پرائیوٹ اساتذہ کی معاشی مشکلات۔۔۔۔

کرونا وبا  میں ہر فرد معاشی بحران کا شکار ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ مجبوری کی چکی میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے  اساتذہ پس رہے ہیں۔ سات ماہ سے روزگار ہیں.

اس قوم کے معمار کدھر جائیں ناتو یہ لوگ مفت راشن حاصل کرنے کے لیے قطاروں میں لگ سکتے ہیں نا احساس پروگرام سے رقم وصول کر سکتے ہیں نا کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں کیونکہ بہت سے بچوں کے رول ماڈل ہیں۔ اکثر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی راتیں اسی پریشانی میں جاگ کر گزرتی ہیں۔ ان کے لیے نا حکومت کچھ کرنے کو تیار ہے نا عوام کو ترس آتا ہے کوئی ایک تو رحم کرے ان بیچارے اساتذہ پر۔

پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کا مسئلہ بہت گمبھیر ہے۔ نہ انہیں وہ مراعات حاصل ہیں جو حکومتی ملازمین کو حاصل ہیں، نہ ہی ان کو کوئی پلیٹ فارم میسر ہے جہاں ان کے مسائل حل ہوسکیں۔ جو چند ایک نام نہاد تنظیمیں ہیں اساتذہ کے حقوق کی دعوے دار، ان کے منتظمین اسکولوں کے منتظم ہیں۔ تو اساتذہ جائیں تو کہاں جائیں؟ اساتذہ کی ان پلیٹ فارمز پر شنوائی نہیں ہوتی اور مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔

اساتذہ کو تنخواہ درکار ہوتی ہے تاکہ ان کی ضرورتیں پوری ہوسکیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ تنخواہ ان کی تمام ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ ایک پاکستانی استاد کو معاشرے کے دیگر لوازمات بھی ادا کرنا ہوتے ہیں جن میں بل، کرایہ، قرض، شادی بیاہ، دعوت، فیس، دوائیوں کا خرچ سب اسی جاب سے ادا کرنا۔ یعنی اگر کوئی شخص ٹیچر ہے تو اسے روٹی، کپڑا اور مکان کے علاوہ بھی بہت کچھ اسی تنخواہ سے کرنا ہوگا۔

پاکستان میں ٹیچنگ واحد ایسا شعبہ ہے جس سے ان تمام ضرورتوں کو پورا کرنا مشکل ہے (خاص کر اسکول جاب)۔ اس کے لیے دوسری جاب ضروری ہے۔ یا تو دوسری جگہ پڑھانا پڑتا ہے جیسے ٹیوشن، کوچنگ، یا کوئی بھی دوسرا کام کرنا ہی ہوتا ہے تاکہ گھر چلایا جاسکے۔ تنخواہوں کے بڑھنے کا معیار بھی بڑا مضحکہ خیز ہے۔کہیں 2 فیصد، کہیں 5، اور زیادہ سے زیادہ کہیں 10فیصد۔

جو لوگ اس شعبے سے وابستہ نہیں ہیں انہیں لگتا ہے کہ یہاں آسانیاں ہی آسانیاں ہیں، آدھے دن کی جاب، سردیوں کی چھٹیاں، دیگر چھٹیاں، پھر اوپر سے دو ماہ کی سردیوں کی چھٹیاں! ان کا بار بار تذکرہ کیا جاتا ہے، ساتھ ہی احساس دلایا جاتا ہے کہ دنیا کا سب سے آسان کام کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ٹیچنگ وہ جاب ہے جس میں انسانی دماغ سب سے زیادہ سوچنے کے عمل کا شکار رہتا ہے۔ رات میں بھی ایک ٹیچر اپنی جاب کے حوالے سے ہی سوچتے ہوئے سوتا ہے۔ کسی ٹیچر ہی نے یہ بات مذاقاً کہی تھی کہ اسے تو خواب میں بھی اسکول اور کلاس روم نظر آتے ہیں۔

یہی وہ جاب ہے جس میں پبلک ڈیلنگ سب سے زیادہ ہے۔ بچے، ساتھی اساتذہ، مینجمنٹ، والدین اور دیگر اسٹاف کے ساتھ ساتھ ایک ٹیچر کو مختلف مزاجوں، عادات کے ساتھ معاملات کرنے ہوتے ہیں۔ جہاں تک چھٹیوں کی بات ہے تو اس کی مثال کام کے لحاظ سے اونٹ کے منہ میں زیرہ کی طرح ہے۔ اب تو زیادہ تر تعلیمی ادارے چھٹیوں کو استعمال کرتے ہیں اور کہیں ٹریننگ ورک شاپس ہوتی ہیں، کہیں سالانہ، ماہانہ منصوبہ بندی کے حوالے سے کام لیا اور کیا جاتا ہے، کہیں کچھ اور کرنا ہوتا ہے۔

یہ وہ شعبہ ہے جو کسی بھی معاشرے کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

مہذب معاشروں میں استاد کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس مقدس شعبے کو قابلِ احترام بنانے کے لیے خصوصی مراعات دی جاتی ہیں۔

اساتذہ کی تنظیمیں صوبائی اور ضلعی سطح پر وجود تو رکھتی ہیں مگر وہ اساتذہ کو درپیش ان کے حقیقی مسائل ایڈریس نہیں کرتے جن مسائل کا سامنا حاضرباش اساتذہ کر رہے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک اساتذہ کے وہ مسائل جو ان کی ذہنی الجھنوں کا باعث بن رہے ہیں انہیں حل نہیں کیا جاتا، بہتر تعلیم نظام کا خواب، خواب ہی رہے گا۔ اور اگر انہی ذہنی الجھنوں کے ساتھ استاد چلتے رہے تو یہی الجھنیں بچوں کے اندر منتقل ہوتی رہیں گی اور اس سے کردار سازی کا عمل رک جائے گا۔

 وطن عزیز کی نجی اداروں میں محض کچھ ہزار کی قلیل اور تضحیک آمیز تنخواہ ان کی بنیادی ضروریات بھی پورا کرنے سے قاصر رہتی ہے اور سالانہ 2 فیصد تو کہیں 5 فیصد کی شرح سے تنخواہوں کے بڑھنے کا معیار بھی بڑا مضحکہ خیز ہے۔انہیں وہ مراعات بھی میسر نہیں’جو حکومتی ملازمین کو حاصل ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی باضابطہ پلیٹ فارم ہے’جہاں ان کے غور طلب مسائل کے حل اور حقوق کی آواز حکامِ بالا تک پہنچایا جا سکے۔ پرائیویٹ اساتذہ کو تنخواہیں فیسوں کی ادائیگی کے بعد ہی ملتی ہیں اور ان کے پاس فیسوں کے علاوہ کوئی اور راہِ حل نہیں ہے۔

 کرونا وائرس کی وباء کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال میں پراہیوٹ سکول اساتذہ کی سات ماہ کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں جس سے ان اساتذہ کی معاشی حالت انتہائی نا گفتہ بہہ ہے اور ان کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں اساتذہ کا کہنا ہے کہ ان مشکل حالت میں بھی اگر ہماری تنخواہیں ادا نہ کی گئیں تو ہم حالات کا مقابلہ کر نے کے قابل نہیں رہیں گے،. اگر تنخواہ جلد ریلیز نہیں ہوئی تو اکثر اساتذہ بھوکے مر جائیں گے اساتذہ نے صوبائی وزیر تعلیم , چیف سکیٹری اور   کور کمانڈر  سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تنخواہیں فوری طور پر ادا کر نے کے لیے اقدامات کیے جائیں تا کہ ہماری مشکلات کم ہو سکیں اور ہم ان برے حالات میں اپنے اہل خانہ کا پیٹ پال سکیں۔

خدارا پرائیویٹ اداروں کے اساتذہ پہلے بڑی مشکل سے گزر بسر کررہے تھے معمولی آمدن کی وجہ سے ان کی کوئی جمع پونجی نہیں ہوتی اب تو کوئی قرض دینے کو بھی تیار نہیں۔

حکومتِ گلگت بلتستان نے ایک نوٹیفکیشن کے زریعے عندیہ دیا تھا کہ وہ تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیسیں ادا کرے گی جوکہ قابلِ ستائش ہے۔اب تک اس حکومتی حکم نامہ پر عملِ درآمد نہ ہو سکا۔  نوٹیفکیشن پر عمل درآمد  کر کے اساتذہ کو جلد از جلد تنخواہیں دی جائیں تاکہ قوم کے محسنوں کا معاشی پہیہ چلتا رہے۔

تحریر: ابوالحسن شگری

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc