ایک بنجارہ اور عجیب مخلوق

سوشل میڈیا نے فاصلے سمٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ، میلوں دور بیٹھا شخص نظروں سے اوجھل نہیں بلکہ اپ کے ساتھ ساتھ محو سفر ہے ، اپ جب چاہے اس سے گفتگو کر سکتے ہیں اپنا مسئلہ بیان کر سکتے ہیں بہت ممکن ہے کہ اگر خیالات اور نظریات کا تصادم نہ ہو تو بہترین دوست بھی بن سکتے ہیں ، لاکھوں ایسے لوگ ہمارے اردگرد موجود ہیں جو بظاہر ایک دوسرے سے شناسائی نہیں رکھتے ، تاہم وہ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو قریب سے جانتے ہیں اور غالباً بہترین دوستی بھی ہیں ۔
جہاں سوشل میڈیا نے سہل پیدا کی ہے وہی اس کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں ، حقیقت اور معلومات تک رسائی کے لئے اس کے استعمال سے بہتر معاشرے کی تکمیل ممکن ہو سکتا ہے اور بکھرا ہوا شیرازہ پھر سے سمٹ سکتا ہے اور ایک نا مکمل اور زوال پزیر معاشرے کی تشکیل میں آسانی ہو سکتی ہے ۔
انسان جب شہرت کا بھوکا ہوتا ہے تو پھر اچھے اور برے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے ، یہاں سے مقابلے کا دوڑ شروع ہو جاتا ہے ، مقابلے کے فریقین ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ، اور اگے نکل جانے کے لئے درکار تمام لوزمات کو بروئےکار لانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
سوشل میڈیا کے توسط سے بہت زیادہ سیکھنے کو ملا اچھے دوست بنے اور بدستور ان سے رابطے میں ہیں، ہر دن نئی چیزیں دیکھنے کو مل رہی ہیں ، کچھ دن قبل ایک نوجوان ”ناصر اللہ بیگ جس سے ہماری قربت اور شناسائی صرف سوشل میڈیا کے حد تک ہیں “ نے بھرچھے تیر یاسین نازبر میں موجود ایک پھتر کی تصويريں پہلی بار شوشل میڈیا پر لے ایا ، اس سے قبل اس پتھر سے جڑی قصے کہانیاں ہی سنی تھیں ، غالباً اس پتھر تک رسائی ماضی قریب میں صرف شکاریوں کو ہی تھا ، جو شکار کے غرض سے وہاں کا خاک چھانتے تھے ، قبل مسیح سے اس پھتر پر بنے اشکال عام انسانی آنکھ سے پوشيده تھیں۔
ناصر اللہ بیگ ایک ابھرتا ہوا نوجوان ہیں جس کا تعلق یاسین سے ہیں تگڑا اور خوبرو ہیں لیکن اس نوجوان کی خوبی یہ ہے کہ یہ ایک مشن پر ہیں، پہاڑی سلسلے تلاش کر رہا ہے نئی چیزیں نئی جھیلوں کو دریافت کر رہا ، یاد رہے یہ سارا کام یہ نوجوان اپنے خرچے پر کر رہا ہے، کوئی حکومتی امداد یا کوئی بھی این جی او اس کی معونت نہیں کر رہا ، یہی نہیں بلکہ ستم ظرفی کی بات یہ ہے کہ اس کے کام کی تعریف کرنے کو کوئی تیار نہیں الٹا اس کی محنت کو بھی سستی شہرت کے لئے اپنے نام سے منصوب کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے کتنی شرم کی بات ہے ۔
کچھ عشرہ قبل میں نے اس نوجوان کو پرائیوٹ مسیج کر کے سمجھایا تھا کہ اپ اپنے کام کو ایسے ہی سوشل میڈیا پر نہ لائیں کیونکہ اپکی تصويريں اور اپ کا کام چوری ہو رہا ہے ، مگر شومہ قسمت کہ نوجوان نے میری نصیحت کو ہوا میں تحلیل کر دیا ، اور آج لوگ اس کے کام کو لے کر پیسے اور شہرت کمانے میں لگے ہیں ، باہر سے لوگوں کو ریسرچ کے حوالے سے یہاں لانگے اور فائده ضرور ہو گا۔
بات کرتے ہیں اس تاریخی پھتر کے حوالے سے ، میں ذاتی طور پر ان نایاب نقش و نگار کے یوں سوشل میڈیا پر انے سے خوش نہیں ہوں ، خوش اس لئے نہیں ہوں کہ دیامر میں آثار قدیمہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بعد قوی امکان ہے کہ کوئی بھی قدیمی چیز یہاں محفوظ نہیں رہ سکتا کیونکہ کچھ حلقوں کو ہماری تاریخ اور اس سے جڑی ہر چیز سے خوف اور خطرہ محسوس ہوتا ہے وہ ہر گز نہیں چاہتے کہ ان نایاب قدیمی اشکال کو لے کر ہم بھی عظیم قوم بن جائے ، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اشکال ہمارے وجود کا پتہ دیتی ہیں اور دوم یہ کہ ہمارے پشتنی ہونے کا ثبوت ہے تیسرا یہ کہ ان کی وجہ سے ہمارا شمار بھی دنیا کے قدیم انسانوں میں ہوتا ہے ، اس لئے کچھ حلقے کسی بھی طریقے سے اس کو مٹانا چاہئتے ہیں۔
حالیہ دریافت ہونے والے اس پھتر پر بنے اشکال کی عمر کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ دوسرے میلنیم یا اس کے آس پاس میں بنے ہیں کیونکہ یہ اشکال بدھ مت ،اور زرتشت مذہب کے وجود سے پہلے کے ہیں تاہم اس پر ماہرین ریسرچ کے بعد ہی کچھ کہہ سکتے ہیں ۔
تحریر : ظفر اقبال

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc