سی ٹی ڈی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا فقدان

پاک فوج میں سپیشل سروسز گروپ یعنی (SSG) کو جتنی اہمیت حاصل ہے بالکل اسی طرح کاونٹر ٹیریزم ڈپارٹمنٹ یعنی(CTD) بھی پولیس کی ایک ایسی ہی ماہر ٹیم ہوتی ہے جو خفیہ اداروں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ملک دشمن عناصر یا ہائی پروفائل ٹارگٹ کے خلاف اپریشن کرتی یے۔

28 جولائی 2020 کے شب چلاس شہر کے بالکل قریب رونئی کے علاقے میں سی ٹی ڈی کے 5 جوانوں کے قیمتی جانوں کا ضائع اور 7 کے قریب جوانوں کا زخمی ہونا سی ٹی ڈی حکام کی پروفیشنل سکلز پر لاکھو سوالات جنم لے گئیں، مجھے یاد ہے پچھلے مہینے چلاس تھانے میں گاہکوچ تھانے کی ایک کیس آگئی، وہاں کا ایس ایچ او اپنی ٹیم کے ساتھ پہلے چلاس تھانہ آیا پھر سب انسپکٹر ظفر اقبال کے ساتھ علاقے کے دورہ کیا کیونکہ یہ لین دین کا مسئلہ تھا تو مقامی پولیس کی تعاون سے رات گئے بابوسر میں واقع ان کے گھر کا محاصرہ کیا گیا پھر باعزت طریقے دروازے پے دستک دی گئی اور کہا مائیں اور بہنوں کو ایک طرف کریں ہم پولیس والے آپ کو گرفتار کرنے آئے ہیں،وہ بندہ باہر نکل آتا ہے اور خوشی خوشی تھانہ جاتا ہے اور بیان ریکارڈ کراتا ہے، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مقامی پولیس علاقے کی ہر پہلو سے باخبر رہتی ہے اور مختلف زاویوں سے جائزہ لیتی ہے.

لیکن دوسری طرف اس سانحہ کی جتنی بھی وضاحت پیش کی جائے باوجود ان وضاحتوں کے نااہل زمہ داران کے ماتھے پر لگے کالک کو مٹایا نہیں جاسکتا، ویسے تو فرسز کی حکمت عملی یہی ہوتی ہے کہ جہاں بھی اینٹلی جینس کی بنیاد پر آپریشن ہوتا ہے وہاں حتی الامکان یہی کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم جانوں کا ضائع ہو-

لیکن یہاں تو ساری کہانی الٹ ہوگئی، ایک عام شہری بھی سی ٹی ڈی حکام کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر سوال اٹھا رہا ہے۔
فرض کر لیں مخبر کی مخبری غلط تھی لیکن مخبر کی حیثیت کیا تھی کیوں ایک ادارے نے ایک انفرادی حیثیت کو تسلیم کیا یا یہ ڈپارٹمنٹ فلیئر تو نہیں؟

اس آپریشن میں جانبحق جو دو افراد بھی ہیں ان میں سے ایک ملک کی مشہور یونیورسٹی نمل کا طالب علم اظہار اللہ جو شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ کا دوسرے سمسٹر کا طالب علم تھا اور دوسرا چلاس میں ہی عمارتی بلاک بنانے کا کام کرتا تھا۔

اگر یہ دو انتہائی مطلوب تھے تو انہیں دن کے اوقات میں بھی گرفتار کیا جاسکتا تھا، یا مقامی پولیس کو آرڈر دیا جاتا تو یہ لوگ دن کو ہی آسانی سے گرفتار ہوسکتے تھے۔

اگر یہ دونوں مشکوک بھی تھے اور ان کے پاس اسلحہ بھی تھا تو سی ٹی ڈی جیسی فورس کی حکمت عملی یہی تھی؟ کہ 5 قیمتی جوان جانوں سے گئے اور7 جوان ہمیشہ کے لئے معزور ہوگئے۔

جبکہ مقامی آفراد کا یہ بھی کہنا ہیکہ جانبحق دونوں افراد کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا تو پھر سی ٹی ڈی کے 5 اہلکاروں پر فائرنگ کس نے کی؟
کہی ایسا تو نہیں کہ اسطرح کے مشکوک ترین آپریشن کو بنیاد بنا کر دیامر میں بننے والے ملک کا میگا پراجیکٹ یعنی دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ڈیم کے خلاف کسی بڑی مہم کے لئیے راہ ہموار تو نہیں کی جارہی ہے؟

تحریر۔۔۔۔عبدالھادی ودود

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc