حفیظ سرکار کے پانچ سال،خطے کی تاریخ کا سیاہ باب۔۔

گلگت بلتستان میں آٹھ جون 2015ء میں بننے والی مسلم لیگ(ن) کے حافظ حفیظ الرحمان کی حکومت اپنی قانونی مدت پوری کرکے تئیس جون 2020ء کوختم ہوچکی ہے۔ اقتدار کے آخری پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعلیٰ نے دیگر اراکین کے ساتھ کارکردگی رپورٹ میڈیا کو جاری کردیا ۔ اُس پریس کانفرنس میں اُنہوں نے جہاں وفاق کی جانب سے نگران حکومت کی تشکیل کیلئے مشاورت نہ کرنے کا شکوہ کیا وہیں اپنی حکومت کی ناکامی کا ذمہ دار وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت میں ٹھہرانے کی کوشش کی۔آخری پریس کانفرنس میں اُنہوں نے گلگت بلتستان میں پائیدار امن کا کریڈیٹ اپنی حکومت کو دیتے ہوئے مزید انکشاف کیا کہ اُنہیں بعض لوگوں کی جانب سےجان سے مارنے اور قتل کی دھمکیاں بھی ملیں ہیں جس پر وہ حکومتی مدت ختم ہونے پر تھانے میں شکایت درج کرائیں گے۔ یعنی ایک خطے کا منتظم اعلیٰ اس بات کا انتظار کرتے رہے کہ اُن کو دھمکیاں دینے والوں سبق سکھانے کیلئے حکومت ختم ہو جائے ۔ عجب تماشا ہے۔ یہاں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مستقبل میں اُن کے عزائم کیا ہیں ورنہ قانونی طور پر کوئی ایسی بات تھی تو اپنے دور اقتدار میں اُن عناصر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرنا چاہئے تھا۔
ویسے بھی گلگت بلتستان میں حفیظ الرحمن کی حکومت لوگوں پر مقدمات درج کرنے کے حوالے سےکوئی ثانی نہیں ۔اُن کے دور میں ہر اُس نہتے شخص کو زدکوب کیا جو جنکا زبان یا قلم بنیادی حقوق کی طلب کیلئے چلتا ہو۔اُن کے دور حکومت کے ابتدائی سالوں میں جب حکومت پاکستان نے انسداددہشت گردی کا قانون ملکمیں دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن لینے کیلئے بنایا تھا تاکہ مُلک میں امن امان کی صوتحال کو یقینی بنایا جاسکے۔ لیکن گلگت بلتستان میںاس قانون کوغیر قانونی طور پر حقوق کی بات کرنے والے سیاسی رہنماوں اور سوشل میڈیا کارکنوں کے خلاف استعمال خوب استعمال کیا۔یہاں تک کہ خطے میں تعلیمی اور سماجی خدمات میں حکومت سے بڑھ کر کام کرنے والے غیر سیاسی جید عالم دین کو بھی نہیں بخشا۔ گلگت بلتستان میں شیڈول فور میں شامل افراد پرکئے گئے غیر جانبدار نہ تحقیقات سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ خطے میں اس قانون کا اطلاق نہ کالعدم مذہبی و سیاسی جماعتوں پر ہو رہا ہے ا اور نہ ہی دہشت گردوں پربلکہ فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے ذیادہ افراد بنیادی حقوق کیلئے موثر آواز اٹھا نے والے پرامن سیاسی رہنما ہیں۔ مگر دوسری طرف سانحہ چلاس سمیت گلگت بلتستان میں خون کی ہولی کھیلنے والے عناصر دھندناتے پھرتے رہے ۔یہاں تک کہ اُن عناصر نے کھلے عام پولیس اہلکاروں نے اسلحہ تک چھین کر فرار ہوگئے لیکن کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ دیامر میں سرکاری اسکول جلانے والوں کی نشاندہی کرکے اُن کو عبرت کا نشان بنانے میں بھی اُن کی حکومت مکمل طور پر ناکام رہے۔ کلعدم انتہاء پسند مذہبی جماعت نے حکومت کی سرپرستی جلسے کئے اور گلگت بلتستان میں مذہبی منافرت پھیلانے کی بھرپور کوشش کی۔لہذا اُن کا یہ دعویٰ کہ ہم نے دہشتگری کا قلع قمع کیا ایک جھوٹ اور فریب پر مبنی کہانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن کے دور حکومت میں دہشت گرد عناصر زیر میں چلے گئے اور حسب ضرورت نکل کر واردات کرکے فرار ہوتے رہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے جان بھی محفوظ نہیں رہے۔البتہ سی پیک کے تناظر میں شاہراہ قراقرم پہلے سے قدرے بہتر محفوظ راستہ بن گیا ہے جسکا کریڈیٹ سی پیک کی حفاظت کیلئے کام کرنے والے وفاقی سطح کے سرکاری اداروں کو جاتا ہے۔
اُنہوں نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں گلگت بلتستان کی بین الاقوامی قانونی حیثیت اور ریاست پاکستان کا مسلہ کشمیر کے حوالے سے قومی بیانئے کی بنیاد پرحقوق کے مطالبے کی نہ صرف کوشش نہیں کی بلکہ قانون باشندہ ریاست(سٹیٹ سبجیکٹ رول) کے خلاف ورزیاں روکنے کیلئے بل اسمبلی میں لانے کی کوششوں کو بھی ناکام بنا دیااور ایک دھرتی کے سپوت کی حیثیت سے اُنکا کردار مایوس کن رہا ہے ۔
اب اگر انتظامی طور پراُن کی کارکردگی کے حوالے سے بات کریں تو پانچ سال تو وہ مشیروں،کوارڈنیٹرزوغیرہ وغیرہ کے لاو لشکر کےدرمیان شاہانہ طرز پر حکومت کرتے رہے اور اُن کے دربار کے درباری بھی اُنہی کی طرح کے پروٹوکول حاصل کرتے رہے۔اگر ہم پاکستان کے چاروں آئینی صوبوں کے وزاء اعلیٰ کا گلگت بلتستان میں انتظامی اور طرزی وزیر اعلیٰ موازنہ کریں تو اُن کے مشیروں کی تعداد ذیادہ تھے جن کو کنٹریکٹ ملازم کی حیثیت سے باقاعدہ سرکاری خزانے سے تنخواہ دئے گئے۔صرف یہ نہیں بلکہ اُنہوں نے وزیر صحت کا عہدہ پانچ سالوں تک اپنے پاس رکھا اورصحت کے حوالے سے میرٹ کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دی اور صحت جیسے حساس معاملات پر بھی مخصوص مائنڈ سیٹ کی بنیاد پر فیصلے کرتے رہے اور آج بھی کئی اضلاع بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔
اُنہوں نے گلگت میں سرکاری ہسپتالوں کے نام کو بھی اپنے خاندان کے افراد کے نا م سے منسوب کردیا۔ اس وقت پانچ بڑے ہسپتال صرف گلگت میں بن رہا ہےجس میں کینسر ہسپتال،امراض قلب،،میڈیکل کالج،، ڈی ایچ کیو،سیف الرحمن ہسپتال ، گلگت سٹی شامل ہیں۔ جبکہ ضلع دیامر جہاں سے اُنہوں نے مسلک کا نعرہ لگا کر ووٹ لیا تھا آج بھی بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں اور ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال دیامر پانچ سالوں میں اب گریڈ نہیں ہوسکے وہاں کے ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف پانچ سالوں تک اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرتے رہے۔ صرف یہ نہیں بلکہ اُنہوں دیامر بھاشا ڈیم کی معاوضوں میں اربوں کی گھپلوں پر پانچ سالوں تک مسلسل عوامی احتجاج بھی ریکارڈ کا حصہ ہے، کے باوجود ڈھکار تک نہیں لئے اور متاثر ین دیامر بھاشا ڈیم آج بھی پریشان ہیں اور حفیظ الرحمن مدت پوری کرکے چلے گئے۔ ضلع دیامر کے داریل تانگیر کو ضلع بنانے کے اعلان کا بھی وفا نہیں کیا اور دیامر کے سیاسی رہنماوں کے مطابق اُن کے دور میں دیامر کو ہوائی ٹھیکوں کا قبرستان بنایا جس کے تحت مختلف قسم کے پراجیکٹس سرکاری کاغذات میں جاری اور تکمیل کرکے پیسے اُن کے سیاسی حواری کھا گئے۔ اسی طرح گلگت بلتستان میں نئے بننے والے تمام بجلی گھر کرپشن اور غیر معیاری مٹیریل کی استعمال کی وجہ سے مختصر وقت میں ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہیں اور عوام کو گرمیوں کے موسم میں بھی بجلی کی لوڈشیڈینگ کا سامنا ہے لیکن اُنہوں نے کبھی اس حوالے سے نوٹس نہیں لیا بلکہ مکمل طور پر خاموش رہے۔
وومن ٹریفکینگ کیس اُن کے دور حکومت میں اُن پر ایک امتحان کے طور پر سامنے آیا جب گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی نے اسلام آباد کے ایک انگریزی اخبار میںاُن کے وزیر سمیت دیگر افراد پر سنگین قسم کے الزامات لگائےجس سے گلگت بلتستان میں تہلکہ مچ گیا ۔لیکن پانچ سالوں میں اُن الزامات کی جواب دینے کے بجائے صحافی کو ذدکوب کرکے اُنہیں گرفتار کرنے کی کوشش کرتے رہے اور بتایا یہ جاتا ہے کہ اُس وقت محکمہ اطلاعات کےڈپٹی ڈائریکٹر کے ذریعے صحافیوں کو کہلوایا گیا کہ اُن کی حکومت کو اس کیس کی وجہ سے کچھ ہوا تو گلگت کے اندر خون کی ندیا ں بہے گی(وائس کلپ سوشل میڈیا پر آج بھی موجود ہیں)۔ اس بنیاد پر اُس افسر کوچیف سکرٹیری نے عہدے سےمعطل کیا لیکن بعد میں بحال ہوگیا اور وہ آج بھی عہدے پر براجمان ہے اور سرکاری اشتہارات کمیشن کی بنیاد پر تقیسم کرنے جیسے سنگین الزامات کا سوشل میڈیا پر چرچہ ہے۔ اسلام آباد میں موجود گلگت بلتستان ہاوس کے اندر سے شراب کی بوتلیں برآمد ہونے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔
اسی طرح سرکاری ٹھیکوں کی بندر بانٹ کے حوالے سے بھی اُن پر سنگین قسم کے الزامات لگتے رہے اور کہا گیا کہ اُنکا ایک بھائی اُنہی کے دفتر کو استعمال کرکے تمام سرکاری ٹھیکوں اور سرکاری ملازمین کی بندربانٹ منظور نظر افراد میں کرتے ہیں ۔ اس حوالے سے گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیش کے ممبران بھی مسلسل احتجاج کرتے رہے لیکن کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ اسلام آباد کے ایک الیکٹرانک میڈیا صحافی نے اُن میڈیا پر مناظرے کا چیلنج کرکے سنگین الزامات لگایا کہ حفیظ الرحمٰن نے اپنے رشتہ داروں کے نا م پر راولپنڈی اسلام آباد میں جائدادیں لی ہیں جس میں بحریہ انکلیو میں ایک گھر ،اسلام آباد ایف ٹن سلور ہاوس میں فلیٹ شامل ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سابق ڈی سی گلگت سبطین احمد وزیر اعلیٰ کا فرنٹ میں کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور اُنہوں نے دیامر بھاشا ڈیم کے معاوضوں میں بھی اربوں کے کرپشن کی ہے۔حفیظ الرحمن نے سبطین احمد کو خصوصی طور پراپنا سیکرٹیری لگایا اور اُنہوں نے اپنے بھائی کو دیامر کا ڈی سی لگایا۔ اُنہوں نے مزید انکشاف کیا کہ گلگت بلتستان میں جتنے میں بڑے ٹھیکے ہیں یہ بغیر کسی پیپرا رول کے اپنوں میں تقسیم ہورہا ہے جس کا واضح ثبوت جگلوٹ میں چار سڑکیں اپنے عزیزوں کو دی گئی اور نیٹکو کے تمام ٹھیکے اپنے بھائی کو دئے گئےاور پی ڈبیلو ڈی کے اندر پچھلے چار سالوں میں پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں اور رشتہ داروں کو لگایا ہے۔صحافی کے الزام پر اُنہوں نے نجی ٹی وی کے مالک کو جھوٹے الزامات نشر کرنے پر 10 ارب روپے کا قانونی نوٹس بھیج دیا لیکن صحافی اپنی بات پر قائم رہے اور اُنکو میڈیا پر دعوت دیتے رہے لیکن اُنہوں نے الزامات کا سامنا کرنے کے بجائے نوٹس بھیج کر خاموشی اختیار کرلی اور نہ نیب نے میڈیا کے خبر پر کوئی نوٹس لیا۔
پاکستان چین اقتصادی راہداری پراجیکٹ(سی پیک) میں گلگت بلتستان کو ایک فریق کے طور پر شامل کرنے کے حوالے سے یہاں عوام کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ لیکن حفیظ سرکار مقامی سطح پر عوام کو جھوٹ بولتے رہے اور سی پیک کے اہم فریق کی حیثیت پراجیکٹس کا مطالبہ کرنے والوں پر راء کا ایجنٹ جیسے سنگین قسم کے الزامات لگا کر خاموش کرنے کی کوشش کرتے رہے اور مقامی نوعیت کے معمولی پراجیکٹس کو بھی سی پیک پراجیکٹ کا نام دیا۔ دوسری طرف خود حفیظ الرحمن نے جون 2019 کے آخری ہفتے میں چین کے کلچرل قونصلر سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ گلگت بلتستان سی پیک کے حوالے سے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے اس کے باوجود خطے کو سی پیک میں کوئی میگا منصوبہ نہیں دیا گیا ہے جو کہ میڈیا کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کی بات کریں تو یہ ڈیم گلگت سے 165 کلومیٹر اور چلاس سے 40 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے نچلی طرف پختونخواہ بھاشا کی طرف بن رہا ہے۔یہ ڈیم مکمل طور پر گلگت بلتستان میں بن رہا ہے صوبہ خیبر پختواہ کے سرحدی علاقے بھاشا تک تعمیر کیا جارہا ہے۔ صرف اسی وجہ سے اس ڈیم کو دیامر بھاشا ڈیم نام دیا جبکہ گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی اس نام سے اتفاق نہیں کرتے ۔اُنکا کہنا ہے کہ بھاشا کا نام صرف گلگت بلتستان کو ڈیم کی رائلٹی سے دور رکھنے کیلئے استعمال کی جارہی ہے ۔لہذا ڈیم کا نام صرف دیامر ڈیم رکھ کر تمام قسم کے رائلٹیز صرف گلگت بلتستان کو دیا جائے۔لیکن حفیظ سرکاری اس حوالے سے بھی عوام کی نمائندگی میں ناکام رہے۔
گلگت بلتستان میں عوامی زمینوں کو خالصہ کے نام کی غلط تشریح کرکے عوام سے اُن کی زمینوں اور چراگاہوں کو چھین کر مختلف سرکاری اداروں کے نام الاٹ کرنے کیلئے بھی اُن کی حکومت نے پانچ سالوں تک سہولت کاری کے فرائض انجام دئےاور احتجاج کرنا سی پیک کے خلاف سازش اور ہندوستان کو خوش کرنے جیسے بھونڈے الزامات کر لوگوں پر جھوٹے مقدمات بناتے رہے۔
لہذا اُنکا یہ کارنامہ بھی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ صرف یہ نہیں بلکہ ہندورپ ضلع غذر میں کراچی ملٹری اگریمنٹ کے 29 جولائی 1949 بننے والی بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کے بجائے قانون سے بالائے طاق جرگہ تشکیل دیکر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی خوب پشت پناہی کی او ر وہ کوہستان سے گلگت بلتستان کے عوام کو شاہرا ہ قراقرم سے نہ گزرنے دینے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔ سکردو کرگل کوریڈور سمیت دیگر قدیم تاریخی راستوں کی بحالی کے حوالے سے مسلسل عوامی مطالبات کے باوجود اُن کی حکومت منقسم خاندانوں کی سہولت کیلئے ان قدیم گزرگاہوں کو بحال کرنے میں مکمل ناکام رہے بلکہ اپنی طرف سے ناممکن ہونے کی دلیل پیش کرتے رہے۔اسی طرح اُنہوں نے اپنے دور حکومت ایفاد پراجیکٹ جیسے غیرمُلکی این جی او کے منصوبے کو بھی فرقہ وارانہ بنیاد پر تقیسم کرکے عوام کو لڑانے کی کوشش کی اور نوازئیدہ اضلاع کو اس حوالے سے مکمل طور پر نظرانداز کیا۔
اُن کے تعصبانہ فیصلے اور عوام کو درپش مسائل آنے والی حکومت کیلئے ایک بڑے چلینج سے کم نہیں اور وفاقی حکومت کی اہم اور اولین ذمہ داری ہے کہ نئی حکومت بننے سے پہلے اُن پر لگنے والے کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرائیں تاکہ مسقتبل میں کرپشن اور من مانی کا دروازہ بند ہمیشہ ہوسکے اور میرٹ کا بول بالا ہو۔ گلگت بلتستان کے عوام کو بھی چاہئے کہ اس بار ووٹ مسلکی،لسانیت اور علاقائیت کی بنیاد پر دینے کے بجائے صرف اہل افراد کو میرٹ کی بنیاد پر دیں اور جو بھی اُمیدوار ووٹ مانگنے آئیں سے اجتماعی معاشرتی ترقی کیلئے حل کیلئے باونڈ دستخط کراِئیں۔ کیونکہ ایک اندازے کے مطابق ایک ممبراسمبلی کو پانچ سالوں میں ڈیڑھ ارب سے ذیادہ بجٹ ملتے ہیں جسکا کا نصف بھی اگر عوام کی فلاح کیلئے میں خرچ کیا تو گلگت بلتستان جو آج انفراسٹکچر کے حوالے سے قبرستان کا سماں پیش کر رہا ہے گلستان بن سکتا ہے۔

تحریر: شیر علی انجم

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc