ضلع کھرمنگ انتظامیہ کی شاہ خرچیاں، کرونا فنڈز ذاتی تشہیر پر خرچ کرنے کا انکشاف.

کھرمنگ(رپورٹ سکندر علی زرین) ڈپٹی کمشنر کھرمنگ نے کرونا کی مد میں آئے فنڈز سے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ میں پیسے بانٹ دیئے ہیں۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ ان سوشل میڈیا والوں نے اپنے “فیس بک چینلز” سے کرونا اویرنیس میں مدد کی۔ سوال یہ ہے کہ دو دو گاؤں لیول کی ویڈیوز دینے والے ان سوشل میڈیا والوں نے کرونا کے خلاف جنگ میں کونسا کارنامہ انجام دیا جو کرونا کے پیسے ان پر لوٹے گئے؟ اتنا ضرور ہوا ہے کہ ان حضرات نے ڈی سی کی ذاتی تشہیر کی ہے, ڈی سی کی ویڈیوز چلائی ہے۔ ڈی سی کھرمنگ نے تسلیم کیا ہے کہ علی آصف آف منٹھوکھا اور کاچو حمایت غندوس کو پیسے دیئے ہیں۔ جبکہ ایک آدھ صحافیوں کے بھی پیسے لینے کی اطلاعات ہیں مگر یہ ابھی تصدیق طلب ہے۔ البتہ ڈی سی کا کہنا ہے کہ “نبی علی رضا وغیرہ آئے تھے کہ ہمیں بھی پیسے دیو”
اوپر مذکورہ 2 حضرات اور باقی صحافی حضرات بھی میرے دوست ہیں, کوئی ذاتی خار نہیں۔ مگر یہ میری پروفیشل اور طبیعت کی بھی مجبوری ہے کہ سچ کو بیان کئے بغیر نہیں رہ سکتا, ضمیر ملامت کرتا رہتا ہے جب تک عوامی مفاد سے جڑا کوئی سچ طشت از بام نہ کروں۔
اب یہ مت سمجھے گا کہ مجھے پیسے نہیں ملے تو شاید رقابت میں یہ سچ اگل رہا ہوں۔ میں خبر چلانے کے بدلے کسی سے ایک لقمہ کھانا اور ایک پیسہ کھانا زنا سے بھی بدتر سمجھتا ہوں۔ میں تو صحافی کوٹا کے بدلے سرکاری حج کو ناجائز , سرکار کی زمین پر صحافی کالونی کے پلاٹ کو بھی نجاست سمجھتا ہوں۔ پھر بیوروکریسی کی خوش آمدی تو کسی بھی پروفیشنل صحافی کی اپنی توہین ہے۔
دو دن پہلے جب اس خبر کی ٹوہ لگ گئی تو 2 روز سے اس پہ کام کر رہا تھا۔ اسی دوران مجھے خود بھی آفر ہوئی۔ میں نے رُخ کو آسمان کی طرف کیا, دعا کی مالک! مجھے ثابت قدم رکھ۔ مالک! میں غریب آدمی ہوں, مجھے پیسے کی بالکل ضرورت ہے لیکن تو مجھے ایسے ذرائع سے رزق عطا کر جن کے پاک صاف اور جائز ہونے میں کوئی شک و شبہ نہ ہو۔ مولا! آج تک میں نے کسی خبر کیلئے کسی سے ایک کپ چائے نہیں پی, اب آگے بھی تو ہی میرا دامن بچا لے۔ میں کمزور انسان ہوں مگر تو نے قدرے مضبوط اعصاب دیئے ہیں۔ میرا عزم متزلزل نہ کر۔
ہم نواز شریف, زرداری, جہانگیر ترین, مھدی شاہ, حفیظ سے لیکر ایک کلرک بابو کاچو فیاض تک پر کرپشن کو لیکر بہت کچھ لکھتے اور بولتے ہیں۔ لیکن سب سے پہلے صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو اپنا محاسبہ کرنا ہو گا۔ دو دن سے میں چونکہ انتظامیہ سے اس حوالے سے پوچھ گچھ کر رہا تھا تو خیر سے ابھی کچھ دیر قبل کھرمنگ سٹار نامی فیس بک چینل نے ایک دو اشتہار “ڈی سی کھرمنگ کے تعاون سے” کے ٹائٹل سے دیئے ہیں جس کا سکرین شارٹ مجھے ابھی ڈی سی کھرمنگ نے بھیجا۔
سوال مگر اپنی جگہ کھڑا کہ وہ بلتستان جہاں وینٹی لیٹر خریدنے کے لئے ڈاکٹروں کو چندہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ٹیسٹنگ سامان نہ ہونے کے سبب پورے بلتستان میں روز صرف 20 ٹیسٹ ہو پا رہے ہیں۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے قرنطینہ سینٹرز بند کرنے پڑے ہیں اور خاص کر کھرمنگ کے مریضوں اور مشتبہ مریضوں کو سکردو بھیجا جا رہا ہے وہاں کرونا فنڈ سے پیسے کیسے ذاتی تشہیر کے لئے خرچ کئے جا سکتے ہیں! وہ بھی چند گمنام فیس بکی چینلز کے ذریعے
سچ کی فطرت یہ ہے کہ یہ سامنے آ کے رہتا ہے جلد یا بدیر۔ قدرت جو سچ میرے ذریعے جو سچ میرے ذریعے سامنا لانا چاہتی ہے سامنا لاتا رہوں گا۔ یہ میرا فرض ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc