شہرت کی صلیب پر لٹکتا ہوا تحقیق کا جنازہ..

بلتستان کے مرکزی شہر سکردو کے شمال میں دریائے سندھ کے اس پار سکردو ہی کے رقبے برابر وسیع لیکن نسبتاًغیر آباد گاؤں آباد ہے جہاں کی آبادی لگ بھگ دس ہزارنفوس پر مشتمل ہے۔ یہ گاؤں وسیع رقبے کے حامل ہونے کے باوجود پانی کی قلت کے سبب زیادہ تر غیر آباد اور سکردو شہر سے قریب ہونے کے باوجود تمام تر جدید سہولیات سے محروم ہے۔پچھلے دنوں شاید 13 جون 2020 کو کواردو کے موضع سترانگ لونگما کے عوام نے اپنی متعلقہ زمینوں سے دو سو کنال پر مشتمل اراضی بلتستان یونیورسٹی کو عطیہ کی ۔ جس کی تنصیب تختی کی تقریب میں شرکت کے لئے بلتستان یونیورسٹی کے کچھ ذمہ داران نے کواردو سترانگ لونگما کا دورہ کیا تھا۔ مقامی لوگوں کی سادہ لوحی دیکھئے کہ علاقے کے سرکردہ افراد نے الٹا یونیورسٹی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور احسان مانا کہ انہوں نے مفت عطا کردہ اراضی کو قبول کیا اور یونیورسٹی کی تختی متعلقہ زمین پر نصب کر کے علاقے کے نصیب تابناک بنا دئے۔سننے میں آیا بلکہ مذکورہ تقریب کی تصاویر بھی گواہ ہیں کہ بلتستان یونیورسٹی کا شیخ الجامعہ تقریب میں شریک نہیں تھے اور غالبا بعد میں وہاں پہنچے تو علاقے کے کچھ افراد نے ذکر کیا کہ گاؤں کی شاہراہ سے تقریباً کچھ بلندی پر سنگ مرمر کا تراشا ہوا ایک نشان موجود ہے۔ شیخ الجامعہ نے دیگر اساتذہ اور عملے کے ساتھ متعلقہ جگہ کا دورہ کیا جن میں برادر ڈاکٹر ذاکر تھسنگ کا نام قابل ذکر ہے۔ وفد کے افراد نے مختلف زاویوں سے اس تراشے ہوئے جمع کے نشان کی تصویریں لیں۔ایک شہرت پسندانہ ذہن اور شاطرانہ دماغ کی ایک بڑی خامی یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی بات کی تاریخ اور پس منظر کے بارے میں تسلی بخش تحقیق اور مستقبل کے نتایج و مضمرات کے بارے میں غور و فکر کئے بغیر شہرت اور نمود و نمایش کے لئے کوئی بھی حماقت کا کام انجام دینے کے لئے آمادہ رہتا ہے۔ چنانچہ ثقافتی، تمدنی، لسانی اور آثار قدیمہ کی تحقیق و تدقیق کے ابجد سے ناآشنا وائس چانسلر نے صرف شہرت کے حصول اور بااثر عیسائی حلقوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے بنا سوچے سمجھے اسے عیسائی صلیب قرار دیا اور قومی اور بین الاقوامی سطح کے میڈیا میں اس غیر ثابت شدہ دعوی کو حقیقت بنا کر جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دیا ۔ علم و تحقیق سے جڑا ایک طالب علم بھی یہ بات جانتا ہے کہ تحقیق میں “مقدس” لفظ کوئی معنی نہیں رکھتا اور نہ ہی آسمانوں یا جنت سے اتارے جانے “جیسی بچگانہ باتوں کی کوئی حیثیت ہوتی ہیں چنانچہ المیہ یہ ہوا کہ ماہرین کی تحقیق کی روشنی میں کسی علمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل ہی دوسرے دن کے مقامی اخباروں میں شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان کا یہ بیان اہل تحقیق کا منہ چڑا رہا تھا کہ “بلتستان یونیورسٹی نے کواردو میں مقدس صلیب کا نشان دریافت کر لیا۔ ایسا لگتا ہے کہ قراقرم کی وادیوں میں یہ صلیب آسمانوں اور جنت سے لایا گیا ہے۔” شاہراہ سے دو کلومیٹر بلندی پر دریافت ہونے والے اس پتھر کے بارے میں بڑھا چڑھا کر اور حقایق کو مسخ کر کے منفی پروپیگنڈا پھیلانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے چنانچہ آئے روز ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں تاریخ بشریت کی اس بے مثال دریافت کی گونج سنائی دیتی ہے کہ پہاڑ کی چوٹیوں پر بارہ سو سال قدیم صلیب کا نشان دریافت ہو گیا ۔اس بچگانہ دعوی کے بعد لوگوں نے ملے جلے رد عمل کا مظاہرہ کیا ۔ کچھ لوگ اس عظیم دریافت کے بعد ملنے والی شہرت پر خوش تھے تو بعض لوگ نے اسے اسلام دشمنی اور عیسائیت دوستی پر محمول کر کے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔ میں تقریبا گذشتہ دو ہفتوں سے بلتستان یونیورسٹی کے فیس بک پیج پر اس دعوے کی تائید میں مختلف بیانات اور اخبارات اور ٹی وی رپورٹس پڑھ پڑھ کر حیران و پریشان ہو رہا ہوں کہ ایک اعلی تعلیمی اور تحقیقی مرکز ایسی حماقت اور اس پر اس ڈھٹائی سے اصرار کیسے کر سکتا ہے جس چیز کی اصالت و اصلیت کے بارے میں ابھی تک کوئي مبسوط تحقیق یا کسی ماہر آثار قدیمہ کا تجزیاتی مطالعہ بھی ابھی سامنے نہیں آیا۔جہاں ایک طرف بلتستان یونیورسٹی کے ماہر نباتات وائس چانسلر کی ارض بلتستان کی تاریخ اور تہذیب و تمدن کے حوالے سے کی جانے والی بے بنیاد باتوں کو آنکھ بند کر کے ماننے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے وہیں دو صاحبان علم افراد یعنی جناب عباس کاظمی صاحب اور برادر مولانا سجاد شاکری صاحب نے حقیقت سے زیادہ قریب تر امکانات کو تحریری شکل میں بیان کیا ہے جو قابل غور ہے۔جناب عباس کاظمی صاحب بلتی زبان و ادب اور بلتستان کی تاریخ کے حوالے ایک معتبر نام ہیں۔ آپ علاقے کی قدیم و جدید تاریخ اور ماضی و حال کے نشیب و فراز بخوبی آگاہ اور تہذیب و تمدن کے اسرار و رموز سے بھی آشنا ہیں۔ انہوں نے 15 جون 2020 کو اپنی فیس بک کی دیوار پر موجودہ نشان” کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے یونیورسٹی کے دعوی کی مخالفت میں بجا طور پر یہ واضح کر دیا کہ تاریخی تناظر میں اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ تاریخ کے کسی بھی دور میں عیسائی مبلغین نے اس علاقے کا تبلیغی دورہ کیا ہو یا کوئی عیسائی مشینری نے اس نہج پر کوئی تبلیغی مہم چلائی ہو لہذا اسے صلیب کا نشان قرار دینا درست نہیں۔سجاد شاکری ایک نوجوان اہل علم و تحقیق ہیں۔علاقہ کواردو کے موضع سترانگ لونگما سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور علاقائی تاریخ کے بارے میں علمی اور منطقی ادراک رکھتے ہیں۔ انہوں نے بھی ایک مفصل مقالے میں علاقے کے بزرگوں کی روایات اور چشم دید شواہد کی بنیاد پر اس نشان کے صلیب کے نشان ہونے کے امکان کو رد کیا اگرچہ ان کا انداز اسلامی تاریخ و اقدار کے وفاع کا ہے لیکن ان کے دلائل اور شواہد عقلی، منطقی اور اصول تحقیق کے مطابق ہیں۔راقم الحروف کا تعلق بھی علاقہ کواردو سے ہے اور اپنی زندگی کے کم و بیش انیس بیس سال اسی علاقے میں کھیلتے کودتے اور بزرگوں کی صحبت میں علاقے کے آداب و رسوم اور تاریخ کے بارے میں سیکھتے ہوئے گزارے ہیں۔ موضع سترانگ لونگما میں ہماری بھی زمینیں ہیں اور بچپن سے یہاں کے کھیت کھلیانوں، نہروں، چشموں ، تالابوں، مذہبی اور قدیمی عمارتوں ، میدانوں اور پہاڑوں کو دیکھتے ہوئے زندگی کے بیس بہاریں گزاری ہیں اور اب بھی اپنے بزرگوں اور تاریخی کتابوں کے ذریعے بلتستان خاص طور پر کواردو سے مکمل طور پر جڑا ہوا ہوں۔ بظاہر اس نام نہاد صلیبی نشان کی دریافت سے میرے آبائی گاؤں کو پوری دنیا میں ایک شہرت ملی ہے اور آگے بھی کجھ ترقیاتی کاموں کے امکانات واضح ہیں لیکن علم و تحقیق کے ایک ادنی طالب علم کی حیثیت سے اس بارے میں خاموشی اختیار کرنا ایک طرح علم دشمنی ہے لہذا کچھ وضاحتیں کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔میں یہ بھی وضاحت بھی کرنا چاہتا ہوں کہ میں دنیا کے سارے ادیان و مذاہب کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہوں اور ہمیشہ معقولات کو منقولات پر ترجیح دیتا ہوں۔ لہذا میری تحریر کا مقصد عیسائیت کی نفی یا اسلام کی تائید ہرگز نہیں ہے بلکہ میں صرف اصول تحقیق کی بنیاد پر تاریخی اور تہذیبی تناظر میں یہ بات تحریر کر رہا ہوں۔مذکورہ بالا شخصیات کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بلتستان کی تاریخ میں وسیع پیمانے پر عیسائی مشینری کی کسی بھی سرگرمی کا کوئي ثبوت دسترس میں نہیں ہے اور نہ ہی سینہ بہ سینہ چلنے والی روایات میں ایسی کسی بات کا تذکرہ موجود ہے ۔ اس کے علاوہ موجودہ نشان اپنی وضع قطع اور تراش خراش کے لحاظ سے بھی کسی طرح صلیب کے نشان سے مماثلت نہیں رکھتا لہذا بیک جنبش قلم اسے صلیب کا مقدس نشان قرار دینا تاریخ سے عدم واقفیت اور اصول تحقیق سے ناآشنائی کا نتیجہ ہے۔کواردو ہی کیا بلتستان کے طول و عرض میں آج بھی ایسی عمارتیں موجود ہیں جس میں دریافت شدہ پتھر کی شکل کا سنگی یا چوبی سرستون (Capital of Column) کا استعمال کیا گيا ہے جسے بلتی زبان میں “پھلی” کہا جاتا ہے ۔ بلتستان میں قدیم الایام سے بدھ مت کے اثرات کے نتیجے میں خوش قسمتی اور نیک شکون کے طور پر یونگ درونگ یا سواستیکا کا نشان تعمیرات میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اسلام کے آنے کے بعد اس کا استعمال کم ہوا ہے لیکن معدوم نہیں ہوا ہے۔ آج بھی مختلف دروازں اور چھتوں پر اس کا استعمال دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض دیگر تمدنی آثار میں پائے جانے والے سرستونوں کے بر عکس بلتستان میں چہار ضلعی سرستون مستعمل تھے جو یونگ درونگ کے چار اضلاع کو ظاہر کرتے ہیں لہذا عین ممکن ہے کہ یہ بھی یونگ درونگ شکل سے متاثر ایک تعمیراتی سر ستون ہی ہو جسے صلیب کے نشان کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔جیسا کہ برادر شاکری نے بھی اپنے مقالے میں اشارہ کیا ہے کہ اس نشان کے علاوہ پتھر سے بنے بعض دیگر عمارتی سامان جن میں دوسرا سرستون، دروازے کی چوکھٹ اور ستون کا نچلا حصہ (Base of Pillar)بھی باقی ماندہ نشان کے قریب موجود تھا جو بعد میں لوگوں کے عدم واقفیت کی بنا پر دست برد زمانہ سے ضائع ہو گیا ہے جسے ممکنہ طور پر کسی مسجد، امام بارگاہ یا مقامی حکمران طبقے کے کسی محلاتی تعمیر کی خاطر تیار کیا گیا ہو لیکن کسی وجہ سے استعمال میں نہ لایا جا سکا ہو لہذا علمی دیانتداری کا تقاضا یہی ہے کہ یک طرفہ طور پر بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے اس نشان کا تاریخی تعلق مسیحیت سے جوڑ کر غلط سمت میں نکل جانے کے بجائے اس کی جڑوں کو بلتی تہذیب و تمدن میں ہی تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ کسی منطقی نتیجے تک پہنچ سکیں۔میرے خیالات بلتستان کی تاریخ اور علاقائی تمدنی آثار و شواہد کی بنیاد پر نتیجہ گیری کی ایک غیر متعصبانہ اور طالب علمانہ کوشش ضرور ہے لیکن اسے کوئی حتمی نتیجہ ہرگز نہ سمجھا جائے چنانچہ مذکورہ پتھر کے پس منظر اور تاریخ کے حوالے سے جب تک آثار قدیمہ کے ماہرین کی طرف تفصیلی جائزہ لے کر کوئی حتمی رپورٹ سامنے نہیں آتی تب تک سارے مفروضے اور قیاس آرائیاں کوئی معنی نہیں رکھتیں چاہے یہ دعوے یونیورسٹی کے پلیٹ فارم سے کئے جائیں یا انفرادی طور پر۔جامعہ بلتستان کے ذمہ داروں سے درخواست ہے کہ متعلقہ شعبے کے ملکی اور غیر ملکی ماہرین کو بلا کر دریافت شدہ نشان کی مفصل جانچ کرائی جائے اور حاصل شدہ ٹھوس نتایج اور شواہد کسی مستند علمی اور تحقیقی مجلے میں شایع کرائیں تب تک مزید اپنی بے بنیاد قیاس آرائیوں سے علاقے کی تاریخ کو مسخ کر کے اپنے لئے شہرت کا سامان مہیا کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
تحریر: ڈاکٹر نذیر بیسپا

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc