گلگت بلتستان الیکشن اجتماعی قتل کی تاریخ،،شفاف انتخاب یا انتخابی ڈرامہ ۔؟

گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے مطابق گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 24 اگست 2020ء سے پہلے ہونے ہیں ۔27 جون 2020ء کے ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف الرحمان علوی نے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے لئے 18 اگست 2020ء’’پولنگ ڈے‘‘منظوری دے دی ہے۔ 8جون 2015ء میں بننے والی گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اور مسلم لیگ(ن) کے حافظ حفیظ الرحمان کی حکومت اپنی قانونی مدت پوری کرکے 23 جون 2020ء کو سبکدوش ہوچکی ہے اور نگراں وزیر اعلیٰ حاجی میر افضل خان نے اپنے عہدے کا حلف بھی24جون 2020ء کو اٹھالیا ہے،تاہم تادم تحریر کابینہ کا حتمی اعلان نہیں ہوا۔ اس حدتک یہ بات درست ہے کہ عام انتخابات کا وقت یعنی 60 دن کے اندر ہونا ضروری ہیں۔
مگر معاملہ اتنا سادہ اور آسان بھی نہیں ہے ۔ معاملہ صرف الیکشن کرانے کا ہی نہیں بلکہ انتخابات کی شفافیت اور لوگوں کے جان و مال کا تحفظ اصل ایشو ہے ۔ 15 مئی 2020ء کو صدر پاکستان نے ایک ’’ایس آر او‘‘ کے تحت گلگت بلتستان میں پاکستان کے انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء کا اطلاق کیا ہے۔

اس ضمن میں چند سوال جواب طلب ہیں!
(1)کیا انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء کے مطابق الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہبازخان اور نگراں حکومت گلگت بلتستان نے آئینی اورقانونی تقاضے پورے کئے ہیں؟
بظاہر نظر نہیں آرہاہے کہ حکومت گلگت بلتستان یا الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے آئینی اور قانونی تقاضے پورے کرنے کےلئے اقدام کئے ہیں ،تاہم سوا ماہ قابل منتخب حکومت کے اختیارات کو منجمد کرنے(جوقوائد کی خلاف ورزی تھی )کے سوا الیکشن کمیشن کا کوئی عمل سامنے نہیں ہے۔

(2)کیا نئی حلقہ بندی کے لئے قانون سازی یعنی گلگت بلتستان آرڈر2018ء میں ترمیم کی گئی ہے ؟
کیونکہ یہ عمل انتہائی لازمی ہے ۔ قانون کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے حلقوں کی تعداد میں اضافہ یا موجودہ حلقوں کو ہی برقرار رکھتے ہوئے فی حلقہ آبادی کا تعین یا دونوں کرنا ضروری ہے اور اس کے بغیر نئی حلقہ بندی اور نہ ہی انتخابات ممکن ہیں ۔ یہ عمل بھی تاحال نہیں ہواہے۔

(3)کیا نئی حلقہ بندیاں ہوگئی ہیں ؟
کیونکہ جب قانون سازی کے ذریعہ حکومت فی حلقہ آبادی کا تعین ہونے کے بعد انتخابی اصلاتی ایکٹ 2017ء میں آئین کے آرٹیکل 51(5)کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو پابند کرتا ہے کہ چھٹی مردم شماری 2017ء کے بعد ہر صورت نئی حلقہ بندی ضروری ہے اور اس کے بغیر قانونی انتخابات کسی صورت ممکن نہیں ہیں ،الایہ کہ صدر مملکت ایک اور’’ایس آر او‘‘جاری کرکے اس خاص حصے کو گلگت بلتستان میں غیر فعال کردیں ۔ انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء میں نئی حلقہ بندیوں کے لئے پورا طریقہ درج ہے ،پہلا کام حدی بندی کمیٹی کا قیام ہے اور جب سے یہ کمیٹی کام شروع کرے اس دن سے حتمی نوٹیفکیشن تک کم سے کم بھی 60 دن درکار ہیں اور اگر کسی نے کمیٹی کے فیصلوں کو چیلنج نہیں کیا تو نئی حلقہ بندی کا کام 60 دن کے اندر مکمل ہوگا ۔ اگر یہ کام 28جون 2020ء سے بھی شروع ہوا تو 27اگست تک 2020ءمکمل ہوگا۔ یہ کام حکومتوں کے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے ہیں اور انتخابی اصلاتی ایکٹ 2017ء کے چیپٹر 2 کے سیکشن 14 اور دیگر کئی مقامات پر چیف الیکشن کمشنر اور ان کی ٹیم کو وضاحت کے ساتھ ان کی زمہ داریوں سے آگاہ کیاگیاہے۔ نئی حلقہ بندی اس لئے بھی ضروری ہے کہ گلگت بلتستان میں پانچویں مردم شماری 1998ء بعد سے چھٹی مردم شماری 2017ء تک حلقوں میں آبادی کے حوالے بڑی حدتک تبدیلی آئی ہے۔ اس عمل میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہے۔

(4)کیا شفا ف ووٹرز فہرستیں مکمل ہوئی ہیں؟
جب حلقہ بندی کا عمل مکمل ہوتا ہے تو قانون کے مطابق شفاف ووٹرز فہرست کی تیاری ضروری ہے اور اس کے لئے بھی انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء میں پورا طریقہ درج ہے ۔اس عمل کا شیڈول بھی انتہائی سخت سے سخت بھی ہواور کسی نے عدالت میں تمام یا چند یا کسی ایک حلقے کو چیلنج نہیں بھی کیا تو بھی 35 سے 40 دن کا شیڈول ہے ۔یعنی 28 اگست 2020ء سے کام شروع ہوتا ہے تو بھی یہ کام 2 اکتوبر 2020ء تک ہی ممکن ہوسکے گا۔ یعنی اس پر بھی تاحال کوئی نظر نہیں آرہا ہے۔

(5)کیا ووٹرز نظر ثانی کا عمل مکمل ہوچکاہے؟
قوائد کے مطابق انتخابی شیڈول کے اجراء سے قبل الیکشن کمیشن اس بات کا پابند ہے کہ وہ ووٹرز کو نئے اندراج ، مقام کی تبدیلی،اغلاط کی درست گی کے لئے حتمی تاریخ کا اعلان کرے اور یہ اس وقت ممکن ہے جب نئی حلقہ بندی کے بعد نئی ووٹرز فہرست مکمل ہوچکی ہو ۔ اس کے بعد ہی انتخابی شیڈول جاری ہوسکے گا ، جو کم سے کم بھی 43 دن کا ہے۔ یہاں پر الیکشن کمیشن زیرو پر کھڑا ہے۔

(6)کیا 18 اگست کی تاریخ ووٹرز کے لئے موافق ہے؟
انتخابی اصلاحاتی ایکٹ 2017ء آئین پاکستان کی ضمات کے ساتھ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ووٹرز کو آزادانہ اور شفاف حق رائے دہی کے پورے مواقع فراہم کئےجائیں گے، اس ضمن میں مناسب حالات اور وقت کا انتخاب انتہائی اہم ہے ۔گلگت بلتستان کے موسم کو مدنظر رکھیں تو دسمبر سے اپریل اور جولائی سے ستمبر تک یہ 8 ماہ کسی طرح مواقف نہیں ہیں ۔ اس کے چند اہم اسباب ہیں۔
(۱)دسمبر سے اپریل تک گلگت بلتستان کا تقریباً تمام علاقہ شدید سردی اور برف باری کی لپیٹ میں ہوتا ہے اور بیشتر دہی دوردراز علاقوں تک انتہائی ہنگامی یا جنگی حالات میں بھی رسائی تقریباً ناممکن ہوتی ہے اور آمد ورفت تقریباً ختم ہوتی ہے۔
(۲)دسمبر سے اپریل تک تقریباً 20 سے 25 فیصد افراد محنت مزدوری کے لئے پاکستان کے مختلف شہروں کا رخ کرتے ہیں۔
(۳)جولائی سے ستمبر تک کا موسم مون سون کا ہوتا ہے اور لینڈ سلائیڈنگ اور راستوں کا بندہونا تقریباً معمول کی بات ہے ۔
(۴)جولائی سے ستمبر تک آبادی کا ایک بڑا طبقہ اپنے اصل گائوں یا علاقوں کو چھوڑ کر گائو ں یا اصل آبادی سے دور دراز وادیوں ، نالوں اور میدانوں کا رخ کرتا ہے، جہاں پولنگ کے انتظامات کرنا تقریباً ناممکن ہے ، ایک اندازے کے مطابق یہ بھی کل آبادی کا 25 سے 30 فیصد حصہ ہے ۔
(۵)نمبر ۳ اور نمبر ۴ کے مطابق انتخابی مہم چلانا، پولنگ کی تیاری کرنا، انتخابی سامان کی ترسیل کو بروقت ممکن بنانا اور ووٹرز کے لئے آزادانہ شفاف ووٹ کاسٹ کرنے کا حق ملنا انتہائی مشکل بلکہ بعض کے لئے ناممکن ہے۔

(7)گلگت بلتستان میں انتخاب کے مناسب وقت ؟
گلگت بلتستان میں الیکشن کے لئے مناسب وقت مئی ،جون ، اکتوبر اور نومبر ہے ، یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کی انتخابی تاریخ کے 11میں سے صرف پہلا انتخابات 1970 میں 30دسمبر کو ہوا (جو عملا ایک مشق تھی)، ایک انتخاب 8جون 2015ء کو ہوا ۔6 انتخاب نومبر اور 3 انتخابات اکتوبر میں ہوئے ہیں۔

(8)کیا گلگت بلتستان کورونا فری ہوچکا ہے؟
اس وقت پوری دنیا کورونا وبا کے باعث کلی طور پر عملاً مفلوج ہے اور انسانی زندگی تقریباً منجمد ہے اور پاکستان کی صورتحال اور بھی انتہائی سنگین ہے ۔ دنیا ابھی تک یہ طے نہیں کرپائی ہے کہ نظام زندگی کو اس حد تک کیسے بحال کیا جاسکے کہ کم سے کم زندہ رہنے کے اقدام کئے جاسکیں ۔ ابھی تک کہیں سے بھی کوئی حتمی اور مئوثر قابل عمل حل سامنے نہیں آیا ہے ، سوائے اس کے کہ سماجی فاصلوں کو یقینی بناتے ہوئے کورونا کے آخری مریض تک کو تلاش کیا جائے۔
حکومت پاکستان اور سندھ حکومت جولائی سے اکتوبر تک کو پاکستان کے لئے خطرناک قرار دے چکی ہیں۔ اگر ہم سرکاری کورونا ڈیٹا بیس کے 27 جون 2020ء کے اعداد شمار کا چھٹی مردم شماری 2017ء کی آبادی سے ملاکر جائزہ لیں تو اسلام آباد میں 165 افراد میں سے ایک، سندھ میں 612 افراد میں سے ایک ، گلگت بلتستان میں 1054افراد میں سے ایک(گلگت بلتستان کی 2017ء مردم شماری کے حوالے سے کہیں بھی مصدقہ اعداد شمار نہیں ملے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزرات امور کشمیر نے تاحال یہ اعدادوشمار جاری نہیں کئے ہیں، اس لئے سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کے 8 نومبر 2019ء انٹرویو کے مطابق 15 لاکھ افراد کو مد نظر رکھا گیاہے )، بلوچستان میں 1203 افراد میں سے ایک، خیبر پختونخوامیں 1400افراد میں سے ایک ، پنجاب میں 1485 افراد میں سے ایک اور آزاد کشمیر میں 4034 افراد میں سے ایک فردکورونا کا مریض ہے۔

یعنی 1423 مریضوں کے ساتھ گلگت بلتستان انتہائی خطرناک تین انتظامی یونٹوں میں سے ایک ہے۔ کوروناوباء کی خوفناکی کے باعث پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی تقریباً ایک درجن نشستیں خالی ہیں اور ضمنی انتخاب کے آثار دور دور تک نہیں ہیں۔ چاروں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ نکل چکی ہے یا نکلنے کے قریب ہے مگر بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے متعلقہ حکومتوں اور الیکشن کمیشن کی جانب سے مکمل خاموشی ہے۔ چار اس سے الیکشن کمیشن آف پاکستان ووٹرز نظرثانی عمل کو حتمی شکل نہیں دے سکا ہے اور سب کے پاس ان کا جواز کورونا وباء ہے۔ موجودہ صورتحال میں گلگت بلتستان کے حالات کسی بھی صورت انتخاب کے لئے ساز گار نہیں ہیں، بلکہ دانستہ اجتماعی خود کشی کا راستہ اختیار کرنے مترادف ہے۔

(9)گلگت بلتستان کورونا وباء کے خطرناک زون میں پھر بھی الیکشن کیوں اور مقاصد کیا؟
مذکورہ بالا نکات کو دیکھا جائے تو گلگت بلتستان میں عام انتخابات 18 اگست 2020ء کو کرانے کے فیصلے کے بارے میں نرم سے نرم الفاظ میں بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی صاحب عقل کا فیصلہ نہیں ہوسکتا ہے۔ حسن ظن یہی ہے کہ حکومت ایک بار انتخابات کا اعلان کرکے حالات کو بنیاد بناکر تاحکم ثانی از خود جلد انتخابات کو ملتوی کرے گی اور پھر بھی وفاقی حکومت 18 اگست 2020ء کو ہی الیکشن کرانے پر ہی بضد رہتی ہے تو اس کے دو ہی مقاصد ہوسکتے ہیں ۔
(۱)گلگت بلتستان کے عوام کو کلی طور پر کورونا کے حوالے کرنا یعنی بادی النظر میں ان کے لیے اجتماعی قتل کے اسباب پیدا کرناہے۔
(۲)انتخابات کے نام پر ایک فراڈ اور ڈارمہ کرکے من پسند افراد کو مسلط کرنے کی انتہائی ہولناک اور انسانیت دشمن کوشش ہوگی۔
(۳)ان بحرانی حالات اور جلد بازی کا فیصلہ وفاقی حکومت کی مرکز میں پریشانی کو ظاہر کرتا ہے اور شاید حکومت کو خطرہ ہے کہ مرکز میں آئندہ چند ماہ میں کچھ ہونے والا ہے ، اس لئے جتنا جلدی ممکن ہو گلگت بلتستان میں لولے لنگڑے انتخابات کراکر حکومت بنانے کی کوشش کی جائے۔ شاید سنگینی کا ادراک نہیں ہے۔

(10)ان حالات میں بہتر تجویز کیا ہوسکتی ہے؟
(۱)فوری طور پر انتخابات کورونا سے نجات تک ملتوی کردئے جائیں۔
(۲)وفاقی حکومت ایسا نہیں کرتی ہے تو نگراں وزیر اعلیٰ خط لکھ کر آگاہ کرے ،کیونکہ کل جو بھی گند ہوگا وہ ان کے کھاتے میں جائے گا۔
(۳)الیکشن کمیشن اور حکومت حالات بہتر ہونے تک فیلڈ ورک کی بجائے آفس ورک مکمل کرے ۔ اس ضمن میں قانون سازی ، نئی حلقہ بندی اور ووٹرز نظرثانی بآسانی ہوسکتی ہے ،کیونکہ ان کا بیشتر کام فیلڈ ورک کی بجائے آفس ورک سے متعلق ہے۔
(۴)موجودہ حالات میں اکتوبر نومبر انتخابات تقریباً ناممکن ہیں ، اس لئے جون 2021ء تک انتخابات ملتوی کرکے قانون ساز اسمبلی کے ساتھ ساتھ بلدیاتی انتخابات کی تیاری مکمل کی جائے۔
(۵)شفاف انتخابات کے حوالے تمام تر زمہ داری نگراں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی میر افضل خان اور الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان کی ہے ، جو بھی ہوگا ، اس کا ثواب و گناہ ان کے کھاتے میں ہی جائے گا، اس لئے وہ سوچ سمجھ کر اقدام کریں۔

تحریر:عبدالجبارناصر

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc