مہمان نوازوں کی دھرتی دیامر عید مبارک

تانگیر، داریل، کھنبری، تھور، ہڈر، ہربن شتیال، ڈوڈشال، چلاس، کھنر، بٹوگاہ، گینی، گیس، بونرداس، گونرفارم، گوہرآباد، تھلیچی اور خاص کر چلاس کے سونیوال کو عید مبارک اور آپ کی طرف سے عید کی مبارکباد لے کے میں ابھی محاز پے جارہا ہوں” یہ الفاظ فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود خان کے تھے جو اچانک عید کے نماز پڑھنے چلاس شہر میں واقع ائیرپورٹ والی عید گاہ میں تشریف لائے، خطبہ جمعہ کے بعد نمازیوں سے اپنے مختصر اور جامع خطاب میں افواج پاکستان کے جانب سے اہل دیامر کو عید کی مبارکباد دی۔ اپنے خطاب میں اس نے کہا دیامر میں تین خصوصیات ہیں

1) محب وطن

2)بہادر

3) پرامن اور مہمان نواز ہیں۔

یہ چند باتیں جس کا جنرل صاحب نے بڑی وضاحت کے ساتھ زکر کیا اس لئے بھی اہم تھا کہ چند لوگ ایک مبینہ آپریشن کو آڑ بناتے ہوئے دیامر میں فوجی آپریشن کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پچھلے ہفتے چلاس کے نواحی علاقے رونئی میں سی ٹی ڈی پولیس کی غلط معلومات کی بنیاد پر کی گئی آپریشن جس میں 7 قیمتی جانیں ضائع ہوگئی اور اتنے ہی زخمی بھی ہوئے، اس آپریشن نے کاؤنٹر ٹیرریزم ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی کھل کے سامنے لے آئی، اس آپریشن میں شہید ہونے والے اظہار اللہ کو اسی سی ٹی ڈی (CTD) نے ایف آئی آر میں بے گناہ قرار دیا جبکہ خطے کا ایک مدبر سیاست دان حاجی فدا محمد ناشاد (سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی ) نے اسے دہشتگرد قرار دیا اور پولیس شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔ موصوف کے بیان سے پورے دیامر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا اسی اثناء میں جنرل صاحب کا عید ملن اور پھر مختصر خطاب علاقے کے ساتھ لازوال محبت بھی اور نیک شگون بھی مانا جاتا ہے۔

دیامر سے بغض رکھنے والے چند نام نہاد سوشل میڈیا مفتیان کا دیامر میں فوجی آپریشن کا ایسا مطالبہ سامنے آیا جیسے خدانخواستہ یہاں سب سے بڑے ریاست مخالف دہشتگرد رہتے ہوں خیر جنرل صاحب کا بیانیہ ایسے لوگوں کے منہ پر طمانچہ تھا۔

اہل دیامر لہجے کے اعتبار ترش، زبان کے سخت ضرور ہیں لیکن دل کے انتہائی صاف، بات کے پکے، مہمان نواز، بہادر اور محب وطن ہیں۔ ارض شمال کا ایک عظیم دانشور دیامر کا کچھ یوں زکر کرتے ہیں۔

 

دیامر گرچہ خوں آشام ہے تند خو بھی ہے

دامن پربت کی گلشن میں مگر خوشبو بھی ہے

ترش لہجوں کی زمیں۔پر دوستو بس خال خال

مضطرب کچھ دل ہیں جن میں شاعرانہ خو بھی ہے.

شمالی جنرل احسان محمود نے کہا کہ ملک کے دیگر اداروں کے تعاون سے ہم علماء، نوجوان اور علاقے کے عمائدین سے مل کے دیامر کا امن برقرار رکھیں گے، دیامر کا امن پورے خطے کے لئے ناگزیر ہے دیامر پر امن رہے گا تو گلگت بلتستان پر امن ہوگا۔انہی الفاظ کے ساتھ وہ نوجوانوں سے عید ملنے اگلے مورچوں کی طرف روانہ ہوگئے۔

 

 

 

تحریر۔۔۔۔ عبدالھادی ودود

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc