ماضی کے دو سخت حریفوں کی بیٹھک، گلگت بلتستان کے سیاسی میدان میں مثبت جمہوری تبدیلی کا امکان اور تحریک انصاف کیلئے خطرہ.

سکردو (ٹی این این تجزیاتی رپورٹ) سابق وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے مدت پوری ہونے کے بعد الیکشن کمپئین کا آغاز سکردو سے کیا مگر انہیں خاص پذیرائی نہیں ملی. انکا استقبال کرنے والوں میں فقط چند ٹھیکدار تھے جنہیں اُنہوں نے اقتدار کے ایام میں نواز ہوگا. سوشل میڈیا عوامی حلقوں کے درمیان جاری بحث میں بتایا جارہا ہے کہ انکا ناکام دورہ کی بنیادی وجہ انکا اقتدار کے دور میں بلتستان ریجن کو دیوار سے لگانا اور بلتستان کے علمائے کرام کے خلاف ان مشیروں اور خود کے تعصبانہ بیان ہے. لیکن دوسری طرف انکا سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ سے ملاقات کو بھی سیاسی حلقوں میں خطے کی سیاست میں اہم سنگ میل کا درجہ دیا جارہا ہے. ویسے تو اقتدار کے پانچ سالوں حفیظ الرحمٰن اخباری بیانات کے زریعے سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں صرف یہ نہیں بلکہ نجی محفلوں میں انکا سید مہدی پر عجیب قسم کے غیر اخلاقی اور غیر شرعی الزامات بھی لگاتے رہے ہیں. لیکن اس کے باوجود سیاست کے دنگل میں یہ ملاقات گلگت بلتستان کی سیاست کا کایہ پلٹ سکتا ہے. اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے صدر سید جعفر شاہ وزیر بننے کیلئے تیار ہے وہیں مذہبی جماعتوں کا بھی بھاو لگنا شروع ہوگیا ہے. گلگت بلتستان میں بدقسمتی سے بے اختیارات الیکشن بھی مسلک علاقائیت کے خول سے آج تک نہیں نکل پائے اور ہر پارٹی کی خواہش ہوتی ہے کہ ہر مسلک کا بڑا مولوی انکو سپورٹ کریں. اگر حفیظ اور مہدی شاہ ملاقات کے بعد دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکر الیکشن لڑنے پر اتفاق ہوجائے تو گلگت بلتستان میں مذہبی تفرقے پر مولویوں کی جانب سے کھنچی ہوئی لیکر بھی کافی حد تک ختم ہوسکتا ہے. صرف یہ نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں سیاسی اتفاق بہت بڑا چلینج ہوگا. کیونکہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے اندر بھی راجہ اور غیر راجہ کا سرد جنگ الیکشن سر پر ہونے کے باوجود عروج پر ہے. گورنر راجہ جلال راجگان کی سیاست عوام کو استعمال کرنے کا خواہشمند نظر آتا ہے جبکہ سید جعفر اپنے منظور نظر اور الیکٹیبل افراد کو ٹکٹ دینے کے خواہاں ہے تاکہ انکا وزیر اعلیٰ بننے کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو. لیکن حفیظ الرحمٰن اور سید مہدی کی ملاقات پر دونوں پارٹیوں کے اہم قائدین مزید تیزی لاکر اتحاد کرتے ہیں تو گلگت بلتستان کی سیاست میں بہت بڑی تبدیلی ممکن ہے.

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc