پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

پنجاب اسمبلی میں پاس شدہ بل جس میں اہلبیت رسول ﷺ اور ائمہ اطہار علیہ السلام کے ناموں کے ساتھ علیہ السلا م لکھنے سے منع کیا گیا ہے۔یہ خبر نہ تو کوئی نئی بات ہے اور نہ کوئی اہم بات ہے کہ ہم کسی اورکو مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں کیونکہ جو علیٰ الاعلان خود کو امیر معاویہ بن سفیان کا وارث کہتا ہے۔امیر معاویہ ہو یااس کی اولاد یزیدہو ان کا کام اور مقصد حیات ہی سرور کائنات ﷺ کی حرمت اور ائمہ اطہار علیہ السلام کے مقدس ہستیوں کی نفی کرنا ہے ۔ابدی لعنت تو گجرات کے چوہدری اور ان تمام ممبران پنجاب اسمبلی پر پڑی ہے جنہوں نے ایک صوبہ کی حکومت میں اپنی شرکت کو قلیل عرصہ کے لئے قائم رکھنے کے لئیایک عظیم ذلت اور توہین رسالت کا مرتکب ہوا۔ میں اس بات پر بھی حیران نہیں ہوں کیونکہ مسلمانوں کی تاریخ ایسے نا عاقبت اندیش اور چند روزہ اقتدار کے حریص لوگوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے حضور ختم الرسل حضر محمد مصطفٰے کے ﷺ اور مسلمانوں کے پشت پناہ حضرت حمزہ علیہ السلام کا جگر نکال کر چبانے اور جس شخصیت کے بارے میں خاتم الانبیا و رسول ﷺ نے بارہا فرمایا تھا ـ’’ حسین المنی و انا منی الحسین ‘‘ کے خشک گلے پر چھری پھیرنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کی۔یہ بل ٖصرف ایک جنونی کی پیش کردہ کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ یہ نظریہ پاکستان ‘ ریاست پاکستان ‘ اور تحفظ پسکاتان کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے والے لاکھوں شہداء اور کروڑوں محبان پاکستان کے منہ پر چوہدری کا تھوک ہے۔اس تھوک اور اسلام فروشی اورتوہین رسالت میں ملک کے ان تما م نام نہاد سنی اورد شیعہ علماء اور ذاکرین شامل ہیں جن کے پاس سوائے گرما گرم زہریلے تقاریرکے فن اور دیگر مکاتب فکر جو ہمارے بھائی ہیں ان کے بزرگوں کی اہانت کرکے ان کی دل آزاری کرکے اپنی دکانیں چمکانے کے علاوہ اور کچھ ان کے دین میں نہیں۔یہ ملا خواہ کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں ان کا م ہی معاشرہ میں فساد پھیلانا ہے اسی لئے تو ان کے بارے میں حضر ت علامہ قبال ؒ نے کہا ہے ۔۔دین ملا فی سبیل اللہ فساد۔اب ہم یہ دیکھیں گے کہ علیہ السلام کے دعائیہ الفاظ اپنے اندر کیا خصوصیات رکھتے ہیں۔ اللہ کے نامزد ہادی و رہنماوں کے نام کے ساتھ یہ فقرہ لکھا جائے تو کیا اس سے اللہ کی ذات واحد میں کوئی شک یا شریک پیدا ہونے کا احتمال ہے ؟ کیا اس دعائیہ فقرہ سے اللہ کے نبیوں پیغمبرون یا رسولوں کی توہین کا پہلو نکلتا ہے ؟ یا اس میں لغوی اورمعاشرتی حوالے سے ونی منفی بات ہے ۔در اصل علیہ السلام اور ہمارا عام مستعمل سلام ’’ اسلام علیکم‘‘ دونوں ایک ہی مفہوم کے حامل ہیں ۔ ’’ اسلام علیکم ہم زندہ اور اپنے سامنے کے کسی بھی اچھے انسان کو ملاقات کے ابتدا میں کہتے ہیں جس کا مطلب ہے ’’ (اللہ) ٓپ کو سلامت رکھے ــ یا ٓپ پر سلامتی ہو‘‘ اور علیہ السلام یعنی (جس کا ذکر کیا جاتا ہے اس پر ) سلامتی ہو۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہم اسلام علیکم زندہ اور ہمارے سامنے موجود شخص کے لئے بطور دعا بولتے ہیں ۔ اور علیہ السلام ان اشخاص کے نام لینے پر ہم بولتے ہیں یا لکھتے ہیں جواس دنیا میں نہیں رہے اور جو اللہ کے فرستادہ نبی اور رسول تھے ۔ اہلبیت رسول کے لئے بھی ہم علیہ السلام اس لئے لکھتے ہیں کہ ایک تو وہ حضور ﷺ کے گھر کے نزدیک ترین افراد تھے اور ان کی زندگی بھی خود حضور ﷺکے خون اور تربیت کی وجہ سے آپ کی طرح پاک و پاکیزہ تھی نیز اسلامی دنیا کے تمام علماء محدثین اور بزرگوں نے بھی حضرت علی اور ٓپ کی ان اولاد جو درجہ امامت پر فائض ہوے کے ناموں کے ساتھ بھی لکھتے رہے ہیں کیونکہ یہ امام خود نبی و رسول تو نہیں تھے لیکن کار رسالت و نبوت کو آگے بڑھا تے رہے ہیں۔ لہذا ان کا درجہ اور احترام بھی دیگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت بلند تھا۔اس سلسلے میں ً علامہ عبدالغفار سلفی کا اس سلسلے میں فتویٰ یوں ہے ’’ائمہ اہل حدیث اور اکابرین اہل سنت کے ہاں یہی طریقہ رائج رہا ہے۔چنانچہ صحیح بخاری ’ صحیح مسلم اور سنن ابی داوود وغیرہ کتب احادیث کے قلمی اورقدیم مطبوعہ نسخوں میں بہت سے مقامات پرحضرات اہلبیت کے اسمائے مبارکہ کے ساتھ ’’ علیہ السلام ‘‘ لکھا ہوا موجود ہے۔ اور ان کی مشہور شروحات مثلاً فتح الباری ’ عمدۃ القاری وغیرہ میں بھی اس طرح لکھا ہوا ملتا ہے۔لیکن انہی کتب کے مطبوعہ جدید بعض نسخے بددیانت ناشرین کی تحریف کا نشانہ بن گئے اور ’’علیہ سللام ‘‘کے بجائے ’’ رضی اللہ عنہ ‘‘ لکھا گیا ہے۔ امحددث دہلوی نے اپنی تمام تالیفات میں جہاں کہیںائمہ اہل بیت کا ذکر کیا ہے وہاں ان کے ساتھ ’’ علیہ السلا م ‘ استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ اپنی کتاب ’ ما سبت بالسنۃ ‘ طبع لاہورمیں یوں عنوان قائم کیا گیا ہے ـذکر مقتل سیدناالا امام شہید السعید سبط رسول اللہ الامام ابی عبداللہ حسین سلام اللہ علیہ و علیٰ آباہ الکرام‘‘۔نواب صدیق حسن خان والی بھوپال جو عقیدتاً اہلسنت و الجماعت تھے جو بذات کود ایک بہت برے عالم تھے اور بر صغیر میں ’’مکتب ایل حدیث ــ کے بڑے داعی سمجھے جاتے ہیں اپنی مشہور کتاب ’ عون الباری لحل عدلۃ البخاری ‘جلد اول ص:۳۹ مطبع شاہجہانی بھوپال میںتحریر کیا ہے ’’ سب سے پہلے بنی امیہ اور بنی عباس نے آل رسول ﷺ پر صلاۃ پڑھنے سے لوگوں کو منع کیا ہے ـ‘‘۔ایک سوال کے جواب شاہ عبدالعزیز دہلوی ؒ نے فتا وائی عزیزی فارسی جلد اول صفحہ ؛ ۸۹، ۸۸ مطبع مجتبائی دہلی: ۱۳۱۱ ہجری میں لکھا ہے ’’تحفہ اثنا عشریہ میں کسی جگہ صلاۃ بالاستقلال غیر انبیاٗ کے حق میں نہیں لکھا گیا البتہ لفظ علیہ السلام کا حضرت امیرلوئمنین اور حضرت سیدہ النسا ء جناب حسنین ودیگر ائمہ کے حق میں مذکورہ ہے۔۔۔اہل سنت کی کتاب ْقدیمی کتابیں علی الخصوص ابوداوود ‘ صحیح بخاری میں حضرت علی و حضرات حسنین و حضرت فاطمہ وحضرت عباس کے ذکر کے ساتھ علیہ السلام کا مذکورہ ہے۔‘‘ یہ وہ چند مثالیں اہلسنت کے مشاہیر علماء و مجتہدین کے حوالے سے پیش کی گئی ہیں۔ان کے ہوتے ہوے لاہور کا معاویہ اعظم ہو یا گجرات کا چوہدری یا کوئی اور جو بل کے نام سے اسمبلی میں پیش کیا ہے یا منظور کیا ہے وہ ایک ردی کاغذ کے سوا اور کچھ بھی نہیں ۔چوہدری صاحب کو چاہیے کہ وہ اس کاغذ کو گول کرکے اپنے اندر محفو ظ رکھے اور کل جب حشر کے دن حساب کتاب ہوگا اسے اللہ اور خاتم النبین حضرت محمد مصطفٰے صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کرے تاکہ اسے مناسب اکرام و انعام مل سکے۔ مسلمانوں کے دو بڑے حکمران خاندان بنو امیہ اور بنو عباس ہمارا مذہب ہماری تہذیب اور ہمارا عقیدہے کوختم نہ کرسکے تو یہ پدی کیا پدی کا شوربہ کیا۔ افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ بد قسمتی سے مسلمانوں کے دونوں بڑے مکاتب فکر میں سیاست معاویہ کو جاری و ساری رکھنے والے یہ نام نہاد علماٗ اور دوسرے نام کے افراد ہر زمانے میں ہوتے رہے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کوٹکڑے ٹکڑے کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں رکھا۔مجھے صاف صاف کہنے دیجئے ان دونوں گروہوں میں شیعہ علماء بھی ہیں اور سنی علماء بھی ہیں۔ ہم سب کو یہی دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ ہم مسلمانوں کو ان دونوں اموی ایجنٹوں کی ساشوں سے محفوظ رکھے۔آمین۔۔۔اور ابھی میں یہ کالم ختم کرہا تھا کی فیس بک پر خبر آئی کہ وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب نے اس ـ’’ یزیدی بل ‘‘ کو مسترد کرتے ہوے کالعدم قرار دیا ہے ۔نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ ز ن۔پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔

تحریر: سید محمد عباس کاظمی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc