دوستی کا عالمی دن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں دوستی کا عالمی دن (30 جولائی ) کو منایا جاتا ہے،اس دن منانے کا مقصد دوستی کے زریعے امن کو فروغ دینا اور دوستی کی اہمیت کا اجاگر کرنا ہے۔

 

ورلڈ فرینڈ شپ ڈے منانے کی ابتداء 1919 کو ہوئی۔

’ورلڈ فرینڈشپ ڈے‘ منانے کا باقاعدہ آغاز 1958ء میں پیراگوائے سے ہوا لیکن بعد میں یہ دن دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کر گیا۔

2011 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دوستی کے عالمی دن ہرسال 30 جولائی کو منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس دن کو منانے کا مقصد بھائی چارگی ، امن کے فروغ ، باہمی انتشار کو دور، رشتوں کی مضبوطی اور دوسرے ملکوں ، قوموں اور دوسرے معاشروں کے درمیان تعلقات کو پروان چڑھانا ہے۔ زندگی میں دوستی کی اہمیت ایک انمول موتی کی طرح ہے۔ جس سے ہم اپنے گلے شکوے ، خیالات ، خواہشات اور دن بھر کی باتیں کرتے ہیں۔

واقعی  دوستی ایسا رشتہ  ہے جو  سونے  چاندی  ہر چیز سے مہنگا ہے کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ دوستانہ فطرت اور عادت کے لوگ زیادہ خوش اور چاک و چوبند رہتے ہیں۔

سب سے گھل ملنے والے اور دوست بنانے والے افراد محفل کی جان ہوتے ہیں۔ انسان چونکہ سماجی جانور ہیں، اس لیے اسکی فطرت میں ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں سے ملے اپنے خیالات اظہار کریں اور اسوقت یہ عمل بہترین ہوجاتا ہے جب سننے والا اسکا دوست ہوں۔

انسانی دوستی کا مطلب ہم دوسرے انسانوں کے لیے وہی سب چاہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں ، جس طرح اپنی ذات کیلئے انسان آرام ، عزت ، آزادی ، پیار وغیرہ چاہتا ہے ایسا ہی دوسرے انسانوں کے لیے چاہے۔ دوسروں کے حقوق کا احترام کرے۔

دوستوں سے ملنا آپ کو ذہنی طور پر پرسکون اور خوش کرسکتا ہے تاہم ماہرین کا دعویٰ ہے کہ دوست آپ کے درد کے لیے ایک قدرتی مداوا بھی ہیں کیونکہ درد کش ادویات کھانے کے مقابلے میں بڑا حلقہ احباب رکھنا زیادہ بہتر ہو سکتا ہے۔

 

27 اپریل 2011ء کو اقوام ِمتحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو ہر سال باقاعدگی کے ساتھ منانے کا فیصلہ کیا۔

دوستی انسان کے عزیز ترین رشتوں میں سے ایک ہے اور دنیا میں اصل غریب تو وہ ہے کہ جس کے پاس کوئی مخلص دوست نہیں ہے۔

ایسی صورت سے بچنا چا ہیئے کہ جس کے سبب دوست کو شرمندہ ہونا پڑے دوسری چیز جس سے بچنا چا ہیئے وہ یہ کہ دوست کو غصہ نہ دلائے.

 

دوستی کے بہت سارے فاہدے ہیں چند کا ذکر کرتا ہوں۔

دوستی انسان کی روح کیلئے غذا کی طرح ہوتے ہیں۔ دوستی برائی سے روکتی ہے۔ آپ ہمیشہ اپنانیت اور محفوظ محسوس کراتے ہیں۔ آپ کے ہر مصیبت میں کام آتے ہیں۔ دوستی سے آپ کو دنیا میں ایک ایسا جگہ مہیا کرتے ہیں جہاں بغیر روک ٹوک اور تضحیک کے رہ سکتے ہے۔ وہ تفریح کا ذریعہ بھی فراہم کرتا ہے۔ کسی بھی محفل میں آپ کی طرفداری اور حمایت سے دریخ نہیں کرتے۔ آپ کے کسی بھی فیصلہ سازی میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ جب کہیں بھی شرمندگی یا خوف محسوس کریں تو دوست ہمت دینے والا ہوتا ہے۔ دوست آپ کے معاشی اور سماجی مدد بھیفراہم کرتے ہے۔ کہیں بہکاوے کی صورت میں نصیحت کرنے والا دوست ہی ہوتا ہے۔

دوستی کے بہت سارے فاہدے ہونے کے ساتھ ساتھ نقصان بھی ہیں جیسے دوستوں کی وجہ سے مضر صحت کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ دوستی کی وجہ سے آپ کی صلاحیت میں کمی آجاتے ہے۔ دوست کے ذہن میں آپ کے بارے میں تصور غلط بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ آپ کے پوشیدہ راز وہ جانتے ہیں۔ دوست محفلوں میں چھیڑنے کی وجہ سے آپ کی تضحیک ہو جاتی ہے۔ دوستوں کے مقام یا حیثیت برابر نہ ہو تو ان کے دل میں عداوت پیدا ہو جاتی ہے۔ جب کسی دوست سے لڑائی یا جھگڑا ہو جائے تو آپ ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دوستوں کی وجہ سے معاشی بحران بھی پیدا ہو سکتے ہے۔ دوست کسی مصیبت کا شکار ہو تو الظام دوسرے دوست کے اوپر ڈالتے ہیں۔ کچھ دوست بے وفا ہوتے ہیں اور دوستوں کے راز افشا کر دیتے ہیں۔

دوستی کے فاہدے اور نقصانات کا علم ہونا ضروری ہے پھر آپ کے اوپر منحصر ہے کہ آپ کس طرف جاتے ہے۔ انسانیت کے ناطے دوستی بہت ضروری ہے۔ کسی بزرک نے کہا تھا ” دوستی گلاب کا گلدستہ نہیں ہوتے لیکن یہ میدان جنگ بھی نہیں ہوتے”۔

 

 

 

 

تحریر: ابوالحسن شگری

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc