گلگت بلتستان انتخابات 18اگست کو ہی ہوگا یا ملتوی ہوگا 7 جولائی کو بڑا فیصلہ ہونے کا امکان

!کراچی(عبدالجبارناصر)مختلف مشکلات کے باعث گلگت بلتستان کے انتخابات ملتوی کرنے پر غور شروع کردیاگیا ہے ،الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کا دعویٰ ہے کہ مردم شماری 2017ء کے عبوری یا مستقل نتائج ہمیں نہیں ملے ،جس کی وجہ سابقہ حلقہ بندیوں کے مطابق ہی انتخابات ہونگے، جبکہ سابق وزاعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کا کہنا ہے کہ نگراں وزیر اعلیٰ کے معاملے میں ہم سے مشاورت کی گئی اور نہ ہی کابینہ کی تشکیل میں گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کی ترمیم کو مدنظر رکھا گیا ہے ، ہم عدالت میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں، پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ کا کہناہے کہ بغیر کسی تیاری کے شیڈول جاری کیا گیاہے ، جب ووٹرز فہرست ہی نہیں بنی ہے تو الیکشن کیسے ہوگا۔

ذرائع کے مطابق انتخابی شیڈول جاری ہونے کے باوجود گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی نہ صرف انتظامی تیاری نہیں ہے ،بلکہ کورونا وبا نے بھی شدید خدشات پیدا کردئے ہیں اور نگراں حکومت کو خطرہ ہے کہ اس طرح انتخابات کرانے کی کوشش کی گئی تو کوئی بڑا المیہ پیش آسکتا ہے اور فنی طور پر بھی الیکشن کمیشن خود کئی مسائل کی وجہ سے پریشان ہے اور کمیشن کی خواہش ہے کہ التویٰ کی درخواست حکومت کی طرف سے ہو ۔ اس ضمن میں طویل مشاورت جاری ہے اور اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے کہ انتخابات ملتوی کئے جائیں ،تاہم خواہش ہے کہ کاغذات نامزدگی کی تکمیل کے بعد صرف پولنگ کا عمل ملتوی ہو، اس ضمن میں 7 جولائی تک اہم اعلان متوقع ہے۔ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے 2 جولائی کے جاری شیڈول کے مطابق 7 جولائی سے انتخابی عمل شروع ہوگا اور 18 اگست کو پولنگ ہوگی ۔

الیکشن کمشنر گلگت بلتستان عابد رضا کا کہنا ہے کہ قوائد کے مطابق ہمیں 60 دن میں انتخابی شیڈول جاری کرنا تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہناہے کہ انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء گلگت بلتستان میں بھی اسی طرح مکمل لاگو ہے جس طرح پاکستان میں ہے ۔ نئی حلقہ بندی اس لئے نہیں ہوسکتی ہے کہ مردم شماری 2017ء کے سرکاری نتائج گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو فراہم نہیں کئے گئے ہیں ۔ عابد رضا کے مطابق الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کو انتخابی فہرستوں سمیت دیگر مسائل کا ادراک ہے اور مشاورت بھی جاری ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان میں کل ووٹرزکی تعداد 6 لاکھ 18 ہزار 826 ہیں اور نظر ثانی کے بعد ان میں اضافے کا امکان ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کا کہناہے کہ بحیثیت ایک سیاسی کارکن میری سوچ ہے کہ جمہوری نظام میں الیکشن بر وقت ہونے چاہئے مگر اس بات پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ کوئی بڑی مشکل تو پیدا نہیں نہ ہو۔ کورونا وبا اور بھارتی مضموم عزائم کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان اور نگراں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی میر افضل خان کو مشورہ دیا تھاکہ انتخابی شیڈول کے اجراء سے قبل آل پارٹیز کانفرنس بلاکر مشاورت کریں کہ ان حالات میں انتخابات ممکن بھی ہیں یا نہیں ؟ مگر انہوں نے ایسا کرنے کی بجائے انتخابی شیڈول جاری کیا ہے ۔ ابھی تک انتخابی فہرستوں کا علم ہی نہیں کہ وہ تیار ہیں یا نہیں ؟ سوا ماہ قبل ہماری منتخب حکومت پر یہ پابندی عاید کردی گئی کہ وہ تبادلے اور تقرریاں نہیں کرسکتی ہے اور پھر شیڈول کے اجراء سے ایک دن قبل بڑی تعداد میں افسران کے تبادلے اور تقرر یاں کرکے ان کو ہی ریٹرننگ آفیسر لگادیا گیا۔ جب عدلیہ میں لوگ موجود تھے تو انتظامیہ سے ریٹرننگ آفیسر لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ یہ کیا پیغام دیا جارہاہے ؟

ایک سوال کے جواب میں کہاکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم مطابق گلگت بلتستان آرڈر 2018 ء میں نگراں سیٹ آپ کے لئے ترمیم کی گئی ہے اور اس آرڈر میں واضح درج ہے کہ کابینہ وزیر اعلیٰ بنائے گا مگر یہاں کابینہ کا انتخاب اورنوٹیفیکشن گلگت بلتستان کونسل کے چئیرمین وزیر اعظم پاکستان کے دفتر سے ہوتا ہے ، ہم اس عمل کو عدالت میں چیلنج کریں گے ۔ نگراں وزیر اعلیٰ کا نام میں دیا تھا، وہ قابل احترام شخص ہیں مگر قانون مطابق وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی ، یہ بھی خلاف ورزی ہے۔ایک سوال پر کہا کہ یہ بات درست ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے حالات کافی تشویشناک ہیں مگر اس سے بھی بڑھکر اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ ہمارا ازلی دشمن چین کے ہاتھوں اپنی بدترین ناکامی پر اپنی عوام کو مطمئن کرنے کے لئے گلگت بلتستان میں جارحیت کی کوشش کرگا۔

پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ کا کہناہے کہ ہمیں خود یہ بات سمجھ نہیں آرہی ہے کہ بغیر تیاری ، حلقہ بندی اور ووٹرز فہرست انتخابات کیسے ہونگے ، ہم تو مطمئن نہیں ہیں اور مشاورت کر رہے ہیں کہ کیاکرناہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہاکہ اگر مردم شماری 2017ء کے نتائج جاری نہیں ہوئے ہیں تو پھر ووٹرز کے حوالے سے بلاک بندی اور دیگر عمل کس بنیاد پر ہورہے ہیں ۔ہم سیاسی قوتوں سے مشاور ت کریں گے ۔ اس سوال پر کہ شیڈو ل کے اجراء کے بعد ووٹرز فہرست منجمد ہوتی ہے ، ایسے الیکشن کمیشن ہزاروں ووٹرز کا اندارج کرے گا؟ امجد حسین ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ یہی سوال الیکشن کمیشن سے ہمارا بھی ہے۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc