بلتستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہر تعلیم، معروف ادیب اور شاعر پروفیسر حشمت کمال الہامی وفات پاگئے.

سکردو (ٹی این این) پہاڑی سلسلے چاروں طرف اور بیچ میں ہم ہیں / مثال گوھرنایاب ہم پتھر میں رہتے ہیں
گلگت بلتستان کی نئی نسل کا پسندیدہ اس شعر کے خالق معروف شاعر، مصنف اور ادیب پروفیسر حشمت کمال الہامی کرونا وائرس سے لڑتے لڑتے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اطلاعات کے مطابق ان کا گذشتہ ہفتے کرونا کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا ۔ پہلے عبد اللہ ہسپتال میں زیر علاج رہے اور طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انتقال سے دو دن قبل ان کو سی ایم ایچ سکردو منتقل کیا گیا تھا جہاں دوران علاج جانبر نہ ہوسکے اور خالق حقیقی سے جاملے۔‬ مرحوم بلڈپریشر اور عارضہ قلب کے بھی مریض تھے ۔ مرحوم کے پسماندگان میں چار بیٹے اور چار بیٹاں شامل ہیں اور چاروں بیٹے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بیروزگار ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ انکے علمی خدمات کی بنیاد پر ان کے اولادوں کو روزگار فراہم کریں.
تفصیلات کے مطابق مرحوم کا نام حشمت علی اور تخلص کمال تھا. الہامی شاعری کی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ الہامی کا لاحقہ بھی استعمال کرتے تھے۔ ان کے والد کا نام وزیر غلام حیدر تھا اور وہ سکردو کے مضافاتی گاؤں کواردو کے محلہ زگنگ میں 18 اگست 1955 کو پیدا ہوئے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc