کیلئے اور بنیادی سہولت کیلئے…

تحریر: قمر نجمی

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc