گلگت بلتستان اگر صوبہ ہے تو ٹیکسیشن کا نفاذ ضروری ہے مگر حقیقت توکچھ اور ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

گلگت( تحریر نیوز) کسی بھی ملک یا خطے کے معاملات کو چلانے کیلئے بہتر ٹیکسیشن کا نظام ترقی کی ضمانت ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں غربت اور بیررزگاری کی اصل وجہ قانون پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ اس وقت پاکستان میں بہترین ٹیکسیشن نظام ہونے کے باوجود کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے ٹیکس چوری ایک فیشن بن چُکی ہے۔ لیکن جب ہم گلگت بلتستان میں ٹیکسیشن کے حوالے بات کریں تو ہمارے عوام اور حکمرانوں نے کبھی اس مسلے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے پیچھے کس قسم کے عوامل کارفرما ہیں کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان آج بھی بین الاقوامی سطح پر ایک متنازعہ خطہ ہے اس خطے کی حیثیت اور جموں کشمیر،لداخ اور آذاد کشمیر میں کوئی فرق نہیں اور اس حیثیت کو اُس وقت تک کوئی ختم نہیں کیا جاسکتا جب تک مسلہ کشمیر کی حل کیلئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری نہیں ہوتے یہ مدعہ صرف گلگت بلتستان کے عوام کا نہیں بلکہ حکومت پاکستان کا بھی موقف ہے اور باقاعدہ طور پر اقوام متحدہ میں اس حوالے کئی یاد داشتیں جمع کی ہوئی ہے۔ یہی وجہ سے کہ گلگت بلتستان مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے عبوری طور پر پاکستان کے زیر انتظام ہیں اور اس انتظامی سیٹ اپ کو 2009 میں صوبائی طرز کی سیٹ کے نام سے متعارف کرایا لیکن اس طرزی سیٹ اپ میں صوبائی اخیارات حاصل نہیں ہے اور حاصل ہونا ممکن بھی نہیں۔ مگر گلگت بلتستان کی حکومت بشمول مقامی میڈیا گلگت بلتستان کے عبوری انتظامی سیٹ اپ کو باقاعدہ صوبائی سیٹ اپ لکھتے ہیں لیکن پاکستان نے بین الاقوامی طور پرگلگت بلتستان کو بطور ایک خود مختار ریاست ڈکلیر کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانونی طور پر گلگت بلتستان میں تاوقت رائے شماری تک ٹٹیکسیشن کا نظام نافذ نہیں کیا ہوسکتا اور نہ ہی وفاق سے ملک کے دیگر صوبوں کی طرح اپنے حقوق کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ مقامی حکومت وفاق پاکستان سے حقوق لینے میں تو بلکل ہی نام کام دکھائی دیتا ہے مگر متنازعہ خطے کے عوام پر غیر قانونی بلواسطہ بلاواسطہ ٹیکسز نافذ کرنے میں وفاق سے بھی آگے نظر آتا ہے لہذا گلگت بلتستان کے حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد ضروری ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc