دار و رسن ،صلیب کے مارے ہوئے ہیں ہم

دیومالائی داستانوں کی سرزمین اور بون چھوس کی اساطیری کرداروں کی جنم بھومی بلتستان بنیادی طور پر پانچ جنت نظیر وادیوں پر مشتمل ہے۔ ہر وادی اپنی خوبصورتی ، فطری مناظر اور تاریخی اعتبار سے بے مثال ہے لیکن وادی سکردو کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سکردو جو اس وقت بلتستان ڈویژن کا صدر مقام بھی ہےسلسلہ کوہ ہائے ہمالیہ اور قراقرم کے دامن میں بسا ایک خوبصورت طلسماتی شہر ہے ۔ سکردو قدرتی حسن سے مالا مال ہے تاریخی اعتبار سے بھی اپنے اندر کئی رعنائیاں اور سربستہ راز رکھتا ہے۔
بلتستان میں واضح طور پر بون مت، بدھ مت اور اسلام کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں اور اور یہاں کی تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے لیکن دیگر مذاہب عالم کے اثرات یہاں دیکھنے کو نہیں ملتے۔ بلتستان کے ماضی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک دیومالائی یا اساطیری داستانوں پر مشتمل ہے جس کا سب سے بڑا ماخذ داستان کیسر ہے اور دوسرا حصہ تاریخی ہے جس کا ایک مبہم تاریخی خاکہ مختلف کتابوں کی شکل میں محفوظ ہے۔ میں نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ مولوی حشمت اللہ کی شہرہ آفاق کتاب “تاریخ جموں” بلتستان کی معلوم تاریخ کا سب سے اہم ماخذ ہے اور بظاہر بلتستان کی تاریخ کو اس کتاب کی شکل میں محفوظ کر کے فاضل مصنف نے اس دھرتی پر بہت بڑا احسان کیا ہے لیکن حکومت وقت کا کارندہ ہونے کے سبب انہوں نے تاریخ نگاری میں سرکاری موقف اور نقطہ نظر کو ہی اہمیت دی ہے اور سب سے بڑا ستم یہ کیا ہے کہ موصوف نے بلتستان کے شاہی اور نجی کتب خانوں سے بلتستان کی تاریخ کے نایاب و نادر قلمی کتابوں کو زیر تالیف تاریخ جموں کی تدوین میں مدد لینے کی غرض سے لے لیا لیکن اپنی تالیف کی تکمیل کے بعد ان کتابوں کو واپس ان کے مالکوں کے حوالے نہیں کیا جس سے بلتستان مستند تاریخی اسناد و مدارک سے محروم ہوگیا اور آج اپنے آبا و اجداد کے حالات و واقعات، جنگی کارنامے، فتوحات اور تاریخی پس منظر کو سمجھنے اور جاننے کے لئے اس کتاب پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ مولوی حشمت اللہ کی دستبرد سے جو کتابیں اور تاریخی مآخذ بچ گئے و ہ بعد میں بنات گل آفریدی کے ذوق مطالعہ کی نذر ہوگئے اور بلتستان اپنی تاریخ کے اصل منابع و مآخذ سے محروم ہوگیا۔ اسی لئے یہ کہنا بجا ہے کہ جس جس نے بھی ہم پر احسان کیا ہے اس نے اس احسان کے بدلے ہمیں معنوی طور پر ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
بلتستان میں یہ تاریخ دوبارہ دہرائی جا رہی ہے ۔ آج ایک بار پھر ہماری رہی سہی تاریخی منظر نامے کو جان بوجھ کر ابہامات کے دبیز پردوں کے پیچھے دھکیل کر ہماری تاریخی شناخت کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آج بھی ایک ایسا شخص جس کا موضوع مطالعہ و تحقیق نہ تاریخ عالم ہے ، نہ ہی آثار قدیمہ یا تمدن شناسی سے اس کا تعلق ہے اور نہ ہی بلتستان کی تاریخ و تمدن اور تہذیب و ثقافت کے بارے میں درست معلومات رکھتا ہے لیکن یہ شخص اپنے ہی کچھ کرم فرماؤں کے ایما پر گمنانی کے اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی بلتستان کی تاریخ کو شہرت کی صلیب پر سر بلند کر کے دنیا میں سرشناس کرنے کا عزم لئے بیٹھا ہے۔ یہ موصوف بلتستان یونیورسٹی میں تعیناتی کے پہلے دن سے تعلیمی، تحقیقی اور تربیتی اقدامات کے ذریعے یونیورسٹی کو اپنے اصولی اور آئینی راستے پر گامزن کرنے کے بجائے تفریحی، سیرسپاٹے، سیاسی گٹھ جوڑ میں لگا ہوا ہے۔موصوف نے آتے ہی سب سے پہلے جو کام کیا ہے وہ ہے اعزازی سفیروں کی تعیناتی کے ذریعے بلتستان کے بااثر طبقے کی حمایت حاصل کرنا چنانچہ بلتستان کے اشرافیہ کو مراعات کے ذریعے خاموش کر کے روز اول سے ہی موصوف اپنی من مانیوں میں مشغول ہے اور اب بلتستان کی ایک من پسند تاریخ مرتب کرنے کا ارادہ کئے ہوئے ہے جس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہمارے اپنے کچھ احباب اس کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔
سکردو کا ایک قدیمی گاؤں کواردو جو دریائے سندھ کی شمالی پٹی پر اور کوہ قراقرم کے دامن میں پھیلا ہوا اور وسیع میدانی علاقہ ہے۔ کواردو سے شگر جانے والی کچی شاہراہ پر جو آخری آبادی ہے وہ سترانگ لونگما کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس محلے کے بعد کئی کلومیٹر تک کوئی آبادی نہیں ہے بلکہ ہموار اور غیر ہموار میدانی علاقے پر مشتمل ہے جو کیوق تھنگ کے نام سے مشہور ہے ۔ اس کا آدھا حصہ کواردو اور آدھا حصہ اہالیان شگر کے قبضے میں ہے۔ سترانگ لونگما کے عوام نے اسی اراضی میں سے کچھ رقبہ بلتستان یونیورسٹی کے تحقیقی مراکز کے قیام کے لئے تحفہ دیا ہے۔ اس اراضی پر یونیورسٹی کی تختی لگانے کے لئے ایک ٹیم نے جون کے اواسط میں کواردو سترانگ لونگما کا دورہ کیا تھا جس میں مقامی لوگوں کی زبانی ٹیم کے ممبران کو موجودہ “کراس” کے بارے میں پتہ چلا۔ ٹیم کے افراد نے متعلقہ کراس کو دیکھا اور اس کے ساتھ تصویریں بنانے کے بعد واپس چلی گئی۔ لیکن نہایت افسوسناک اور تعجب کی بات یہ ہے کہ بلتستان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے تمام تر تحقیقی تقاضے بالائے طاق رکھ کر اس پتھر کو “بارہ سو سال قدیم مسیحیت کی مقدس صلیب ” قرار دے کر یونیورسٹی کے سماجی صفحات پر خبر نشر کی ا اور ایک انتہائی اہم انکشاف کے طور پر اخبارات اور میڈیا کو مطلع کیا جس سے ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں یہ بات جنگل کی آگ کی پھیل گئی جس آگ میں بلتستان کی تاریخی شناخت اور یونیورسٹی کا تحقیقی کلچر دونوں جل کر خاک ہو گئے۔
تحقیقی اصول یہ ہے کہ کسی موضوع یا مسئلے کے بارے میں مکمل چھان بین کی جاتی ہے۔ اس کے ماضی ، حال اور مستقبل کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جاتا ہےاور ممکنہ نتیجے کو دلائل و برہان کی روشنی میں اس احتیاط کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے کہ اس میں مزید بہتری، ترمیم یا اضافے کی گنجایش کو باقی رکھا جاتا ہے۔ اور آخر میں متعلقہ موضوع کے ماہرین کی تائید کے بعد کسی تحقیقی مجلے میں شایع کیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بلتستان یونیورسٹی انتظامیہ نے بدنیتی کی بنیاد پر شروع دن سے ہی اسے صلیب کا مقدس نشان ثابت کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے۔ اور آئے دن میڈیا رپورٹس کو تحقیقی مقالے کی طرح اپنے سماجی صفحات کی زینت بنا رہی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی بدنیتی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ کواردو کراس کے حوالے سے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل مسیحی مشینری کو بلا کر سکردو میں اب تک ایک سمینار منعقد کرا چکی ہے جس میں بین المذاہب ہم آہنگی اور رنگارنگی کی چھتری تلے کواردو کراس کو صلیبی نشان قرار دینے کی مذموم کوشش کی گئی ہے اور اب وہ اس سلسلے کو قومی سطح پر اجاگر کر کے کواردو کراس کو صلیب قرار دینے کے لئے اگست کے تیسرے ہفتے میں اسلام آباد کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں سمینار منعقد کرنے جا رہی ہے جس میں بھی بین المذاہب مکالمے کے نام پر اسی کراس پر فوکس کیا جائے گا۔
بلتستان یونیورسٹی نے جہاں ایک طرف اس کراس کو منظر عام پر لا کر علاقائی شہرت اور تفریحی اور سیاحتی امکانات پیدا کر کے ایک مستحسن اقدام انجام دیا ہے وہیں اپنے غیر تحقیقی طرز عمل سے علاقے کو فائدے سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔ میرے اپنے کچھ کرم فرما اس خوش گمانی میں ہیں کہ اس دریافت کے مسیحی مقدس صلیب ثابت ہونے سے علاقے کی نیک نامی ہوگی۔ علاقے میں پکی سڑک بنے گی۔ دنیا کے مختلف ممالک سے سیاح اور عیسائی زائرین علاقے کا رخ کریں گے۔ یہاں بڑے بڑے شاندار محلات تعمیر ہوں گے اور لوگوں کے دن پھر جائیں گے۔ ان احباب کی خدمت میں مصطفی خان شیفتہ کا یہ شعر ہی نذر کر سکتا ہوں:
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
کواردو کراس کے بارے میں میری ناقص رائے یہ ہے کہ اسے تعمیرات میں استعمال کی غرض سے ہی تراشا گیا ہے اس کا کسی مذہب یا مقدس نشان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ محترم عباس کاظمی اور مقامی بزرگوں کی رائے کے مطابق اسے علی شیر خان انچن کے دور میں شاہی تعمیرات میں سر ستون کے طور پر استعمال کرنے کی غرض سے تراشا گیا تھا۔ چشم دید گواہوں کے بیانات کے مطابق یہ پتھر موجودہ مقام سے کچھ بلندی پر تھا جسے چند سال قبل کچھ جوانوں نے نیچے اتارنے کی کوشش کی ہے لہذا یہ اپنی اصل جگہ پر اس وقت موجود نہیں ہے۔ اس کراس کے سابق جائے وقوع پر کچھ اور تعمیراتی سامان جیسے پتھر کی چوکھٹ، ستون، ستون کا پایہ وغیرہ بھی موجود تھے جو لوگوں نے نادانی کے سبب توڑ کر چونا بنایا ہے یا تعمیراتی پتھر کے طور پر استعمال کیا گیاہے جبکہ یہ پتھر زمین میں الٹا دھنسا ہوا ہو جو پیچھے سے تراشا ہوا نہیں ہے۔ یہ پتھر کب ، کس نے اور کیوں تراشا گیا اس کے بارے میں حتمی نتیجہ گیری سے قاصر ہوں لیکن مجھے اتنا اعتماد ضرور ہے کہ یہ صلیب ہرگز نہیں ہے کیونکہ بلتستان میں مسیحی مبلغین کی آمد کے حوالے سے 1890 سے قبل کوئی شواہد دستیاب نہیں ہیں اور دوسری بات یہ کہ مسیحی مشینری کی طرف سے اس قسم کی صلیب تراش کر اپنے اثرات کو محفوظ کرنے کا طریقہ عام طور پر رائج نہیں رہا ہے ۔بلتستان میں کسی چٹان پر بھی ہلکے اوزار سے بننے والے نقش و نگار یا صلیب کا نشان بھی کہیں دریافت نہیں ہوا ہے تو 6 فٹ لمبی اور چوڑی اور کئی ٹن وزنی صلیب تراشنے کا دعوی بعید از قیاس ہے۔ بلتستان میں صرف دم سم کے مقام پر ایک نشان دریافت ہوا ہے جسے نستوری صلیب قرار دے کر دوبارہ ابہامات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ وہ نشان یونگ درونگ کابھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بعض حالات میں یونگ درونگ بھی اسی شکل کا ہوتا ہے۔ عیسائی مبلغین کے بر عکس بدھ مت کے مبلغین نے اپنے اثرات باقی رکھنے کے لئے گلگت بلتستان کی چٹانوں پر مختلف نقش و نگار کھدوایا ہے یا مختلف عبارات لکھوائی ہیں لیکن ان دشوار گزار وادیوں میں اوزار اور کاریگروں کے عدم دستیابی کے باعث اب تک بدھ مت کا بھی کوئی قابل ذکرہ تراشا ہوا مجسمہ بلتستان میں دریافت نہیں ہوا ہے لہذا تراشی ہوئی صلیب کے ملنے کا دعوی صرف سستی شہرت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ماہرین کی حتمی رائے کے سامنے آنے سے پہلے اس کے بارے میں قیاس آرئیاں کرنے سے بلتستان کی تاریخ، تہذیب و تمدن اور ثقافت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جہاں تک کواردو کراس کا تعلق ہے میں ایک اور بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کواردو موضع سترانگ لونگما کے تین محلہ جات اور اس کے شمالی پہاڑوں میم بہت سارے تاریخی اور قدیمی آثار موجود ہیں جن میں برینق کھر، حوا آستانہ،تاریخی مسجد اور مختلف غار وغیرہ شامل ہیں۔ سترانگ لونگما کے بالائی پہاڑوں میں نرم سنگ مرمر بھی پائے جاتے ہیں جہاں قدیم ادوار میں بھی سنگ تراشی کا کام ہوتا تھا اور مختلف تعمیراتی اوزار بنائے جاتے ہیں۔ موضع سترانگ لونگ ما کا ایک محلہ جسے ٹروا (Trwa) کہا جاتا ہے مقپون خاندان کی جاگیر ہے جہاں مقپون خاندان کی بہت بڑی آبادی اس بات کا ثبوت ہے۔ قدیم ادوار میں یہاں کی زیادہ تر زمینیں سکردو راجہ کی جاگیر ہوا کرتی تھیں اور سترانگ لونگما کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نام “سترانگ سترونگ ما” کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کا مطب ہے جاگیر کی نگہبانی کا مقام۔ یہاں حفاظتی چوکی ہوا کرتی تھی جہاں سے راجہ شگر کی طرف سے ہونے والی مداخلت پر نظر رکھی جاتی تھی۔ لہذا یہ قرین امکان ہے کہ کواردو میں دریافت شدہ کراس راجہ کے محلات کی تعمیر کے لئے تراشا گیا ہو لیکن وزنی ہونے کے سبب یا کسی اور وجہ سے بعض دیگر تعمیراتی پتھروں کے یہیں باقی رہ گئے ہوں۔ معروف صحافی قاسم نسیم کے آرٹیکل مورخہ 22 جولائی 2020 روزنامہ جنگ کے مطابق مشہور بلتی مؤرخ یوسف حسین آبادی نے بھی یہ اعتراف کیا ہے کہ کواردو کے مذکورہ محلے کے کچھ افراد نے 2008 میں ان کو اپنے میوزیم کے لئے اس سرستون (پھلی) کو لے جانے کی پیش کش کی تھی لیکن وزنی ہونے کے سبب اس کے لئے یہ ممکن نہ ہو سکا تھا۔ بہر حال اس کی اصلیت اور تاریخ کا درست فیصلہ متعلقہ شعبے کے ماہرین کی تحقیق کے بعد ہی سامنے آسکتا ہے لہذا ماہرین کی رائے سامنے آنے تک بلتستان یونیورسٹی ذمہ دار ادارہ ہونے کا ثبوت دے اور اسے مقدس صلیب ثابت کرنے کی مہم ترک کردے کیونکہ علاقائی تاریخ سے آنکھیں بند کر کے بیک جنبش قلم اسے صلیب قرار دینا اور اسی پر اصرار کرنا بلتستان دشمنی ہے اور اس بات کو ہماری قوم کبھی معاف نہیں کرے گی۔ بلتی تاریخ، تہذیب، تمدن اور ثقافت سے ذرہ برابر ہمدردی رکھنے والا شخص ہماری شناخت کو مسخ کرنے کے بدلے ملنے والی شہرت اور آسایش کو قبول نہیں کرے گا۔ لہذا اس حوالے سے میرا ایک ہی مطالبہ ہے کہ متعلقہ شعبے کے ماہرین کی تحقیق کے نتیجے میں کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل کواردو کراس کو صلیب بنا کر پیش کرنے کا سلسلہ فوراً بند کیا جائے۔
تحریر: ڈاکٹر نذیر بیسپا

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc