نفاز اُردوتاخیر کا شکار کیوں؟؟

بچپن سے اُردو کو پاکستان کی قومی زبان پڑxھتے،سنتے،لکھتے اور بولتے آیئے ہیں،حقیقت اس کے عین بر عکس ہے۔اُردوکو موجودہ دنیا کی تیسری بڑی زبان ہونے کا شرف حاصل ہے،جو اپنے دامن میں علوم اورادب کا ایک عظیم خزانہ رکھتی ہے اور دنیا اس زبان کی معترف ہے۔اُردو زبان ترقی کے عروج بام کو پہنچ چکی ہے۔لیکن بدقسمتی سے 73سال بعد بھی پاکستان میں اُردو کا نفاذشرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔قیام پاکستان اور دو قومی نظریہ کو وجودبخشنے کے لیے مسلمانوں کے پاس اسلامی تعلیمات،تہذیب وثقافت اور اُردو زبان تھی،جو کہ ہندووں پر مسلمانوں کو ممتاز کررہی تھی۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا قیام پاکستان کے ساتھ ہی اُردو کے خلاف سرتوڑ سازشیں شروع کی گئیں،یہی وجہ بنی کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے کئی خطبات میں یہ واضح کردیا تھاکہ پاکستان کی قومی زبان صرف اور صرف اُردو ہوگی۔1948میں قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک جلسہ عام میں فرمایا (میں واضح الفاظ میں بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان کی سرکاری زبان اُردو اور صرف اُردو ہوگی۔جو شخص آپ کو اس سلسلے میں غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کرے،وہ پاکستان کا پکا دشمن ہے،ایک مشترکہ زبان کے بغیر کوئی قوم نہ تو پوری طرح متحد رہ سکتی ہے اور نہ کام کرسکتی ہے ) ۔25فروری 1948کو قائد اعظم محمد علی جناح نے اُ ردو کو قومی زبان قرار دیا تھا۔جس سے قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا۔تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے اُردو کی اہمیت وافادیت پر زور دے رہے ہوتے تھے۔ نفاذ اُردو کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے 1954،1956،1964اور1973کے آئین میں اُردو کو دفتری،عدالتی اور تعلیمی زبان کا درجہ دیا گیا۔1973کے آئین کی دفعہ 251میں یہ واضح طور پر کہا گیا کہ پاکستان کی قومی زبان اُردو ہوگی اور اس کو سرکاری زبان پندرہ سال کے عرصے میں بنادیا جائے گا۔قائد اعظم کے فرمودات اورآئین پاکستان کی دھجیاں نفاذ اُردو کی عدم تکمیل کی صورت میں آج تک اڑائی جارہی ہیں اور اس میں معزز اعلیٰ عدلیہ سے لے کر پاک فوج بھی شامل ہے۔ عدالتیں جو آئین وقوانین کی محافظ ہوا کرتی ہیں لیکن صد افسوس کہ پاکستان میں عدلیہ اُردو کے ساتھ انصاف کرتی دیکھائی نہیں دیتی۔ عدالتی زبان کا انگریزی ہونا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ عدالیہ توہین آئین پاکستان کررہی ہیں۔یوں تو نفاذ اُردو کے لے کئی تحریکیں کام کررہی ہیں،لیکن انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل رہی،اسی سلسلے میں سن 2003ء میں جناب کوکب اقبال اور2012میں جناب سید محمود اختر نقوی نے درخواست دائر کی اور عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 251کے نفاذ کے احکامات جاری کریں۔یوں یہ کیس عدالت عالیہ کے بند کمروں کی الماریوں میں موجودہ فائلز کی12سال تک زینت بنا رہا۔کسی بھی معزز جج کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ نفاذ اُردو کے اس اہم قومی و ملی مسلے کے کیس کو سنجیدگی سے دیکھیں۔ججز صاحبان کی شان میں اونچی آواز میں بات کرنا قانون شکنی،توہین عدالت اور اعلیٰ عدلیہ کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے اور اس پر سخت قانونی و انتقامی کارروائی کی جاتی ہے مگر وہی پرہمارے ججز صاحبان کو یہ نظر نہیں آتا کہ وہ خود نفاذ اُردو کے سلسلے میں مدتوں سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قوانین کو پاؤں تلے روندے چلے آرہے ہیں،خیرہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔
8ستمبر 2015کا وہ تاریخی دن جس دن چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اُردو کو فوری طور پر سرکاری زبان نافذ کرنے کے احکام صادر کیے اور اُردو کو قومی زبان نافذ کرنے کے لیے نو نکاتی ہدایت نامہ جاری کردیا،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اُردو کو آرٹیکل 251کے تحت فوری طور پر سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیا جائے اور معززعدلیہ نے حکومت کے لیے 90دن کا وقت دیا کہ 90دن کے اندر اُردو کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔عدالت کا حکم سر آنکھوں پر مگر آج نفاذاُردو کے فیصلے کو 5سال گزر گئے،کسی کے کانوں میں جو تک نہیں رینگتی اور معزز عدلیہ بھی ٹس مس نہیں،8ستمبر 2015سپریم کورٹ نے فیصلہ کا مسودہ اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھا تھا اور جسٹس جواد ایس خواجہ نے فیصلہ اُردو میں سنایا۔جسٹس جواد ایس خواجہ کو تاریخ پاکستان کے پہلے چیف جسٹس ہونے کا شرف حاصل ہے جنہوں نے حلف اُردو میں لیا۔ستمبر 2015کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان میں نفاذ اُردو کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
جولائی 2019میں وزیراعلیٰ پنجاب نے آئین اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشی میں پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں اُردو ذریعہ تعلیم کا حکم یہ کہہ کردیا کہ انگریزی ذریعہ تعلیم کی وجہ سے طلباء ترجموں میں الجھے رہتے ہیں،اس لئے ابلاغ کے لیے پرائمری سطح پر تعلیم اردو میں دی جائے گی،انگریزی لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جائے گا،لیکن یہ احکامات بھی محض زبانی کلامی تک ہی محدود رہے۔
پاکستان میں اُردو کے نفاذ کے لیے عملی کوششیں دیکھنے کو نہیں ملی،اس کی سب سے بڑی وجہ قانون بناوالوں سے قانون کی تشریح اور قانون کا نفاذ کرنے والوں کی اکثریت بیرون ممالک سے تعلیم یافتہ ہیں،اب پارلیمنٹ کوہی دیکھ لیجیے دو طرح کے سیاست دان ملیں گے،ایک باہر کے پڑھے ہوئے اور ایک بنا کچھ پڑھے،لکھے تعلیم یافتہ۔حکمران طبقہ اُردو سے بالکل نابلد ہیں۔شائد دنیا کی ہم وہ واحد قوم ہیں جہاں وزیراعظم،صدر،چیف جسٹس اورآرمی چیف جب قوم سے خطاب فرماتے ہیں تو مترجم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے،کیونکہ پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی انگریزی سمجھ نہیں سکتی جبکہ ہمارے حکمرانوں کا شیوہ ہے کہ وہ انگریزی میں خطاب کریں گے،صدر مملکت انگریزی میں عہدے کے حلف اٹھاتا ہے اور تمام عہدیداروں سے بھی انگلش میں حلف لیتا ہے۔پاک فوج جیسے پاک ادارے میں انگریزی کو اولین ترجیح دی جاتی ہے،ان کے ٹیسٹ انٹرویوز میں صرف وہی امیدوار کامیاب قرار دیے جاتے ہیں جو انگلش میں خاصی مہارت رکھتے ہوں،چاہیے انہیں اُردو کی ایف ب کا علم ہو یا نہ ہو اُس سے کوئی سروکار نہیں،پاکستان سول سروس کے تمام امتحانات انگریزی زبان میں لیے جاتے ہیں اور نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ طبقہ اشرافیہ کے بچے اعلیٰ ملازمتوں کے حصول میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور ٹاٹ حکومتی مدارس سے فارغ التحصیل طلباء احساس کمتری کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔خوش آئند بات یہ ہے گزشتہ سالوں سے پاکستان سول سروس کے امتحانات اُردو میں دینے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ضلعی سطحی پر بعض حکومتی امور کو اُردو میں چلا لیا جاتا ہے۔نفاذ اُردو کے لیے ضرورت اس امر کی ہے،ملک میں یکساں نظام تعلیم کو رائج کیا جائے،طبقاتی نظام تعلیم کے ہوتے ہوئے نفاذ اُردو کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔نفاذ اُردو کے بغیر نہ ہم ایک قوم بن سکتے ہیں اور نہ ہی ہم ترقی کی پٹری پر صیح طرح اتر سکتے ہیں۔

تحریر عبدالحسین آزاد

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc