بلتستان میں سنگ تراشی کی روایت۔۔

بلتستان میں سنگ تراشی کی روایت بہت قدیم ہے ۔ عام معلومات کے تحت یہ نظر آتا ہے کہ یہ فن قبل مسیح سے آج تک یہاں مختلف صورتوں اور مختلف رفتار سے ا پنا سفر طے کرتا رہا ہے ۔ سب سے قدیم روایت نہ صرف بلتستان میں بلکہ پورے تبتی سطح مرتفع اور اس سے ملحق علاقوں میں گھریلو اشیاء کی تیاری میں نظر آتا ہے ۔ چونکہ یہ علاقہ اپنے بلند اور سنگلاح پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے بیرونی دنیا سے کٹا رہا اور بیرونی دنیا والے بھی اس علاقے سے بالکل ناواقف رہے اس لئے تبتی سطح مرتفع میں جتنے بھی علاقے یا ممالک تھے ان کا بیرونی دنیا سے آمد و رفت ‘ مختلف فن اور اشیاء کی در آمد اور برآمد نہ ہونے کے برابر رہی ۔ لہذا اس سطح مرتفع کے عوام نے اپنی کم سے کم ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے اپنے ہاں پائے جانے والے محدود وسائل سے کام لے کر زندہ رہنے کا فن سیکھ لیا۔ چونکہ اس پورے خطے میں مختلف قسم کے چٹان اور پتھر پائے جاتے ہیں لہذا یہاں کے باشندوں نے اپنی ضرورت اور ان پتھروں کی خصوصیات کے مطابق ان سے مختلف کام لیا۔ سب سے قدیم استعمال پتھروں کا ہمیں گھریلو اشیاء مثلا ً ہانڈیاں ‘ بڑے چمچے اور اس قبیل کے دیگر آلات میں نظر آتے ہیں جس کے لئے انہوں نے نسبتاً نرم اور تراشے جانے کے قابل پتھروں کا استعمال کیا۔گو اب تبتی سطح مرتفع کا ہر علاقہ بیرونی دنیا سے منسلک ہوچکا ہے اور دنیا کے سارے جدید سہولیات اور فنکاری بھی یہاں رائج ہوچکے ہیں لیکن برتن سازی کی روایت آج بھی بلتستان میں جاری و ساری ہے اور جدید پتھرتراش مشینوں کی دستیابی کی بدولت یہاں نہ صرف ہانڈی بلکہ زہر مہرہ کے برتن اور چائے سیٹ ‘ واٹر سیٹ ‘ سگریٹ پائپ کے علاوہ سجاوٹ کے اشیا بھی بننے لگے ہیں اور بازاروں میں بکتے ہیں۔
اس کے علاوہ قدیم دور سے یہاں چٹانوں پر مختلف جانوروں اور دیگر نشانات کے ذریعے مذہب کی تبلیغ اور پیغامات کو مختلف شکلوں میں سرراہ یا آبادیوں میں موجود بڑی چٹانوں پر کندہ کرنے کا رواج بھی بہت رہاہے اور گردش زمانہ میں بہت سارے آثار ختم ہونے کے باوجود بلتستان میں آج بھی سینکروں بڑے اور چھوٹے چٹان موجود ہیں جن پر قدیم معاشرتی یا لسانی نشانات تراشے ہوے ہیں اور علم بشریات اور قدیم تمدن اور تواریخ کے ماہرین انہی نشانیوں کے ذریعے قدیم گم گشت تاریخی سفر کا پتہ لگاتے ہیں۔یہاں یہ سفر ترقی کرتے کرتے جب تیسری اور چوتھی صدی عیسوی میں بدھ مت کا پرچار شروع ہوا تو بدھ مت کے عقائد اور منتروں کو چٹانوں پر کندہ کرنے کے فن نے بہت ترقی کی ۔ یہ کندہ کاری دو طرح کی ہوتی تھی ۔ان میں سے ایک چٹانوں پر کھدائی کے ذریعہ لکیروں کی صورت میں بدھی عمارات از قسم “پگوڈا” (منارچہ) بڑے اور اہم لاماووں کی شبیہ اور مذہبی بینرزہوتے تھے جن میں کچھ آج بھی موجود ہیں۔ دوسری صورت یہ کہ اہم شاہراہوں اور درسگاہوں اور عبادت خانوں کے ساتھ مختلف مذہبی سربراہ مثلا ً موجودہ دور کا بدھا اور مستقبل کا بدھا جسے متریا کہا جاتا ہے کو بڑ ے یا چھوٹے سائز میں تراش کر ان کی قد آدم یا چھوٹے تصاویربنائے جاتے تھے ۔ ان میں ایک اعلیٰ ترین فن سنگ تراشی کا نمونہ آج بھی سکردو شہر کے قریب منٹھل نامی مقام پر موجود ہے ۔اس قسم کی سنگ تراشی کے علاوہ مختلف سائز کے بت بھی بنائے جانے کا عام رواج تھا اور بدھ مت کے دور میں ہر گھر میں چھوٹے بڑے بت ہوتے تھے ۔
بلتستان میں تقریبا نویں دسویں صدی عظیم تبتی سلطنت کے زوال اور اختتام کے ساتھ ہی بدھ مت عقائد کے تحت سنگ تراشی کا رواج بھی ختم ہوا۔ اورجو ورثہ یہاں پایا جاتا تھا وہ عدم توجہی اور بلتستان میں دسویں صدی میں آئے ہوے تباہ کن سیلاب نے بہت ساری پرانی تاریخ اور جغرافیائی شکل و صورت ہی بدل ڈالی لیکن دائیں بائیں جو علاقے بلند پہاڑوں کے ساتھ ملحق تھے وہ مکمل بربادی سے بچ گئے۔۔ الیکذینڈر کننگھم کے مطابق سکردو کی وسیع وادی ایک عرصہ تک ایک ریت اور پتھر کے ویرانے کی صورت میں پڑی ر ہی اور لوگوں نے اس کو سکم دو یعنی خشک وادی کا نام دیا جو بگڑ کر سکردو بن گیا۔یہ لوک روایت بھی ملتی ہے کہ سکردو کو اس بربادی سے قبل رگیا یل یعنی وسیع جگہ یا صدر مقام کہا جاتا تھا۔ دسویں صدی کے اس تباہ کن سیلاب کے بعد بچے ہوے مقامی لوگوں ٗ تبتی خانہ بدوشوں اور بروشال ‘بروق یل اور مون یل کی طرف سے آئے ہوے لوگوں نے یہاں اپنی اپنی الگ الگ آبادیاں شروع کیں ۔ جو رفتہ رفتہ ایک دوسرے سے مل گئے اور ایک نئے معاشرہ نے جنم لینا شروع کیا۔اور اسی نئے معاشرہ مین خانوادہء مقپون کی بنیاد پڑی جس کے پندرہویں حکمران علی شیر خان انچن (1550-1624) نے یہاں کی تہذیب و تمدن کو اتنے کمال پر پہنچایا کہ آج کوئی بھی اس کا تصور نہیں کر سکتا۔ اس نے مشرق ومغرب کی طرف زبردست فتوحات کے علاوہ سکردو میں ؑظیم قلعے اور محلات تعمیر کرائے ۔ سدپارہ جھیل پر بند تعمیر کرکے اس کے پانی کو مکمل طور عوام کے استعمال کے قابل بنادیا۔سکردو شہر میں مٹی کے زیر زمین پائپ کے ذریعے پینے کے پانی کی ترسیل کا بندوبست کیا۔ اس نے شہر مین کئی باغات مثلا ہلال باغ ‘ چہار باغ ‘ رگیا ژھر اور مقپون ژھر نام کےکئی باغات بنوائے جن میں فوارے چلتے تھے ۔ ان قلعوں’محلات اور باغات میں سنگ مر مر ‘تزئینی تختوں ‘ تراش کر تیار کئے ہوے چوکھاٹ ‘ سیڑھیاں قابل ذکر ہیں۔ علی شیر خان انچن نے اس مقصد کے لئے دہلی سے ماہر سنگ تراش منگوائے تھے جن کی سربراہی میں سکردو کے محلات اور باغات میں بہت خوبصورت اور اعلی معیار کے تراش کر بنائے ہوےسنگ مرمر کو استعمال کیا گیا۔ان استعمال شدہ سنگ مر مر کے عمارتی اشیاء میں ستون ‘ دروازوں کے چوکھٹ اور سیڑیاں قبل ذکر ہیں ۔تقریبا ً بیس سال پہلے اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ علی شیر خان انچن نے قلعہ کھرفوچھے کے نیچے شاہی قبرستان میں شاہی خاندان کے افراد کو سنگ مر مر کے صندوقوں میں رکھ کر دفنانے کا رواج ڈالا تھا جن کے اوپر عربی میں قرآنی آیات و دعائیں اور گلکاری کندہ کئے ہوے فل سائز کے سلیب رکھے جاتے تھے ۔یہ انکشاف اس سے ملحق محلہ چھونپہ کھور کے ایک بزرگ آخوند حسن نے خود مجھے بتایا کہ وہ ان کے محلے کی ایک بچی کی وفات پر رات کو دفنانے اسی قبرستان میں لے گئے اور کھدائی کے دوران ایسی دو قبریں نکلیں جن میں سنگ مر مر کے صندوقوں کو دفن کیا ہوا تھا اور ان کے اوپر سنگ مر مر کے بڑے کندہ شدہ سلیب رکھے تھے ۔ انہوں نے ان سلیب کو باہر سطح پر نکالا جو آج بھی اس واقعہ کی صداقت کے لئے وہاں موجود ہیں جبکی ان صندوقوں کے اوپر دوبارہ مٹی ڈال دی گئی۔ آخوند حسن صاحب پچھلے سال وفات پاگئے۔اس کے علاوہ راقم کو یاد ہے کہ اس قبرستان میں چند قبریں ایسی بھی تھیں جن کے اوپر سنگ مرمر کا بنایا ہوا شمع دان بھی رکھا ہوا تھا تاکہ مقدس دنوں میں ان قبروں کے اوپر چراغ جلائے جائیں۔
حال ہی میں سکردو کے معروف گاوں کواردو میں مقامی لوگوں کی اطلاع پر بلتستان یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم نے گاوں سے اوپر پہاڑی پر سے سنگ مر مر کا ایک نادر بہت بڑے سایز کا تراشیدہ چیز دریافت کیا ہے جو (+) کی شکل میں ہے ۔یہ ایک نادر روزگار دریافت ہے جس کا سہرا بلتستان یونیورسٹی کے سر جاتا ہے ۔ اس کی اصل حقیقت کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ مختلف لوگوں کی مختلف آراء ہیں ۔میری معلومات کے مطابق یہ اس کا تعلق کسی بھی صورت میں صلیب کے ساتھ نہیں ہے کیونکہ اس خطہ خصوصاً بلتستان میں ماضی میں عیسائیت کی تبلیغ یا روایت کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ البتہ عیسائیت کے شروع ہونے سے پانچ سو سال پہلے یہاں رائج زرتشتی مذہب کاےرائج ہونےاور عقائد کے بارے میں بہت سی نشانیاں اور لوک روایات اب بھی ملتے ہیں ۔ لیکن عیسائیت کا کوئی نام و نشان نہیں ملتا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر عیسائیت کچھ دیر کے لئے رہا بھی ہو تو ہمیں ان کی کسی کلیسا کا نشان نہیں ملتا تو ایسے میں یہ باور کرنا کہ کئی فٹ لمبے بازو والے اور کئی ٹن وزنی صلیب کس نے کیونکر بنوایا ہوگا۔ کئی دوستوں کا کہنا ہے کہ یہ سکردو میں ہی کسی بڑی عمارت مثلاً قلعہ اور محل میں بطور فلی استعمال کرنے کے لئے ترشوایا گیا لیکن وہ کسی وجہ سے غالباً زیادہ وزن کے لے جایا نہیں جاسکا اور یہیں پڑا رہ گیا۔بلتی میں فلی کسی بڑی عمارت میں ستون کے اوپر چاروں طرف کے بڑے شہتیر رکھنے کے لئے لکڑی کاجو چورس بنایا جاتا ہے اسے کہا جاتا ہے ۔ میری سمجھ یہ بھی قبول نہیں کرتی کہ یہ کسی ستون کے اوپر رکھنے کے لئے اتنا بڑا اور وزنی ‘ فلی” ہو۔ میری سوچ کے مطابق ممکن ہے کہ علی شیر خان انچن نے جب کھرفو چھے پہاڑی پر اپنی رہائش کے لئے سات منزلہ عظیم محل بنایا تو اس میں کئی منزلوں میں لکڑی کے بجائے سنگ مر مر کے ستون لگائے گئے تاکہ اس عمارت کا وزن اٹھاسکے ۔ اس وقت سب سے نچلی منزل پر جہاں سے اس عظیم عمارت کو اٹھانا تھا بنیاد میں رکھنے کے لئے بنوایا لیکن وزن کی وجہ سے کواردو کے پہاڑ سے اس پہاڑی کے اوپر تک لانا ممکن نہیں ہوا اور اسے وہیں چھوڑ دیا گیا۔بڑی اور اونچی مغل عمارتوں میں بہت اونچے اور موٹے سائز کے سنگ مر مر کے ستون کی روایت عام تھی اور آج بھی شاہی قلعہ لاہور کے دیوان عام میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ ہمیں نہین پتہ کہ ان بڑی مغل عمارتوں کے بنیادوں خصوصا جہاں ان سنگی ستونوں کو کھڑے کئے گئے ہیں ان کے نیچے زمین کو کس طرح سخت اور مضبوط کیا جاتا تھا کہ وہ ان بڑے بلند قامت ستونوں اور ان پر رکھے ہوے بہت وزنی چھتوں کے وزن کو اٹھا سکے ۔ آج کل کی بڑی عمارتوں خاص کر ٹاورز اور پلازا کے وزن کو سہارنے کے لئے بنیاد ہی بہت مضبود کنکریٹ سے بنایا جاتا ہے ۔ بہر حال یہ میری ذاتی رائے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بلتستان یونیورسٹی اس سلسلے میں عالمی ماہرین کی وزٹ کراکر زیادہ قرین قیاس نتیجہ حاصل کرے اور ریکارڈ میں محفوظ کرے۔ختم شد

تحریر : سید محمد عباس کاظمی سکردو

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc