ہمارا قصور کیا ہے؟

گلگت بلتستان کو دنیا بھر میں دلفریب اور دلکش سیاحتی مقامات، برف پوش بلند و بالا پہاڑوں اور بہادر محب وطن قوم کی وجہ سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ دنیا بھر سے لوگ یہاں سیر و تفریح کے لئے آتے ہیں اور ہمارے لوگ اپنے مہمانوں کی ہر ممکن خدمت کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان پاکستان کے وجود سے اب تک ایک متانازعہ حیثیت رکھتا ہے اور اب تو حال یہ ہے کہ نوجوانوں سے بزرگوں تک ایک بےچینی کی سی کیفیت ہے۔ ایک سوال ہمارے ذہنوں میں گونجتا رہتا ہے۔ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟؟؟؟ ہم وہ واحد قوم ہیں جو خود چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہمیں باضابطہ طور پر پاکستان میں شامل کیا جائے ہماری محرومیں کو دور کیا جائے۔ ہم مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کا حصہ نہیں ہیں۔ ہمارا کلچر ہماری زبان،ہمارا خطہ کشمیری نہیں ہے۔ ہم کشمیریوں کو اپنا بھائی تصور کرتے ہیں ان کی عزت کرتے ہیں مگر ہماری شناخت کشمیری نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کو الحمداللہ ایک الگ سیٹ اپ ملا ہوا ہے ان کا اپنا وزیراعظم صدر ہے اپنے اندورنی معاملات پر فیصلہ کرنے پر وہ خودمختار ہیں اور ہمیں اس بات پر خوشی ہے۔ ہماری صورت حال تو نہ تیتر کی ہے نہ بٹیر کی۔ ہماری قوم تو ایک عجب صورت حال میں ہے۔

ہمارے گلگت بلتستان پر نظر ڈالیں تو نہ یہاں پختہ سڑکیں ہیں،نہ صحت کا نظام ہے،نہ پینے کو صاف پانی ہے نہ نوکریاں ہیں نہ بجلی ہے بس نظر آتی ہے تو افسر شاہی۔ یہاں کی عوام غریب ہے اور عوام کے نوکر بڑی بڑی گاڑیاں لئے فرعون بنے بیٹھے ہیں۔ میرے اسکردو شہر کو ہی لے لیجئے نہ یہاں پکی سڑکیں ہیں،نہ بجلی ہے اور نہ ہی پیٹرول۔ عوام روزانہ خوار ہوتی ہے کبھی پیٹرول کے پیچھے کبھی روزگار کے پیچھے اور کبھی افسر شاہی کا مزہ لینے والے ملازموں کے دفتروں کے باہر۔ جان بوجھ کر میرے لوگوں کو دفتروں کے باہر انتظار کروایا جاتا ہے کہ صاحب ٹی بریک کر رہے ہیں کبھی صاحب میٹنگ میں ہیں اور کبھی صاحب دفتر میں ہی نہیں ہیں۔جناب افسر بادشاہ کی گاڑی سنگل روڑ پر آ رہی ہوتی ہے تو ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے لوگوں کو کچلتی ہوئی نکل جائے گی مجال ہے جو کسی گاڑی کو رستہ مل جائے۔ رستہ تو دور گاڑیوں کا آمنا سامنا ہو جائے تو صاحب بہادر کی گاڑی کچے میں کیوں جائے گندی جو ہو جاتی ہے بڑی مونچھوں والا گارڈ یا ڈرائیور چھاتی تان کر دوسری گاڑی کا اشارہ جو کرے گا کہ گاڑی سائڑ پر کرو صاحب گاڑی میں بیٹھے ہیں۔ ہمارے چھوٹے سے بازار میں صاحب بہادر کی بیگم یا بچے شاپنگ پر جائیں تو مجال ہے گاڑی بند یا سائڑ پر ہو بیچارے شہری کو ہی خاموشی سے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے اپنی آزادی کی جنگ اس لئے نہیں لڑ کر آزادی لی تھی کے ہم افسروں کی جی حضوری کریں۔ حکومت پاکستان ان کو تنخواہیں دیتی ہے ہم پر رعب ڑالنیں کے لئے نہیں ہماری خدمت کے لئے ہماری سہولت کے لئے ۔ اب ہم جی جناب نہیں کریں گے،ہم کوئی جاہل گنوار قوم نہیں گلگت بلتستان کے شہریوں نے شعبہ زندگی کے ہر میدان میں پاکستان کی خدمت کی ہے وطن عزیز کے لئے جانیں دی ہیں اب ایسا نا روا رویا بلکل برداشت نہ ہو گا۔ عوام کی خدمت کریں گے تو آپ کو سر آنکھوں پر بیٹھایں گے اور اگر اپنا کام نہیں کریں گے تو انشاء اللہ ہر فورم پر نا اہل اور عوام دشمن ملازموں کو عوام کے سامنے لائیں گے ۔ہم بھی پاکستانی کہلوانے کا حق رکھتے ہیں اور اپنے حقوق سے واقف بھی اور عوامی آگاہی مہم کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ہم بھیڑ بکریاں نہیں ہیں اپنے حقوق سے واقف ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا بھی جانتے ہیں کہ محکمے عوام کی خدمت کے لئے بنے ہیں اور ان کو عوام کو سہولت دینے کے لئے اپنے کام کرنے کی ضرورت ہے جس کی تنخواہ وہ حکومت پاکستان سے وصول کر رہے ہیں۔

تحریر عمران ذاکر

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc