عالمی وبا اور ایک شاہراہ سے بندھی بلتستان کی شہ رگ

ابھی ابھی یہ جاں گداز خبر ملی کہ بلتستان کے چمنستان ادب کا سب سے خوبصورت پھول عالمی وبا کی باد صرصر سے ہمیشہ کے لئے مرجھا گیا۔ یہ اس باغ کا وہ سدا بہار شجر سایہ دار تھا جس نے پنی آغوش تربیت میں کتنے ہی خوبصورت کلیوں کو کھلنا اور خوشبو بکھیرنا سکھایا تھا۔ پروفیسر حشمت علی کمال الہامی، الہامی کمالات کے حامل ایک عالی شخصیت تھے جن کے سائے سے آج بلتی یول اور ادب محروم ہو گیا۔ ان کے دائمی رخت سفر باندھنے سے جو علمی اور ادبی خلا پیدا ہوا ہے وہ مدتوں ہمیں ان کی کمی کا احساس دلاتا رہے گا۔
پروفیسر حشمت صاحب ایک چشمہ فیض تھے جس سے گلگت بلتستان کے ہزاروں تشنگان علم سیراب ہو چکے ہیں۔ وہ ادبی اور شعری محافل و مجالس کی جاں تھے اور جہاں بیٹھتے تھے وہیں انجمن سجا دیتے تھے۔ مرحوم چونکہ میرے آبائی گاؤں کواردو سے تعلق رکھتے تھے اس لئے میں ان کو شعوری عمر سے ہی جانتا تھا۔ خوش کلامی، بذلہ سنجی، تقریر و تحریر، زبان دانی و زبان شناسی اور ادب آفرینی و ادب پروری جیسے معنوی کمالات سے مزین کمال تخلص رکھنے والا یہ شاعر بچپن سے میرے لئے الہام (inspiration) کا باعث رہے ہیں۔ شاید اس لئے کہ کواردو کی تاریخ میں حشمت صاحب وہ پہلی شخصیت تھے جو پروفیسر کے درجے پر فائز ہوئے تھے اور دیگر طالب علموں کے لئے مشعل راہ تھے۔ جب سکول کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ڈگری کالج سکردو میں قدم رکھا تو ان سے علمی اور ادبی طور پر کسب فیض کرنے کا موقع ملا۔ مجھے کالج سے فارغ ہوئے 25 سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن آج تک ان سے عقیدت کا رشتہ قائم تھا۔ آج ان کی یوں داغ مفارقت دینے پر دل بہت افسردہ ہے۔
ابھی دو دن قبل ہی ایک اور اندوہناک خبر ملی تھی کہ مشہور ماہر تعلیم و سماجی رہنما جناب حسن اسماعیل صاحب بھی اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ سر حسن اسماعیل کواردو لوئر ہائی سکول میں میرے زمانہ طالب علمی کے دوران ہمارے اسکول کے سب سے پہلے ہیڈ ماسٹر تھے ۔ بہت قابل اور شفیق استاد تھے اور مجھے ان کی شاگردی کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔ حسن اسماعیل صاحب بعد میں ڈپٹی ڈائرکٹر محکمہ تعلیم کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے۔ ان کی اچانک وفات سے بھی دل بہت رنجیدہ ہے۔
اس کے علاوہ گذشتہ دنوں بلتستان کا ایک اور درخشاں ادبی ستارہ اور تمام سرکاری اور نجی محافل کی روح رواں جناب احسان دانش صاحب بھی اس عالمی وبا کے زیر اثر شدید علیل رہے البتہ بھلا ہو عسکری حکام بالا کا جنہوں نے بروقت سی ایم ایچ سکردو میں ان کے علاج و معالجے کے لئے وسائل اور انتظامات فراہم کئے جس کے سبب یہ گل صد برگ دستبرد خزاں سے محفوظ رہے۔ اللہ ان کو لمبی عمر اور صحت و سلامتی عطا کرے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق بلتستان ریجن میں اب تک 426 افراد کوویڈ 19 سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 326 مریض صحت یاب اور مصدقہ طور پر 14 مریض اس بیماری کے زیر اثر وفات پا چکے ہیں۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت بلتستان میں 86 ایکٹیو مریض ہیں جن میں سے 15 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور ان میں سے 7 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
پچھلے مہینے میرے ایک باخبر قریبی دوست بھی بیمار ہوئے تھے ( اللہ ان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے) ۔ کئی دن عبد اللہ ہسپتال میں زیر علاج رہے اور آخر اس بیماری کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے اپنی بیماری کے دنوں میں اور بعد میں بھی یہ عندیہ دیا تھا کہ بلتستان میں کوویڈ 19 اور ٹائیفائڈ دونوں بیماریاں بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں لہذا ان سے نمٹنے کے لئے وسیع پیمانے پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر اہالیان بلتستان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کے ان خدشات کا عملی مظاہرہ پچھلے کئی دن سے دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آئے دن کسی نہ کسی کے انتقال کی خبر سننے میں آرہی ہے جس سے مسئلے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی قربانیاں اور خدمات اور محکمہ تعلیم کی کاوشیں اپنی جگہ قابل قدر ہیں ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ لیکن سہولیات اور فنڈز کی کمی کے سبب سکردو سمیت پورے بلتستان میں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں تشخیصی آلات ، لیب اور علاج معالجے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس وبائی صورت حال میں مریضوں کی جان بچانے کے لئے آکسیجن کی فراہمی بھی مشکل سے دوچار ہے۔ کوویڈ مریضوں کے لئے ٹیسٹنگ کی سہولیات بھی ناکافی ہیں جس کے سبب کئی کئی دن تک مشتبہ مریضوں کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صرف سی ایم ایچ میں کچھ بہتر سہولیات میسر ہیں لیکن وہاں علاج کرانا ہر کسی کے بس میں نہیں ہے۔
ان تمام صورتحال میں ایسا محسوس ہوتا ہے بلتستان ایک احتمالی آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا ہے جس کے پھٹنے کی صورت میں ہم صرف اپنی بے بسی پر ماتم ہی کر سکتے ہیں۔ بلتستان ایک خطرناک شاہراہ کے ذریعے ملک کے باقی حصوں سے جڑا ہوا ہےجو بلتستان کے لئے لوجسٹک سپورٹ کا واحد ذریعہ ہے۔ غذائی مواد، ادویہ جات، پٹرول اور دیگر اشیا کی ترسیل کا انحصار اور باقی ملک سے رابطے کا دارومدار اسی واحد سڑک پر ہے جبکہ دیوسائی والی سڑک ایک لحاظ سے محدود ہے اور دوسرا یہ کہ موسم کے رحم و کرم پر ہے اس لئے قابل اعتبار نہیں ہے ۔ لہذا خدا نخواستہ کسی ناخوشگوار واقعہ یا ہنگامی حالات میں یہ واحد راستہ بند ہوجائے اور خوراک، ادویہ جات، پٹرول اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل زیادہ مدت کے لئے بند ہو جائے تو ہمیں ہر لحاظ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ چنانچہ ان خدشات کے پیش نظر اور علاقے کی جیو پولیٹیکل اہمیت کے سبب درج ذیل معاملات پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کسی بحرانی صورتحال سے بچا جا سکے۔
الف۔ صحت کی سہولیات:
صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن مجموعی طور پر بلتستان میں طبی سہولیات اور سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار بہت خراب ہے۔ ہسپتالوں میں سہولیات کے فقدان کے ساتھ ساتھ گنجائش سے زیادہ مریضوں کا دباؤ بھی ہے۔ سکردو ڈسٹرکٹ ہسپتال ہی بلتستان کے چاروںاضلاع کی امیدوں کا آخری مرکز ہے۔ بعض طبی تشخیص اور ٹیسٹ وغیرہ اورپیچیدہ امراض کے علاج اور معالجے کے لئے اسلام آباد یا بڑے شہروں کا رخ کرنے کے علاوہ لوگوں کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا جو ہر کسی کے لئے ممکن نہیں ہے لہذا جو ان بڑے شہروں میں علاج معالجے کی سکت نہیں رکھتے وہ وہیں بیماریوں سے لڑتے ہوئے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں۔ سطح سمندر سے بلندی پر ہونے کے سبب آکسیجن کی کمی اور سردی سے مربوط امراض اور ناقص خوراک سے پیدا شدہ بیماریوں نے بلتستان میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں ایسی صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ :
1. سرکاری اور نجی معاونت سے فوری طور پر سکردو میں ایک آکسیجن پلانٹ لگایا جائے اور بلتستان میں آکسیجن کی ضرورت کو مقامی طور پر پورا کیا جائے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں ہمیں دیگر شہروں سے درآمد شدہ گیس سلینڈر پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
2. جدید آلات اور اوزار پر مبنی ایک جامع تشخیصی لیب کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں ہر طرح کی تشخیص اور ٹیسٹ کرانا ممکن ہو تاکہ غریب عوام کو ہیپاٹائٹس کے ٹیسٹ کرنے کے لئے بھی اسلام آباد نہ جانا پڑے۔نیز بلتستان کے ہر ضلع اور دور دراز علاقوں میں اس کے کلیکشن پوائنٹس بنائے جائیں۔
3. وبائی اور دیگر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مختلف مقامات پر آئی سی یو سینٹر اور ایمرجنسی وارڈز قائم کئے جائیں۔
4. کوویڈ 19 کی ٹیسٹنگ سہولت تمام ضلعی ہسپتالوں میں فراہم کی جائے اور سردیوں میں بیماری میں شدت کے خدشے کے پیش مناسب اقدامات کئے جائیں۔
5. دنیا کے ہر معاشرے میں جسمانی بیماریوں کے علاوہ نفسیاتی بیماریوں کے علاج و معالجے کے لئے مراکز اور ہسپتال موجود ہوتے ہیں تاکہ نفسیاتی مسائل کا بروقت حل تلاش کیا جا سکے ۔ بلتستان میں نفسیاتی مسائل اور بیماریوں کی شرح تشویش ناک حد تک زیادہ ہے اور لوگ اپنے عزیزوں کے علاج معالجے کے لئے پریشان ہیں لیکن کوئی نفسیاتی بحالی مرکز سرے سے موجود ہی نہیں ہے لہذا کم از کم ایک نفسیاتی ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جائے۔
ب۔ تیل کا ڈپو:
ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہ مشاہدہ کرتے آرہے ہیں کہ پنڈی سکردو روڈ پر جب بھی کوئی بندش پیش آتی ہے سکردو سمیت پورے بلتستان میں ایک ہنگامی صورتحا ل پیدا ہوتی ہے اور پٹرول کے حصول کے لئے لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ۔ پٹرول کے عدم دستیابی کے علاوہ پٹرول کی چور بازاری اور قیمتوں میں ناجائز اضافہ لوگوں کے لئے عذاب بن جاتا ہے۔ خدا نخواستہ تیل کی فراہمی زیادہ عرصہ معطل رہے تو بلتستان میں نظام زندگی درہم برہم ہوجائے گا اور معاشی نظام تباہ و برباد ہو جائے گا۔ سرحدی علاقہ ہونے کے سبب بھی تیل کی ہمہ وقت فراہمی اور ترسیل نہایت ضروری ہے اس لئے مقامی سطح پر تیل کے ڈپوز بنائے جائیں جہاں کم از کم دو مہینے کے استعمال کے لئے ذخیرہ موجود ہو۔
ج۔ صحت بخش خوراک کی ترسیل:
بلتستان ایک زرعی علاقہ ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ تمام تر غذائی مواد اور اجناس دیگر شہروں سے درآمد کی جاتی ہیں۔بلتستان آبادی کی کثرت اور مقامی لوگوں کی سستی اور زرعی امور سے کنارہ کشی کے سبب خوراک کے معاملے میں مکمل طور پر ایک انحصاری علاقہ بن چکا ہے۔ یہاں زرعی اور صنعتی غذائی پیداوار کی شرح بہت کم ہے جس کے سبب ہم ایک آمدنی کا بڑا حصہ خوراک کے حصول کے لئے خرچ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود تشویشناک بات یہ ہے کہ بازار میں دستیاب بالعموم تمام غذائی مواد غیر معیاری اور مضر صحت ہیں جس کے سبب بلتستان میں دل، شکم، جگر اور دیگر موذی بیماریوں اور اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔
لہذا مقامی سطح پر غذائی پیداوار بڑھانے پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ باہر سے درآمد شدہ غذائی مواد کے معیار کو بہتر بنانے اور مضر اشیائے خورد و نوش کی ترسیل کو روکنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔
بلتستان کے مسائل اگرچہ بے شمار ہیں لیکن درج بالا مسائل کے حل پر یہاں کی زندگی کا دارومدار ہے لہذا صوبائی و وفاقی حکام بالا سے درخواست ہے کہ درج بالا تجاویز سے ہمدردی اور انسان دوستی کی نظر سے غور کریں کیونکہ اہالیان بلتستان کی زندگی کو ایک روڈ کے انحصار پر بے یار و مددگار چھوڑنا کسی بڑے انسانی المیے کا باعث بن سکتا ہے۔
تحریر: ڈاکٹر نذیر بیسپا

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc