حلقہ تین کا سیاسی محاذ

حلقہ نمبر تین کا گلگت بلتستان کے الیکشنز میں نمایاں کردار رہا ہے. حلقے میں ماضی کا ووٹنگ ٹرن آوٹ بھی باقی حلقوں سے بہتر رہا ہے. لیکن پچھلے الیکشنز میں حلقے کی عوام میں ایک جنون تھا پتا نہیں وہ جابر خان جابر کے گائے ن لیگ کے ترانے کی وجہ سے تھا یا پھر آپنے 15 سال سے گمشدہ پہلے جیتے ہوئے کنڈیڈیٹ کی وطن واپس پر تھا. دنیور کا نعرہ لگا اور جنونی و جیالے ایک ہوگئے اس اسنا میں مذہبی بنیاد پسند بھی پیچھے نہ رہے اور کافی ووٹ کیش کر لیا. بہت سے امیدوار سامنے آئے اور کافی ڈاکٹر اقبال کے حق میں ڈرا بھی ہوئے، قومی و فرقے کی بنیاد پر ووٹ کو تقسیم کرنے کا رواج برسوں سے چلا آ رہا تھا اور تب بھی خوب چلا لیکن بیشتر مزہبی بنیاد پسندی کی نظر ہوا. اور دنیور کا نعرہ لگا کر ڈاکٹر اقبال نے بازی مار لی. آنے والے الیکشن کا بھی حلیہ پچھلے سال ہی کی الیکشن اسٹرٹجی کو زیب تن کیےہوئے ہے. ڈاکٹر اقبال نے جو وعدے کئے بہت سے وفا کئے. اور اب وہ بحیثیت آزاد امیدوار لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں. حلقے میں ان کا سب سے اہم پراجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے. اور وہ اس پراجیکٹ کو اپنی الیکشن اسٹریٹجی کا حصہ بناتے ہیں یا پھر مکمل ہونے پر علاقے کو جلد اس سے فیضیاب ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں. وہ ان کی الیکشن اسٹرٹجی بتائے گی. کہیں ڈاکٹر اقبال کا آزاد الیکشن لڑنے کا فیصلہ دنیور جو کی ان کا ووٹ بینک ہے کا ووٹ تقسیم کرنے کے متحمل تو نہیں؟ کیوں کی ان کی ماضی کی جماعت کا اگلا کنڈیڈیٹ دنیور سے ہو سکتا ہے. ایک اور قابل زکر امیدوار جو جب سے سیاست میں آئے ہیں کبھی جیتے نہیں ہیں لیکن ان کا اعزاز یہ ہے کی ہارنے کے باوجود بھی اسمبلی کے نہ صرف ممبر رہے ہیں بلکی اسمبلی کی اپوزیشن لیڈر کی اہم نشست بھی بخوبی سنبھالی ہے. اس بار ان کے جیت کا ستارہ بھی روشن ہے اور خوب آب و تاب سے جیت کے لیے میدان میں اترے ہی تھے کی انہی کے گاوں سے ایک اور جانی مانی کاروباری شخصیت نے بھی الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا جو کی اپنے پوئنٹ آوف ویو سے سوشل میڈیا پر کا فی مشہور ہیں. اور ان کا فیملی فرنڑز سرکل خاصا بڑا ہے. نہلے پے دہلا یہ کی ماضی کے الیکٹبل اور پی پی پی کے سابق صدر سید جافر شاہ جو کی اب پی ٹی آئی کے صدر بھی ہیں نے خود حلقے کی ایک بار پھر باگ ڈور سنبھالنے کے لیے کمر کس لی ہے. بہت سے لوگوں کا خیال ہے کی الیکشن شاہ صاحب جیتینگے اور بہت سارے لوگ ایک بار پھر ڈاکٹر کی جیت کے لیے پر امید ہیں وہی شفی گروپ بھی پیچھے نہیں، دنیور کی بڑی فیملی جو کی اس بار اپنا امیدوار میدان میں اترنے کی خواہاں ہے جو انہوں نے پچھلی بار ڈاکٹر اقبال کے حق میں ڈرا کرا دیا تھا. وہی موسمی سیاستدان سستی شہرت کے لئے سوشل میڈیا پر اعلانات کر رہے ہیں ان کا حاصل وصول الیکشنز کے اختتام پر اختتام پذیر ہوجائے گا. پی پی پی کا ووٹ بینک جو کی ایک قومی برادری تصور کیا جاتا ہے ان کا شاہ صاحب کا ساتھ دینے کا اعلان حلقے سے پی پی پی کو ٹف ٹائم دے سکتا ہے. اب ایم ڈبلو ایم کے کنڈیڈیٹ کا اعلان ہونا باقی ہے جو کی پچھلے الیکشن پی ٹی آئی کے ساتھ الائنس میں لڑی اب کہ بار بھی ممکن ہے شاہ صاحب کا ساتھ دے، اگر دنیور سے دوسرا امیدوار میدان میں اترتا ہے تو ڈاکٹر اقبال کا ستارہ گردش میں آسکتا ہے وارنہ ان کے جیت کے آثار نمایاں ہیں. حلقہ تین کا محاذ وہی سر کر پائے گا جو حلقے کا ووٹ بینک دنیور کو پورا نہیں تو کچھ نواہی علاقوں کے ووٹ کے ساتھ آپنا کر لے گا. اب دیکھنا یہ ہے کی حلقے کی عوام فیس چینج چاہتی ہے یا روایتی چہروں کو پھر سے گھوڑی چڑھاتی ہے. کیوں کی فیصلہ آپ کے ووٹ نے کرنا ہے. آپنے حق رائے دہی کا استعمال بہت محتاط رہ کر کریں کیوں کی انہیں آپ نے آگلے پانچ سال جھیلنا ہے چاہے جیتا امیدوار آپ کا ہو یا وہ جیسے آپ نے ووٹ نہیں کیا.

 

 

تحریر: انیس بیگ

 [email protected]

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc