پبلک وآش روم (ٹوئلٹ)

پبلک وآش روم اور ٹوئلٹ سے تو سب واقف ہیں کی یہ کہاں کیوں بنائے جاتے ہیں. ان کی اپنی ایک افادیت ہے جو سامنے آئے بغیر آپنا کام احسن انداز میں میں پورا کرتی ہے. کراچی کا ایک واقعہ جو میرے سامنے پیش آیا چلیں سناتا ہوں، ہمارے گھر کے سامنے والا گھر مرمتی کام کی وجہ سے بند تھا ایک دن کام شاید مکمل ہوگیا اور کچھ کرایہ دار شفٹ ہوگئے، ان کی وہاں پہلی رات کی صبح جب نیچے سے آوازیں آئی میں بھی اُوٹھ کے نیچے چلا گیا، اور اپنی آنکھوں دیکھے پر پچتاہی رہا تھا کی وہ کرایا دار بھی نیچے آگئے، جی تو اس فلیٹ کے نیچے کھڑی گاڑیوں کی چھتوں پر اور زمین پر انسانی غلازت کے تازہ تازہ ثبوت تھے. معاجرہ یہ تھا کی مکان مالک اُس گھر کی مرمت کے بعد ٹوئلٹ کی پائپ لائن کو مین سے جوڑنا بھول گئے تھے جس کا انجام نہایت ہی شرمندگی کا باعث تھا، خیر کرایادار کو بڑا غصہ آیا اس نے فوراً مکان مالک کو فون لگایا اور مکان کو ایک گھنٹے میں خالی کتنے کی دھمکی دے ڈالی، پھر کیا تھا دس منٹ بعد سوسائٹی کا پلمبر آپنے ہمرا گٹر کی پائپ اور اپنے اوزار لے کر پہنچ گیا، اور سب نے سکھ کا سانس لیا میں آپنے گھر جو کی آخری فلور پر تھا کی چھت سے نظارہ کر رہا تھا جیسے ہی پلمبر باتھ روم سے نکلنے والی پائپ جوڑنے لگا اندر سے غلیظ پانی و فضلے کی ندی بہنے لگی آنکھوں دیکھے پر یقین نہیں آ رہا تھا اور بہت گن بھی… بلمبر قدرے ناراض ہو کر بولا میں کام نہیں کرنگا تمہارے پائپ لائن کی کتنے گندے ہیں آپ لوگ. تو مکان مالک پر روب چاڈھنے والے اسی بندے نے اس سے کہہ بھائی جان بصد معزرت میرے والد شدد علیل ہیں یہ انہیں کا کیا کرایا ہے… واپس آئے بات پبلک ٹوئلٹ کی ہو رہی تھی، محلے میں ایک صاحب نے اپنے گھر سے تقریباً 70 فٹ دور ایک باتھ روم بنایا ہوا ہے اور نکاسی آب باہر ہے جب اس کی لوکیشن دیکھی تو اندازا ہوا اتنا دور بنانے کی کیا وجہ ہے جی باتھ روم جہاں بنایا ہے اسی کے ساتھ ایک چھوٹی ندی ہے جس سے محلے کی وہ آبادی جو اس گھر کے بعد ہیں پانی لے جاتے ہیں نکاسی کا پانی اسی ندی میں جاتا ہے، کچھ ہی فاصلے پر ایک صاحب نے 5 مرلے کا گھر بنایا ہے اور کیچن، باتھروم کی نکاسی باہر،
اب سارے محلے کی نکاسیاں باھر ندی میں ڈلی ہوئی ہیں… پہلے (چکن) ہوتے تھے جہاں لوگ آپنی گندی سمیٹ اسے دفن کر دیتے تھے اب نکاسی کی ندیاں ہوتی ہیں..!
شہر گلگت میں تو اس سے بھی برا حال ہے بعض جگوں پر تو فضلے کی بدبو انسان کے پاوں کو خد ساختہ آولٹا مڈ جانے پر مجبور کرتی ہیں. جس دن یہاں لوگوں نے (چکن) گرا کر اٹیچ باتھ بنانا شروع کیے تھے باقاعدہ سیفٹی اور گٹر بنوا لیتے تھے، اب آبادی اتنی بڑ گئی ہے کی دن بہ دن ہر قدم پر ایک نیا گھر بن رہا ہے شہر کا سا سماء ہے مگر سنیٹیشن کا نظام نہ ہونے اور لوگوں نے زیادہ خرچ سیفٹی گٹر بنوانے کے بجائے ندیوں کو جن لیا ہے.
پہلے انہیں ندیوں کے پانی کو ریوئتی ٹینک جسے لوکل زبان میں (گلگو) کہتے ہیں زخیرہ کرتے اور کھانے پینے کے لیے استعمال کرتے تھے اب وہ ندیاں گٹر ہیں دور افتادہ علاقوں میں اب بھی ریوئتی انداز میں پانی کو ایسے ہی زخیرہ کیا جاتا ہے.
علاقے میں اب تعلیم یافتہ افراد کا تناسب پہلے سے 90٪ زیادہ اور معاشرتی لا شعوری پہلے سے100٪زیادہ ہو گئی ہے. زرعی زمین کم ہو گئی ہے اور لوگوں کی حرکت کی وجہ سے بے فائدہ بھی اب تو نہ سبزی اوگتی ہے نہ ہی کوئی فصل، جو اگتی ہے غیر معیاری. کیوں کی نکاسی کے صابن کا پانی لگتا ہے.
علاقے شہر بن جاتے گٹر لوگ بنا دیتے ہیں، معاشرے کی اجتماعی سوچ اب پبلک ٹوئلٹ بن چکی ہے کسی کو کسی فکر نہیں، ایک سے بلے دو..!
تحریر :انیس بیگ

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc