سانحہ چلاس نے کٸی سوالات جنم دٸےہیں

28 جولاٸی 2020 کو سی ٹی ڈی(کاونٹر ٹیریزم ڈپارنمنٹ کے جوانوں نے رات 2 بجے چلاس شہر کی قریب ہی رونٸ میں کارواٸی سے 7 قیمتی جانیں ضاٸع ہوٸے ہیں۔اور 4 جوان شدید زخمی ہوٸے ہیں۔اس کاروٸی کے بعد سی ٹی ڈی حکام کی پروفیشنل قابلیت پہ کٸ سوالات نے جنم لیا ہیں۔سی ٹی ڈی پولیس عام پولیس کی طرح عام فورس نہیں ہے بلکہ یہ فورس انٹلی جنس اداروں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کاروٸی کرتی ہیں۔جن سوالات نے جنم دیا وہ سینکڑوں کے حساب سے ہیں لکین میں چند سوالات کو یہاں پہ لکھ دیتا ہوں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
١۔۔پہلا سوالیہ نشان یہ بن گیاکہ 5جوانوں کی شہادت پہ ان کے پیشہ وارنہ مہارت سوالیہ بن گیا؟
2..دوسرا سوالیہ نشان مخبری کے حوالے سے بن گیا کہ آیا مخبر کی مخبری غلط تھی یا صیح اور مخبر کی حثیت کیا تھی؟
3…تیسرا سوالیہ نشان یہ بن گیا کہ جس گھر پہ دہشت گرد سمجھ کر اپریشن کیا تھا اس میں ایک نمل یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ اور دوسرا بلاک بنانےکا کام کرتاتھا۔یہ دو دہشت گرد تھے تو یہ تو دن کےاوقات میں بھی گرفتار کیاجاسکتاتھا۔
5۔۔پانچواں سوالیہ نشان یہ بن گیا کہ سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے چھاپے کی حکمت عملی کیوں نہیں اپنایا؟
6….چھٹا سوالیہ نشان یہ بن گیا کہ جاں بحق افراد کےپاس اسلحہ نہیں تھا بقول مقامی افراد۔ تو پھر سی ٹی ڈی کے پانچ اہلکاروں کو شہید کس نے کیا؟
7…..ساتواں سوالیہ نشان یہ بن گیا کہ اگر دیشت گرد تھےتو ان کے اسلحہ عوام کے سامنے کیوں نہیں لاٸے۔

8….آٹھواں سوالیہ نشان یہ بن گیا کہ سی ٹی ڈی جس جگہ کارواٸی کرتے تھے تو اس جگہ کو گہرے میں کیوں نہیں لی؟
10…دسواں سوالیہ نشان یہ بن گیا کہ قتل کیاگیا اظہاراللہ کے خلاف کسی بھی تھانے میں آیف آٸی آر تک درج نہیں تھی؟
11…گیارواں سوالیہ نشان یہ بن گیا کہ پولیس کے لاش گھر کے اندر اور طالب علم کے لاش گھر سے باہرتھی؟
12…بارواں سوالیہ نشان یہ بن گیا کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے مقامی پولیس کو اعتماد میں لیے بغیر اتنے بڑا آپریشن کیوں کی؟
13…تیرواں سوالیہ نشان یہ بن گیا کہ دو کم عمر بچوں نے پولیس کا اتنا بھاری نقصان کیسےپہنچایا؟
14…چودہواں سوالیہ نشان یہ بن گیا کہ کارواٸی کے بارے میں مقامی پولیس سے پہلے صوباٸی ترجمان کو کیسےپتہ چلا؟
15..پندرواں سوالیہ نشان یہ بن گیا کہ کہیں اس کھیل میں دشمن کا ہاتھ تو نہیں ہے؟
اب میں کتنے سوالات گنوں جتنا زیادہ آج کے واقع کے تحقیق کروں اتنا زیادہ سوالات جنم لیتے ہیں۔اس سارے واقعات ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کی ضرورت ہیں اور شفاف تحقیقات ہونے چاہیں کہیں اس سارے کھیل میں دشمن ملک کا ہاتھ تو نہیں ہے۔
جہاں تک طالب علم اظہاراللہ کی بات ہیں تو اس کی پرامن ہونے کی گواہی گاوں اور اس کے دوست سمیت دیگر رشتہ دار بھی دیتےہیں۔اور آج نمل یونیورسٹی کے پروفیسر طاہر ملک صاحب نے اظہاراللہ کےبارے میں ان الفاظ میں پرامن ہونے کی ٹوٸیٹ کیاہیں۔
ٹوٸیٹ کے الفاظ یہ ہیں کہ
” ‏اظہار اللہ نمل یونیورسٹی میں میرا شاگرد تھا اسے میں نے مودب پرامن اور سنجیدہ طالب علم پایا ان کا ذاتی کاروبار ھے کل رات گلگت سی ٹی ڈی پولیس نے گھر میں گھس کر دھشتگرد قرار دے کر قتل کردیا واقعہ کی جوڈیشل انکوائری ھونی چاھئے.

اور دیامر والوں کے بھی یہی ڈیماٸنڈ ہیں کہ انصاف پر مبنی جوڈیشل انکواٸری ہونے چاہیں۔تاکہ دودہ کا دودہ پانی کا پانی ہوجاٸیں۔اس کے ساتھ ہی دیامر کے عوام نے بھی شفاف تحقیق کےلیے یہ شراٸط رکھے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
مطالبات:
1: چلاس سانحہ کی مکمل جوڈیشل انکوائری کی جائے اور اس میں پولیس فورس کا کوئی ممبر شامل نہ ہو۔
2: اظہار اللہ اور اس کے کزن کو ناحق شہید کرنے پر ان کے ورثاء کو شرعی دیت ادا کر دی جائے۔
3: اظہار اللہ اور اس کے کزن کے گھر سے دو افراد کو سرکاری نوکری دی جائے جو ان کے اہلیت اور قابلیت کے مطابق ہو۔
4: سی ٹی ڈی پولیس کے سربراہان جن کے حکم پر یہ کاروائی ہوئی ان کو فوری معطل کر کہ محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے اور جوڈیشل انکوائری کے بعد قرار واقعی سزا دی جائے، ان کی نااہلی کی وجہ سے 5 پولیس جوان اور دو بے گناہ شہری شہید ہوئے ہیں۔
5: چلاس ایس پی کو فواراً تبدیل کیا جائے اس کے علاقہ میں اتنی بڑی کاروائی ہوئی اسے معلوم تک نہیں تو وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے نام پر تنخواہ کیوں لیتا ہے۔
6: غلط مخبری کرنے والے کو 302 کی ایف آئی ار درج کر قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے
اگر یہ 6 مطالبات نہیں مانے گئے تو عید کے دن سے شاہراہ ریشم بند کر دی جائے گی اور واپڈا کے کسی پراجیکٹ یا ”سی پیک“ کے کسی بھی پراجیکٹ پر کام کرنے نہیں دیا جائے گا۔

اس سارے معاملے کا شفاف تحقیق ہونا چاہیے تاکہ عوام کو ریاستی اداروں اعتماد نہ اٹھ جاٸیں، اور ریاستی ادارے بھی عوام اعتماد کرے۔ورانہ عدم اعتماد کا فضا ملک وہ قوم کےلیے ماضی میں سود مند ثابت نہیں ہوا ہے۔
اللّٰہ تعالی ہم سب کو ہر قسم کے آفات سے محفوظ رکھیں۔(آمین)

تحریر۔۔۔۔ضیا ٕاللّٰہ گلگتی

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc