سی ٹی ڈی شہدائے سانحہ چلاس کی خاک وخون سے لت پت ،گولیوں سے چھلنی لاشیں ورثاکےحوالہ کرنے کا انکشاف

استور (عبدالحسین آزاد) گلگت بلتستان پولیس نے لاپرواہی اور غفلت کی انتہا کردی،سانحہ چلاس پولیس شہدا ء کی خاک وخون سے لت پت لاشیں ورثا کے حوالے کی گئی۔شہداء کے جسم کے زخم بھی سینے کی زحمت نہ کی،غسل وکفن کا بھی انتظام نہ کیا گیااور خاک وخون سے لت پت اور گولیوں سے چھلنی شہداء کے جنازے آبائی گاؤں پہنچادئے گئے تو کہرام مچ گیا۔شہداء کے چہروں کو بھی صاف کیے بغیر شہداء کے جناز ے ورثا ء کے حوالے کیا گیا۔ خاک وخون سے لت پت اور زخموں سے چور جنازے دیکھ کر شہداء کے ورثا غم سے نڈھال ہوگئے،شہدا کے جنازے دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار تھی۔یاد ردوروز قبل چلاس میں سی ٹی ڈی نے رات گئے کارروائی کی تھی اس کارروائی کے نتیجے میں 5پولیس اہلکار اور دو سویلین مارے گئے تھے۔ ضلع استور سے تعلق رکھنے سانحہ چلاس پولیس شہدا ء کی لاشیں آبائی گاؤں میں ورثا ء کے حوالے کی گئی تو رقت ناک مناظر دیکھنے کو ملے،ورثا ء کا غم اس وقت آسمان کو چھونے لگا جب ورثا نے اپنے پیاروں کی خون وخاک سے لت پت جنازے دیکھے،کسی شہید کا جسم زخموں سے چور تھا تو کسی کے چہرے پر خون اور خاک ملی ہوئی تھی،کپڑے پھٹے ہوئے تھے،اہل علاقہ بھی پولیس کی اس مجرمانہ غفلت پر ششدرہ گئے،محکمہ پولیس گلگت بلتستان نے شہداء پولیس کے لیے غسل کفن کا انتظام کرنے تک بھی گوارا نہیں کیا،گولیوں سے چھلنی بدن کو ٹانکے لگانے تک کی بھی زحمت نہیں کی اور لاشیں ورثاء کے حوالے کیا۔شہید پولیس نوجوانوں کی لاشیں دیکھ کروہاں موجود پولیس بھی شرمسار ہوگئے۔ضلع استور میں شہداء کی تدفین کے وقت ضلع استور کا کوئی پولیس آفیسر موجود نہیں تھا،ایس پی اور ڈی ایس پیز بھی موجود نہیں تھے،نہ شہداء کی قبروں پر پھول چڑھائے گئے۔ پولیس کی اس مجرمانہ غفلت سے لوگوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے۔شہداء کے جنازوں کی اس طرح توہین قابل مذمت ہے،اہل علاقہ اور ورثا نے آئی جی پولیس گلگت بلتستان سے سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc