جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی!!!

کبھی کبھی بندہ یہ سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے کہ کتنا اچھا ہوتا اگر شاعر مشرق علامہ اقبال صاحب “جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی” کی جگہ “جدا ہو چنگیزی سیاست سے تو رہ جاتا ہے دیں” لکھ دیتے ۔ خیر شاعر مشرق مزکورہ شعر میں دین اسلام کی بات کر رہے انہیں کیا پتہ تھا کہ جن مسلمانوں کیلئے وہ یہ شعر گوش گزار فرمارہے ہیں وہ اس شعر کو مثال بناکر اسلام کا ہی جنازہ نکال ل دیں گے ۔ انہوں نے کہاں سوچا ہوگا کہ پاکستان وجود میں آنے کے بعد مسلک کو دین پر فوقیت دی جائے گی ۔ ڈیٹھ انچ کی مسجد کا نقشہ ان کے زہن کے کسی کونے میں بھی نہیں آیا ہوگا۔ انہوں نے تصور ہی نہیں کیا ہوگا کہ اس شعر کے تناظر میں وجود میں آنے والی تحاریک کو دیکھ کر خود چنگیز خان کی روح بھی ٹڑپے گی ۔

سیاست اور مزہب کا جوڑ بنانے کیلئے جتنی توانائی ہمارے علماء کرام لگا رہے ہیں اگر اس توانائی کا آدھاحصہ دین کا اصلی چہرہ اجاگر کرانے میں لگا دیں تو کوئی مائی کا لعل دین مصطفے ص پہ انگلی نہ اٹھائے۔ کوئی لفظ مسلم کو دہشت گردی سے تشبیح نہ دے۔ کوئی مدارس میں بچوں کے ساتھ زیادتی نہ کر پائے اور نہ ہی کسی کی یہ جرائت ہو کہ دین شناسی کے نام پہ دیں فروشی کرے ۔

مملکت پاکستان میں درجنوں ایسی سیاسی جماعتیں وجود میں آئی ہیں جن کا منشور نفاز اسلام ہے مگر امن بھائی چارے اتحاد و اتفاق اور دفاع و سربلندی اسلام کے نام پہ کام کرنے والی ان سیاسی پارٹیوں میں کسی دوسرے مسلک کے کارکن کیلئے کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ ایک ٹکٹ یا عہدہ غیر مسلکی فرد کو سونپنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اسلام کے نام پہ چلائی جانے والی ان سیاسی پارٹیوں کے اعلی عہدوں پہ اعلی علماء فائز تو ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان علماء صاحبان نے ابھی تک اپنے مقلدین کو اسلام کا الف تک صحیح معنوں میں نہیں سکھایا ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تمام علماء دین اسلام کے جھنڈے تلے یک جاں ہوکر اسلام کی سربلندی و لوگوں کی خوشحالی کیلئے کام کرتے مگر مزہب کے نام پہ بنائی جانے والی یہ سیاسی پارٹیز روز اول سے تفرقہ اور عدم برداشت کا باعث بنی رہیں۔ اسلام کے نام پہ مسلمانوں کو تقسیم کیا گیا۔ لڑائی جھگڑا ، مارپیٹ اور کفرو نفاق کے نعرے ان کا ووٹ بنک بن گیا۔ اپنے مسلک کو مزہب قرار دے کر دیگر مسالک کو اسلام سے خارج قراردینا ان کا شیوہ بن گیا ۔ نتیجے میں ہر مسلک کی اپنی سیاسی پارٹی وجود میں آئی اور ہر پارٹی سیاست کے نام پہ چنگیزی پہ اتر آئی ۔

سال 2020 میں گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات ہونے جارہے ہیں ۔ سیاسی و مزہبی پارٹیز میں گٹھ جوڑ کا سلسلہ عروج پہ ہے۔ مزہبی پارٹیز ایک بار پھر سے روایتی سیاست پہ اتر آئی ہیں۔ فلاں کافر فلاں باطل فلاں فلاں علاقوں سے فلاں کمیونیٹی کو نکال باہر کردینگے جیسا منشور عوام کے سامنے رکھا جانے لگا ہے۔ مسلک اور مزہب میں فرق نہ سمجھنے والی عوام ایک بار پھر سے نیم ملاوں کے ہاتھو کھلونا بننے لگی ہے۔ پانچ سال بھائی بھائی بن کر رہنے والے شہری الیکشنز قریب آتے ہی دست و گریباں ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔اور کوئی پائے کا مولوی نہیں جو اتحاد کا پیغام عام کرے اور نہ ہی ایسی عوام موجود ہے جو ایسے مولوی کے درس پہ عمل پیرا ہو چلے۔۔!!!

کیا آج اس کے لیے چنگیزی سے بہتر کوئی لفظ ہو سکتا ہے جو ہمارے چاروں طرف ہو رہا ہے۔۔؟؟ ہماری مزہبی پارٹیوں کی پورے پانچ سال سوئی ہوئی مزہبی غیرت الیکشنز کے دنوں جاگ اٹھتی ہے۔ ان کے آنکھوں پہ بندھی سیاہ پٹی بھی انہی دنوں کھل جاتی ہے۔انکو انہی دنوں توہین صحابہ و اہلبیت نظر آنے لگتی ہے۔جنت کے سرٹیفکیٹ پرنٹ کرنے والا خصوصی پرنٹر بھی انہیں دنوں ان کی دسترس میں آجاتا ہے۔نتیجتا بے گناہوں کا خون سر بازار بہنے لگتا ہے۔ بیواوں اور یتیموں کی آہیں تو انہیں سنائی نہیں دیتی البتہ فساد فی العرض برپا کرنا ان کیلئے باعث فخر ہوتا ہے ۔

ایک وقت تھا جب گلگت بلتستان میں موجود مزہبی پارٹیز مزہب کے نام پہ صرف شیعہ سنی کے نام پہ ووٹ مانگا کرتے تھے لیکن اب وقت بدل گیا ہے۔ مزہب سے ہوتے ہوئے مسلک تک پہنچنے والی پارٹیز کا دائرہ سیاست مزید محدود ہو چلا ہے۔ ڈیٹھ انچ کی مسجد والوں نے ہر مسجد کو تین حصوں میں تقسیم کرکے آدھی آدھی انچ کی تین تین سیاسی پارٹیاں تشکیل دے رکھیں ہیں۔ اہلسنت میں موجود مزہبی پارٹیز اہلسنت کے اندر اور اہل تشیع میں موجود مزہبی پارٹیز اہل تشیع کے اندر ہی دراڑیں ڈالنے لگی ہیں۔

حالات کو بخوبی سمجھنے کے باوجود ریاست اور ریاستی اداروں کی مجرمانہ خاموشی کئی سوالات کا موجب بنتی جارہی ہے۔اداروں کو چاہئے کہ وہ ریاستی رٹ کو چیلنچ کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ ریاست کے اندر دوسری ریاست اور اسلام کے اندر دوسرا اسلام قائم نہ ہونے دیں۔
اور ہاں۔۔!!!!
بات شروع ہوئی تھی علامہ اقبال صاحب کے ایک شعر سے اور یاد آیا کہ آج کا مولوی تو قرآن کی تشریح بھی اپنے زاتی حالات کو مد نظر رکھ کر کرتا ہے ۔ بھلا ایک شعر کی کیا حیثیت۔

تحریر: حیدر سلطان ایڈوکیٹ

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc