عوامی ملیکتی زمینوں پر قبضہ، گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال پر سنگین الزام.

استور(ٹی این این خصوصی نامہ نگار) گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال مقپون نے ضلع استور کے علاقہ داسخریم چلم میں تیس ہزار کنال عوامی اراضی پر دعویٰ کردیا. تفصیلات کے مطابق استور داسخریم میں بننے والے پاور ہاوس پروجیکٹ سمیت چلم داسخریم سے گدئی تک تمام زمینوں پر استور کی عدالت میں دعویٰ کر دیا کہ تمام زمینیں انکی خاندانی ملیکت ہے. خیال رہے گلگت بلتستان میں الیکشن 2020 کے شیڈول کا اعلان ہوگیا ہے اور استور داسخریم اور چلم گلگت بلتستان کا پسماندہ ترین دور افتادہ علاقہ ہونے کے ساتھ سات سو گھرانوں پر مشتمل دو ہزار سے زیادہ ووٹ والا علاقہ ہے. سوشل میڈیا پر استور سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، وکیلوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ گورنر نے یہ کام باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا ہے جسکا مقصد داسخرم اور چلم کے عوام کو ڈرا دھمکا کر زبردستی ووٹ حاصل کرنے کا حربہ ہے جس میں ضلع استور سے تعلق رکھنے والے مقامی قیادت جو پاکستان تحریک انصاف راجہ جلال گروپ کے لوگ ہیں جو ماضی کی طرح راجگیری نظام کی بحالی اور پورے خطے میں فقط راجوں کی حکومت چاہتے ہیں، اس سازش میں براہ راست ملوث ہیں. وادی داسخرم اور چلم کی عوام نے سوشل میڈیا کی وساطت سے وزیر اعظم عمران خان ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان، اور دیگر سیاسی جماعتوں رہنماوں سے راجہ جلال کا عہدے کا ناجائز استعمال کرنے کے سنگین جرم پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے متاثرین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے راجگیری نظام کا خاتمہ کرکے مقامی راجاوں کی جانب سے عوامی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرکے لگان لینے کے قانون کو 1973 میں ختم کردیا تھا جس کے بعد تمام زمینیں کی ملیکت عوام دے دیا تھا، متاثرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ان اباو اجداد گزشتہ چھے سو سال سے ان زمینوں کے مالک ہیں جس پر راجہ خاندان صرف طاقت کے بل بوتے پر سرکاری کاغذات پر مالک ہوسکتا ہے لیکن عملی طور پر ان زمینوں کا راجہ جلال سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اپنے عہدے ناجائز استعمال کرکے غریب عوام پر ظلم کر رہا جسے ختم نہیں کیا تو عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا.

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc