جموں تبت معاہدہ۔1642

کشمیر اور کشمیریات سے دلچسپی رکھنے والوں اور گلگت بلتستان کے ان باسیوں کے لئے جن کی زبانیں یہ کہتے ہوئے تھکتی نہیں کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ نہیں بلکہ مسلہ کشمیر کا حصہ ہے ۔ ان حضرات کی خدمت میں تاریخ سے کشید کیا ہوا یہ چھوٹا سا معلوماتی تجزیہ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ خیال مجھے اس کا اس لئے آیا کہ لداخ میں ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ بڑی شدت اختیار کر چکا ہے ۔ خبروں کے مطابق حال ہی میں ۔دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں میں بھارتی افواج کے 20 سپاہی مارے جانے کی بھی خبر میڈیا کی زنیت بن چکی ہے ۔اس وقت کشیدگی کو کم کرنے کے لئے سفارتی محاذ پر بھی کوشش جاری ہے۔
آئیں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ یہ سرحدی تنازعہ کب سے شروع ہوا اور لداخ جو اس وقت جموں کا حصہ ہے کب جموں میں شامل ہوا اور گلگت بلتستان کے حصے کشمیر کی عملداری میں کیسے آئے ۔ اس وقت چین اور بھارت میں جس سرحد کا جھگڑا ہے اسے اقصائے چین کہا جاتا ہے ۔ حدو دربعہ اس کا کچھ یوں ہے ۔ اقصائے چین، تین ملکوں چین، پاکستان اور بھارت کی سرحد پر واقع ایک علاقہ ہے جو اس وقت چین کے زیر انتظام ہے۔عام لفظوں میں اس کا لفظی ترجمہ سفید ندی یا سفید پتھروں کا کیا جاتا ہے لیکن یہ لفط اکسائی چن نہیں بلکہ اقصائے چین ہے ۔لفظ اقصیٰ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی” دور،آخری سرا یا کنارہ یا سب سے پرے کے بنتے ہیں ۔اس کی دلیل یوں پیش کی جاتی ہے کہ حضرت داوود کی تعمیر بیت المقدس کو مسجد القصیٰ کہا گیا اس لئے کہ وہ مسجد الحرام سے بہت دور بنی تھی جس کے باعث عربوں نے اسے اقصیٰ کہا ۔ملک مراکش کا نام عربی میں مغرب القصیٰ جو کہ ہ غرب الادنیٰ (طرابلس و تیونس) اور مغرب الاوسط (الجزائر) کی نسبت دُور بحرا و قیانوس کے کنارے واقع ہے۔ اسی طرح لداخ اور چین کے درمیان واقع تکونی علاقے کو مسلم جغرافیہ دانوں نے اقصائے چین (چین کا آخری سرا) کا نام دیا تھا جو بعد میں چین کے بجائے چن کہلانے لگا ۔ یہ علاقہ ساڑھے ستر ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے جو درہ قراقرم سے شروع ہو کر شمال میں سنکیانگ (شِن جیانگ) اور مشرق اور جنوب میں تبت کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔اقصائے چین ہو یا اکسائی چن یہ مسلہ آج کا نہیں بلکہ اس مسلے کا تاریخی پس منظر پُرانا ہے ۔
مورخین کے مطابق لداخ کی 1500 سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ موجودہ تنازعہ ایک پُرانے سلسلسے کی کڑی ہے ۔ لداخ کسی زمانے میں ایک بڑی بادشاہت تھی اور مغربی تبت اور بلتستان بھی اس کا حصہ تھے ساتویں اور آٹھویں صدی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ لداخ اور اس سے ملحقہ علاقہ جات دردستان جغرافیائی طور پر ہمیشہ ایک الگ خطے کے حثیت سے رہے لیکن بعض اوقات یہ خطے اپنے ہمسایہ ممالک کے تابع بھی رہے ۔جس دور میں لداخ تبت کا حصہ اور ایک صوبے کی حثیت میں تھا چین کے زیر تسلط تھا اس دور میں جہاں تبت چین سے آزادی حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا تو وہاں وہ خلیفہ ہارون الرشید کی لداخ میں دلچسپی اور اس کی قیادت میں عربوں کی وسطی ایشیا کی طرف پیش قدمی کے حالات سے بھی دوچار تھا ۔تب سے گلگت، بلتستان اور لداخ چین، تبت ،اورعرب سلطنت کے درمیان سیاسی کشمکش کا مرکز بھی رہے۔یہ ساری کشمکش کس بات پہ تھی تو اس کا آسان جواب یہ ہے کہ ترکستان تک رسائی ۔اسی دور میں ہی چین اور کشمیر کے ایک اتحاد کا بھی ذکر مل جاتا ہے جس کی وجہ عربوں کی اس خطے میں بڑھتی دلچسپی اور دبائو بتایا جاتا ہے ۔ 747 میں ایک بڑی فوج جسے کشمیر کی حمایت حاصل تھی بلتستان پر اپنا زور قائم کیا اور بعد میں گلگت تک اپنا اثر رسوخ بڑھانے میں کامیاب رہی مگر ان کی یہ فتح عارضی ثابت ہوئی چین کو 751 میں عربوں کے ہاتھوں شکست ہوئی اور اسے مغربی ترکستان کا ایک بہت بڑا حصہ عباسی خلیفہ کے حوالے کرنا پڑا ۔اس صورت حال کا بدلائو اس وقت ظاہر ہوا جب تبت نے ترکستان پر اپنے قدم جمائے اور عباسی خلیفہ کے مشرقی حصہ میں اسلام پھیلانے کے راستے میں رکاوٹ بنے کھڑے رہے ۔اس صورت حال سے نبٹنے کے لئے 798 کو خلیفہ ہارون الرشید نے معاہدے کو ختم کر دیا ۔۔ 808 میں دوبارہ وسطی ایشیا میں مہم کا آغاز ہوا تو خلیفہ ہارون الرشید کا اس دوران انتقال ہو گیا اور یوں یہ پیش قدمی رک گئی یا موخر کر دی گئی ۔بات یہاں ختم نہیں ہوتی ہے مغلوں کے دور ‘1586 اکبر بادشاہ کے دور سے لیکر سے 1752 اورنگ زیب بادشاہ کے دور تک کشمیر کی تاریخ میں بہت اتار چڑھائو کی تصویر دکھائی دیتی ہے ۔ 1700 عیسوی کا دور وہ دور ہے جس میں لداخ کے حکمرانوں نے منگولوں کے حملے سے بچنے کے لئے مغل بادشاہ شاہ جہاں سے مدد کی درخوست کی تھی ۔جب منگولوں کو شکست ہوئی تو اس کے بعد لداخ نے اعلان کر دیا کہ اب وہ صرف کشمیر کے ساتھ تجارت کرے گا۔ لیکن مغل فوج کے لداخ سے نکل جانے کے بعد یہاں منگول پھر واپس آگئے اور مقامی حکمرانوں کو انہیں نذرانہ دینے کا وعدہ کرنا پڑا۔اس صورت حال کے پیش نظر ہی مغل بادشاہ نے لداخ پر دوبارہ چڑھائی کا ارادہ کیا تھا تب مغل بادشاہ کے اس حملے کو اور روکنے اور اپنے کو محفوظ رکھنے کے لئے لداخی حکمرانوں کا نذرانہ اور خراج دینے کا وعدہ کام آیا نذرانے کا یہ سلسلہ مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد افغان حکمران احمد شاہ ابدالی 1752 کا قبضہ پنجاب اور کشمیر تک برقرار رہا جب 1819 میں رنجیت سنگھ نے پنجاب اور کشمیر پر قبضہ حاصل کیا تو لداخیوں کی طرف سے یہ خراج اور نذرانہ روک دیا گیا یہ بات رنجیت سنگھ کو پسند نہیں آئی۔اس دور میں راجہ گلاب سنگھ کے جرنیل زور آور سنگھ کے حملے تبت،لداخ اور بلتستان 1834 تا 1841 تاریخ میں دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ ان تمام فتوحات کوایک معجزہ قرار دیا جاتا ہے لیکن دیکھا جائے تو اس کے پیچھے برطانوی حکومت کے مفادات دکھائی دیتے ہیں ۔ایک معاہدے کی شکل میں رنجیت سنگھ کو اس بات کا پابند بنایا گیا تھا کہ وہ دریائے ستلج کے جنوبی علاقوں کی طرف پیش قدمی اور مزید علاقوں کو اپنی عملداری میں لانے کی کوشش نہیں کرینگے اور شمالی سرحدوں کی طرف کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی اور زور آور سنگھ کی شمالی جانب پیش قدمی کے باعث علاقے جموں ، لداخ بلتستان ، تبت اور گلگت تک سکھا شاہی یا سکھ سلطنت یا خالصہ سرکار کی سرحدیں قائم ہوتی گئیں اور 1840 سے 1842یہ علاقے جموں کا حصہ بنے ۔۔ اور جب یہ علاقے جموں کا حصہ بن گئے تو لداخ کے دارالحکومت لیہ میں جموں اور تبت کے حکمرانوں کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پایا جس کے تحت اس امید کا اظہار کیا گیا کہ چین کے بادشاہ لہا سا کے دلائی لامہ اور کشمیر لداخ کی سرحدوں اور تجارتی سرگرمیوں کا احترام کرینگے جس کی توثیق چین کی حکومت نے بھی کردی تھی۔ مؤرخ کے ایم پانیکر نے اپنی کتاب ’گلاب سنگھ: فاؤنڈر آف کشمیر (کشمیر کے بانی)‘ میں اس معاہدے کی تفصیلات بتائی ہیں۔ کتاب میں پیش کیے گئے ان معاہدوں میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ ’چین کے بادشاہ، (تبت کے دارالحکومت) لہاسا کے دالائی لامہ اور کشمیر کے مہاراجہ کی دوستی ازل تک قائم رہے گی۔
ایک اہم بات یہ کہ 1842 میں جو امن معاہدہ لداخ میں جموں کشمیر اور تبت کے درمیان ہوا اس کی بنیاد اور پیش نظر وہی جموں تبت معاہدہ تھا جو 1684 میں طے پایا تھا جس کے تحت مغل حکمرانوں نے لداخ کی مدد کی تھی۔۔ جموں لداخ گلگت بلتستان دنیا کے برف پوش چوٹیوں خشک وادیوں انتہائی گرم دن اور انتہائی سرد راتوں والے ان خطوں میں آخر وہ کونسی جادوئی کشش ہے جو برطانیہ اور چین اور اب امریکہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔ چین اگر آج گلوان میں سرگرم دکھائی دیتا ہے اس کے پیچھے کیا کارن ہے ؟ اس کو سمجھنے اور جاننے کے لئے رنجیت سنگھ اور انگریزوں کی لڑائی اور معاہدہ امر تسر کو نہ صرف پڑھنا لازم ہے بلکہ اسے سمجھنا بھی ضروری ہے ۔لازمی بات ہے کہ رنجیت سنگھ کو مجبور کرنے والے اور ڈوگرہ جرنیل گلاب سنگھ کے مابین اس معاہدے کو کو طے کرنے والوں نے سارے معاہدے ضرور اپنے پیش نظر رکھے ہونگے ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر گلگت بلتستان کی سرحدات کا تعین آج کی بات نہیں یہ تو 1684 سے موجود ہیں اور اس کے بعد 1842 اور پھر 1846 معاہدہ امرتسر دریائے سندھ کے دائیں طرف کے حصے اور پھر فتوحات کے نتیجے میں ان الگ الگ راجوڑیوں کو ایک لڑی میں پرو یا گیا تھا ۔اب اگر چین نے پیش قدمی سے کشمیر کاکچھ حصہ انڈیا سے یا کچھ پاکستان کی طرف سے مفت حاصل کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کی حثیت یا اس کی سرحدات کا کوئی تعین نہیں تھا ۔ ے شک انڈیا ہمارا دشمن ہے اور کشمیر پر قبضہ جمائے ہوئے ہے اور دوسری طرف کشمیر کا ایک حصہ پاکستان کے زیر انتظام جبکہ اقصائے چین یا اکسائی چن چین کے قبضے میں ہے کیا ان ممالک کے ان اقدامات کو جائز تصور کیا جا سکتا ہے ؟ہر گز نہیں ۔ یہ سراسر معاہدات کی خلاف ورزی کے سوا کچھ نہیں ۔جو ریاست 15 اگست اٹھارہ سو بیالیس مابین معاہدہ جموں و تبت اور 1846 معاہدہ امرتسر ما بین گلاب سنگھ و انگریز کے تحت وجود میں آئی ہو وہ ریاست جموں و کشمیر گلگت بلتستان ہی ہے اور ریاست ہی کہلائے گی ۔اس میں شامل کشمیر جموں لداخ بلتستان گلگت اور پولیٹکل علاقہ جات ریاست جموں و کشمیر ہی کہلاتے ہیں اور کہلائینگے۔ان تاریخی شوائد کے بعد بھی کسی کو انکار ہے تو پھر ان کے لئے قرآن کی کوئی آیت ہم تلاش کرنے سے قاصر ہیں ۔رہی بات گریٹ گیم کی ا س ک بارے ان تاریخی شوائد کے علاوہ دیگر تاریخی مواد اور مشاہدے سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے ہمارے نزدیک گریٹ گیم یہ ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید کی دلچسپی ہو یا مغل دور حکمرانی اور یا پھر ایسٹ انڈیا کمپنی پلان اور پھر اس سے آگے انگریزوں کی کیمیونسٹ انقلاب کی روک تھام کے تحت لداخ جموں بلتستان اور گلگت کی تسخیر، اس کے بعد 1877 میں گلگت میں انجنسی کا قیام اور 1891 میں ہنزہ نگر جنگ اور پھر چترال تک کی چڑھائی اور اب لداخ کی تازہ ترین جھڑپیں ان سب کا تعلق ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ کسی پیار اور محبت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ہی مقصد ہے وسطی ایشیا میں بالادستی اور اقتصادی برتری ۔

تحریر۔ہدایت اللہ اختر۔۔گلگت

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc