اخلاقیات کا فقدان

جمہوری نظام ہر کسی کو یہ حق ضرور دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اسمبلی میں اپنا نمائندہ مقرر کرے،دوران الیکشن کھل کر اپنے نمائندے کا ساتھ دے اور اسکا مقصد اور پیغام ہر فرد تک پہنچاے۔جب سے گلگت بلتستان کے 2020 انتخابات کا اعلان ہوا ہے پارٹی ورکرز اپنے پسندیدہ نمائندوں کی الیکشن کمپین میں اپنا اہم قردار ادا کررہے ہیں،چاہیے وہ کسی وفاقی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو یا پھر وہ کسی مذہبی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو سب الیکشن کمپین میں سرگرم نظر آتے ہیں۔آج کے اس جدید دور میں الیکشن کمپین کے لیے جو تیزرفتار اور موثر ذرائع استعمال کیا جاتا ہے وہ ہے “میڈیا” یعنی سوشل میڈیا(فیسبوک،ٹویڑر اور یوٹیوب وغیرہ).اس پلیٹ فارم کے ذرئعے آپ ایک جگہ بیٹھ کر لوگوں کو اپنے مقاصد سے آگاہ کر سکتے ہیں۔آج کے دور میں سوشل میڈیا معاشرے کی تعمیر و ترقی میں ایک بہترین اور نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔اس کا مثبت استعمال نہ صرف لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے بلکہ معاشرتی مسائل کو ذیربحث رکھ کر سلجھانے میں مدد بھی کرتا ہے۔لیکن اس کا منفی استعمال کسی مستحکم اور ہم آہنگ معاشرے کو افراتفری اور عدم استحکام سے بھی دوچار کرسکتا ہے۔ انسان کو اللہ تعالی نے اشرفالمغلوقات کے لقب سے نوازا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ انسان عقل رکھتا ہےاور اچھے برے کے فرق کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔جس انسان میں اچھے اور برے کی حس ختم ہو جاتی ہے وہ انسان جانوروں میں شمار ہوتا ہے۔کچھ ایسا ہی آج کل سوشل میڈیا پے نظر آرہا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے کپڑے اتارنے میں لگاے ہوے ہیں۔دنیا کے لاکھوں کروڑوں لوگوں کے سامنے ایک دوسرے کی عزت و آبرو کو سر عام اچھالا جاتا ہے اور اسکی تذلیل کی جاتی ہے۔مجھے حیرت اس بات پے ہورہی ہے کہ ایک اسلامی معاشرے کے اندر ایک شخص دوسرے شخص کی عزت اور عظمت کو اچھال کر بڑا فغر محسوس کرتا ہے جو نہ ہی کسی ملک کا آئین اور قانون اجازت دیتا ہے اور نہ ہی ہمارے مذہب کے احکامات اس بات بات کی اجازت دیتے ہیں۔نہایت افسوس ہوتا ہے جب سوشل میڈیا پے ایسے پوسٹ(posts) نظروں سے گزر جاتے ہیں جس میں کسی پر تہمت،بہتان اور گالی گلوچ کی جاتی ہے۔سوشل میڈیا پے ایک پارٹی کا بندہ دوسرے پارٹی کے بندے کو نیچا دکھانے میں لگے ہوے ہیں۔ایک شخص دوسرے شخص کی کردار کشی میں اتنا مگن نظر آتا ہے کہ اخلاقیات کی دیوار پھلانگ لیتا ہے جس کو سن کر اور پڑھ کر کہنگے کہ:

یہ مسلماں ہے جسے دیکھ کے شرمائے یہود

ایک مثالی فرد کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ اس کا دوسرے افراد سے میل جول کیسا ہے۔ایک انسان کا کردار ہی فرد کو مثالی بنا دیتا ہے ۔لیکن افسوس آج ہم اپنے مفادات اور ذات کی بقاء کی خاطر اتنے گر چکے ہیں کہ شیطان بھی رشک کرتا ہوگا،اور اپنا آقا سمجھتا ہوگا۔آج ہم اس مقام پے پہنچے ہیں کہ گالی دینا کوئی عیب نہیں سمجھتا،تہمت و بہتان لگان تو معمولی بات ہوگی ہے۔کسی کی عزت کو اچھال کر بڑی خوشی اور فخر سمجھا جاتا ہے جو آج کل ہمارے معاشرے میں فیشن بن چکا ہے۔ہم دنیا کی رنگینیوں میں اتنے مگن ہوگیے ہے کہ مذہب کو مکمل طور پر فراموش کر چکے ہے۔جسکی مثال آج عالم اسلام کے تمام ممالک کی لی جا سکتی ہے۔مذہب اور مذہب کے احکامات سے دوری مسلمانوں کی بربادی بن چکی ہے جسکی وجہ سے مسلمان ممالک نہ صرف افراتفری کا شکار ہے بلکہ غربت اور محرومی نے ان کے اردگرد گھیرا تنگ کردیا ہے۔

ایک مہذب انسان کی صفات یہ ہوتی ہے جسکے کردار سے کسی کو نقصان نہ پہنچے،کسی کی تذلیل نہ ہو۔سب لوگوں کا یہ حق ہے کہ اخلاقیات کے دائرے میں رھتے ہوے اپنے کاموں کو انجام دے۔وہ تعلیم کیا جو انسان کو اخلاقیات نہ سکھاتی ہو،وہ تعلم کیا جو انسان کو اچھے اور برے میں امتیاز کرنا نہ سکھائے،وہ تعلیم فقط ایک فتنہ ہے جو لوگوں کوذلیل اور بے آبرو کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہو۔تعلیم تو انسان کو اخلاقیات کے دائرے میں لاتی ہے لیکن آج افسوس ہم اس تعلیم کا ناجائزہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
مغربی ثقافت نے ہم پر ایسا جادو کر دیا ہے کہ آج ہمارا نوجوان طبقہ مغرب کے لوگوں سے بھی آگئے نکل گئے ہیں۔اخلاقیات اور شرم و حیاء کے نام سے کوسوں دور نکل گئے ہیں اور ہر طرف سے بے راہ روی کا شکار ہوگئےہیں۔یہ سب غیر اخلاقیات کا پرچار آجکل سوشل میڈیا پر خوب پروان چڑ رہا ہے۔ایک فرد دوسرے فرد کے خلاف ایسے الفاظ و القابات کا استعمال کرتا ہے کہ انسانیت بھی شرم سے سر جھکا لیتی ہے۔انسانیت کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا ہے۔سیاست کے پروپگنڈے میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ ایک دوسرے کی عزت کرنا بھول جاتے ہیں۔نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایک ایسا علاقہ جو تعلیم کے منصب پے پورے دنیا میں سب سے آگے ہو اور انہی لوگوں میں اخلاقیات کا فقدان ہے۔اختلافات اپنی جگہ مگر کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ دوسرے کو سرےعام سب کے سامنے ذلیل و رسوا کرے۔

گلگت بلتستان کے عوام سے خوصا نوجوانوں سے میری یہ اپیل ہے کہ سوشل میڈیا کا ٹھیک استمعال کرے،اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرے نہ کہ کسی دوسرے فرد کی تزلیل کے لیے۔اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوے اپنے لیڈروں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ اس بات سے کسی کو کوئی غرض نہیں کہ الیکشن کمپین میں آپ کس کا ساتھ دے رہے،بلکہ جو آپ کا مقصد اور عزم ہے اسکو اخلاقیات کے دائرے میں بیٹھ کر تکمیل تک پہنچاے۔ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہوے یہ ہماری ذمداری بنتی ہے کہ قانون اور مذہب کی پاسداری کرے نہ کی تذلیل۔ایسے تمام فیل سے گریز کرے جو دوسرے پے کیچڑ اچھالتے ہیں۔

ازقلم:اعجاز علی بومل

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc