امپورٹڈ بیوروکریسی اور وزیر

کسی کا داماد،کسی کے رشتےدار کے دوست ہیں ،کسی کا چچا نگران حکومت میں ،کسی کو چائے پلائی ہے،کسی کو وکالت کے لیے پیسہ دیا ہے،کسی کو فری میں انٹری دی ہے اور کوئی خود یا انکے گھر والے تحریک انصاف میں ہے میرا بیٹے نے بھی کہا ابو مجھے آرمی میں جانا ہے تو میں نے عارف اسلم کی مخالفت چھوڈ دی اور میرا مطالبہ ہے کہ بلستان کے ہر حلقے سے تحریک انصاف کا ٹکٹ غیر مقامی افراد کو دی جائیں مثلا حلقہ #دو اس دفعہ عارف اسلم صاحب کو دیا جائیں حکومتی ٹکٹ کے ساتھ انکی جیت یقینی ہے اور ہم عارف اسلم صاحب کو وزیر اعلیٰ دیکھنا چاہتے ہیں۔۔ کیونکہ وہ برگیڈر صاحب کے فرزند ارجمند ہمارے کونسے ازلی دشمن ہیں۔۔عارف اسلم صاحب جب سب کو فیسبک والی عارفہ اسلم بلتی لگتی ہے تو ہم کب تک اسکو عارف بناکر رکھیں وہ بھی جب مقامی وہ لوگ جنہوں نے وزیر بنا تھا یا رہے گا سلسلہ تو میرے جیسا گاؤں کا بندہ جہاں آج بھی بچوں کے لیے اور بچیوں کے پرائمری اسکول نہیں کیا اتنے بڑے پنگے لینا ہے ! جب سب کے مسلے عارف بلتی حل کرتا ہے تو کیوں نہ میں بھی بلتی میں ایک بات کرکے دیکھو ہوسکتا ہے کسی منسٹر ،جنرل سکریٹری سے ڈایریکٹ بات کرکے میرے گاؤں کے اسکول بھی بنا ڈالیں اور مجھے بھی شنگریلا کی فری سیر کرا دے گا اگر یہ کام نہ بھی ہوا تو گلگت بلتستان میں موجود آفسر شاہی اور فوج کے زمہ داران کی نظر میں تو میرا ایک اچھا امیج جائے گا یہ علی شفا بہت پرامن بندہ ہے اس سے مستفید ہونے کے بہت سے طریقے ہیں جو مجھے معاشرے میں موجود مفاداتی گروہ اچھی طرح سمجھا سکتے ہیں ہاں اگر میری کسی تحریک انصاف والے سے اسی بات پر دوستی ہوگئی تو ٹکٹ بھی میں اپنے کسی رشتےدار کو دیلا سکتا ہوں کیونکہ روندو حلقہ چار میں اب تک ایک قصاب کے علاؤہ کوئی غیر مقامی شخصیت موجود نہی جو ٹکٹ کی دوڑ میں اوپر سے بات کریں ۔۔۔اسکو تو میں مقامی کوئی جوہ دے کر گوشت کاٹنے پر لگا سکتا ہوں ۔۔۔۔ویسے بھی ابھی تک تو روندو میں سب ڈویژن کے ملازمین نہیں رہتے ہیں تو اتنا بڑا اثر والا شخص کیوں رہے گا اسطرح میرے رشتےدار کا اسمبلی میں جانا پکا ہوا ۔۔۔ اب اگلہ کام کوئی ایسا رشتےدار کو سیلکٹ کرنا جو اسٹبلشمنٹ اور عارف اسلم جیسے سرمایہ دارانہ سوچ کو خوش رکھ سکے ہونے اسکی اپنی کوئی سوچ نہ ہو اور لازم ہے علمائے کی باتوں سے باہر جانے والا نہ ہو ۔۔۔حرام کمانے کا پورا طریقہ آتا ہو اور اتنا بےحس ہو کہ کسی کوبھی خوش کرسکے اگر ہر کسی کو خوش نہیں کرسکتا ہے تو خاموش رہنے والا تاکہ ووٹرز کو پتہ نہ چلے کہ یہ لیڈر ہمارا ہے اسٹبلشمنٹ تاکہ آگے چل کر ووٹرز کی ترجمان وہی بندہ رہے ورنہ آج کل یہ سوشل میڈیا کے بے کار لوگ ہر بات پر آواز بلند کرکے لوگوں کی ساخت خراب کر رہیے ہیں کل ہی کی بات ہے تھوار جیسے پسماندہ گاؤں کے ایک نوجوان کو ایف ڈبلیو او جیسے عظیم ادارے کے بہادر جوانوں کے خلاف لکھ رہے تھے بس ایک اںراہیم شاہ نامی ڈرائیور کا سر پھاڑ دیا شکر کرو یہ تو فوجی ہیں گولی مارتے ہیں کھی انڈیا کی درگت لگتے نہیں دیکھی ہوگئی ورنہ کھبی نوجوان کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے تحریک انصاف والوں کی طرح سیلوٹ سر کار کرتے ۔۔۔وہ تو شکر کرو اپنے علاقے میں ممںران اسمبلی کی مہربانی سے بجلی نہیں اور ایس سی او کی مہربانی سے انٹرنیٹ نہی ورنہ آپ ۔۔۔ وہ ائی ایس پی آر والے جنگی ڈراموں کو دیکھ کر تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہماری فوج کسطرح مشکل حالات میں ہزاروں کام ایک ساتھ کرتے ملکی معیشت کی بہتر گوڈ گورننس ،دشمن کے بچوں کو پڑھنا اور گلگت بلتستان کی زمینوں کی دیکھ بھال کرنا اور سننے میں آیا ہے اس دفعہ تو نگران حکومت بنانے میں پورا وقت انکا ہے صرف ہوا ہے کیونکہ حفیظ الرحمن اور کپٹین شفیع کی لسٹ والے لوگ غائب ہوگئے تو انکا خیال ہے یہ کام بھی جوٹیال والوں کا ہے ۔۔وہسے گلگت بلتستان کے طوفیلی سیاستدانوں کا وطیرہ رہا ہے کہ جب حکومت میں ہوں تو سب کچھ ہم نے کیا اور جوٹیال والے فرشتوں کی بستی ہے جیسے حکومت سے آؤٹ جوٹیال والے گلگت بلتستان میں ہونے والی ہر برائی کے نہ صرف پلانرز ہیں بلکہ مونٹرینگ بھی جوٹیال کی شو کرتے ہیں اور نجی محافل میں کھل کر ہر نہ ہونے والے کام کے پیچھے جوٹیالی مخلوق کو شو کرتے ہیں اور ہر اچھا کام اپنی یا پارٹی کے کھاتے میں ڈالتے ہیں اسطرح میرے جیسے کم علم آدمی کے پاس جوٹیالی مخلوق کو کوسنے کے علاؤہ کوئی آپشن نہیں کیونکہ سیاستدان تو فرشتوں کی صفات اور اپنی بے بسی کا پہلے زکر کر کے ہیں اب ایسے حالات میں ایک نارمل انسان کے پاس دو آپشن ہیں یا تو اس سماج میں مفاداتی بن کر تعریف کرنا اور نعرے لگانا شروع کریں یا پھر جنگل کا انتخاب کرنا ہوگا ۔۔پہلا آپشن آسان ہے بس اپکو انکی طرح بے ضمیر کمپنی کی چند گولیاں کھانی پڑھینگی ۔۔تاکہ آپ بھی مطلب حل ہو اور تقسیم کرنے والوں کی کتاب میں اچھے نمبر پر ہوں۔۔۔۔بلتستان کی موجودہ حالات تاریخ میں کہیں اور نہیں میلنگیں کیونکہ اپکو شاید ہی ایسی تاریخ ملی جو اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سودا آج ایک کپ چائے اور قہوہ پر کرتی ہو یا فلاں صاحب نے فون کیا تھا وغیرہ ۔۔۔۔ خدا کا شکر ہے امام حسین علیہ السلام جنگ گلگت بلتستان میں نہیں لڑے ورنہ بہتر بھی نہیں ملتے اور ہم دو عشورہ کس منہ سے مانتے ؟ شاید کوفہ تو بس اب صرف تاریخی طور پر بدنام ہے کیونکہ عملاً تو تجربات ہمارے سامنے ہیں امریکہ کے ساتھ لڑائی میں دیکھنا مقتدا صدر کی قیادت میں امریکی فوج کے ساتھ پھر دایش کے ساتھ رضاکارانہ جنگ کر کے ثابت کر دیا کہ کوفہ اصلاح کرچکے ہیں ۔اب وہ کوفے والے تو اگلگت بلتستان میں بستے ہیں خصوصاً میرے پرامن بلتستان میں جہاں ہر برائی کو امن کی خاطر بڑھنے دیا جاتا ہے کہیں امن خراب نہ ہو جائیں لیکن مجھے اپنے ہائی اسکول کے دور سے اب تک یہ امن کی تشریح سمجھ نہیں آئی کیا یہ کوئی مقامی اصطلح ہے خیر ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے کیونکہ ہم نے فیصلہ کر لیا کہ اب کوفیوں کے ساتھ نہیں رینگے اگر ہمیں گلیشیر پر رہنا کیوں نہ پڑے ہم کربلا والوں کے علاؤہ کسی کوفی کی چالوں میں نہی آنے والے جہاں رشتہ احساس کا ہے درس سچائی اور دوستی صبر اور استقامت کے ساتھ اور زندگی کا مقصد فنا ہونا ہے تو کیونکر لائلچ تما اور مادی ترقی کی رفتار کے خاطر عارف اسلم یا طلحہ محمود جیسے لوگوں کی وکالت کروں مجھے چائے قہوہ صحبت اختیار یا ٹکٹ نہیں چاہیے مجھے بس ژندہ ضمیر زندگی چاہیے یہی جہاں میں سچ کو میراث بناکر پیغام حق دیتا رہوں جھونپڑی میں رہ کر شنگریلا جیسے پرفضا ماحول میں بھی دم گھٹنے لگتا ہے اگر سچائی اور حق سے بندہ دور ہوں تو ۔
پروفیسر علی شفا ۔
سابق امیدوار صوبائی اسمبلی گلگت بلتستان۔
چیرمین سپریم کونسل
بلتستان یوتھ الائنس

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc