کیا سی ایس ایس واحد راستہ ؟

ہمیں معاشرے میں ہر شعبے کا احترام کرنا سیکھنا چاہیے والدین اور معاشرہ لوگوں کو جذباتی کرنا چھوڑیں ورنہ یہ ایک ایسی تباہی لے کر آئے گا معاشرے میں ہر طرف تباہی ہوگئی شعبہ اچھا یا برا نہیں ہوتا اس میں کام کرنے والے افراد اس شعبے کو عزت دینے اور بے آبرو کرنے میں شامل ہوتے ہیں آج کل سوشل میڈیا میڈیا میں سی ایس ایس کو لے کر ایک بحث چلی ہوئی ہے کیا ڈاکٹر ،انجینرز اور سی ایس ایس والوں کے علاؤہ باقی سب پیشے فضول ہیں ؟
تو انکے بغیر معاشرتی زندگی کا سوچیں ممکن ہے کیا میرے اپنی رائے ہے استاد کو معاشرے کا سب سے اچھی عزت احترام اور ہائی پیڈ پیشہ ہونا چاہیے اور باقی شعبوں کی معاشرے پر اتنا گہرا اثر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ معاشرہ اگر استاد کو آئڈیلائیز کرے گا تو معاشرے میں اخلاقیات اور انسانیت کا چارسو پرچار ہوگئی جس کا مطلب ہے معاشرے میں مثبت پہلو کی بنیاد مظبوط ہوگئی اور معاشرتی برابری اچھائی کا تسلسل جاری رہے گا جو کہ نظام معاشرت کی بہتری کیلئے ایک بہت ضروری عنصر ہے ۔ دوسرے شعبوں کی اپنی اہمیت اور فضیلت اپنی جگہ مگر استاد کی اہمیت اور فضیلت یونیورسل ہے ۔۔۔ہم گلگت بلتستان والے متحدہ ہندوستان کے بریٹیش دور حکومت کے آخری عشرے کی معاشرتی ذہنیت میں داخل ہوگئے ہیں بقول میرے سابق پروفیسر سید احمد صاحب جو خود بھوپال متحدہ انڈیا کے تھے تقسیم کے بعد پوری فیملی کے ساتھ پاکستان آئے تھے اور انگلش کے استاد رہے اللہ تعالیٰ انکو صحت دیں آمین انگلش کے ساتھ ہسٹری اور معاشرت کی تعلیم سے آراستہ کیا ہمیں ۔۔۔۔پروفیسر صاحب کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں کھبی رشتے نوابوں اور انکے وزیروں اور انکے رشتے داروں کو چن کر دئے جاتے تھے پھر ایک وقت آیا کہ لوگ ادبی حلقوں اور علمی گھرانوں میں کرنے لگے اور جب انگریزوں کی تبدیلی کے بعد معاشرے میں نیا سوچ میں انقلاب آیا وہ تھا کلکٹرز اور آئی ایس پیز میں رشتےداری کرنا ہونے ترجیح کا زکر کوریا ہے ۔۔پھر جب پاکستان بنا تو جو لوگ پاکستان میں جنون کے ساتھ داخل ہوگئے تھے انکے خوابوں کے ساتھ ساتھ کھلواڑ تو شروع شروعات میں ہوا تھا جو کچھ کسر رہتا تھا وہ اسٹبلشمنٹ نے ایم کیو ایم جیسی لسانی تنظیم بناکر پڑھے لکھے اور مہزیب بانیان پاکستان کو مہاجر بناکر انکے آباؤاجداد کی لازوال قربانیوں کی داستان کو نہ صرف داغدار کردیا بلکہ انکی نئی نسل کو لسان پرستی جیسی لعنت میں دھکیل کر خود انکا حال آباؤاجداد کا ماضی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تاریک کردیا یعنی تین نسلوں کو برباد کردیا ۔۔۔یعنی انسانیت کی پیکر اردو بولنے والی بانی گروہ کے ہاتھ میں کلاشنکوف گولی اور پیسے کا مزہ رنگ دیا اور کنٹرولڈ میڈیا کے زر خرید نمائندوں کے ذریعے اس محسن باوقار قوم کا روشن جہرہ مسیخ کرنے کی کوششوں کو مختلف طریقوں سے چلا بخشتے گئے اور بات یہاں تک پہنچ نکلی کی جس بھارت اور بھارتی سماج کو انکی پچھلی نسل ٹکراکر آئی تھیں یہ نسل انسے دوبارہ ہاتھ ملانے پر مجبور ہوگئی اور بقول پاکستانی محب وطن ایجینسیوں کے الطاف حسین اور دیگر لوگوں کی سوچ اور فکر را کی تشکیل کردہ ہے تو یہاں ایک سادہ لوح لوگوں کا ایک اہم سوال کہ یہ حالت کس نے بنائی ۔۔۔۔تو جواب سیدھا ہے ۔۔۔۔ہماری پیاری ایجنسیوں کی طرف جاتا ہے جنکا پولیٹکل انجینئرنگ کا شوق گزشتہ بہتر سالوں سے مسلسل ترقی کررہا ہے اور ہر پانچ سال بعد اپکو ایک نیا پروڈکٹ دیتے ہیں جتنا تولٹی نیشنل کمپنیوں اپنی پروڈکشن لائن نہیں بڑھا سکیں جتنا اس ملک کی ایجینسیوں نے پولیٹکل پروڈکٹ اپنی فیکٹری میں پکا کر معاشرے میں مارکیٹ کیا لیکن پروڈکٹ کی مجموعی حکمتِ عملی دوست چین کہ امامت میں چلی ہے یعنی ون ٹائم تو ایسے میں بہت سے قابل ترین علمی شخصیات بھی بہت بری طرح متاثر ہوئیں جن میں بہت سارے اساتذہ کرام بھی شامل تھے جنکو ایم کیو ایم کے شک میں تنگ کیا گیا اور پاکستان سے جو ایک دلی لگاؤ تھا اسکو کم کرنے میں اردو اسپیکنگ گھرانے کے سی ایس ایس افسران تھے انکا غلط استعمال کیا گیا اور ہوئے بھی گئے اسطرح پاکستان کا معاشی دارالخلافہ کراچی کو میڈل ایسٹ کا بیروت بناگیا جسکی وجہ سے پاکستان میں آج تک معاشی نظام ابتری کی طرف گامزن ہے اس میں یہی منصوبہ ساز شامل ہیں جن کو ہم۔لفظ عام میں اسٹبلشمنٹ کہتے ہیں جس میں عسکری اور سول سروس کے ممبران شامل ہوتے ہیں ۔۔انکی یہ کارکردگی آج تک پاکستان کو اس حالت میں رکھنے میں کامیاب رہی ہے آج پاکستان بنگلادیش اور افغانستان جیسے ممالک سے بھی معاشی طور پر پیچھے رہ گیا اگر یہاں پر استادوں کی مجموعی حکمتِ عملی کو فوقیت دی جاتی اور ہر ادارہ اپنا کام کرتے تو شاید پاکستان آج ایشیا کا طاقتور ترین ملک ہوتا اور شہری بستیوں میں ویرانی اور تکلیف کا یہ سما نہ ہوتا اور نہ ہی معاشرہ اس قدر بےجان ہوتا کہ جہاں انسانیت اقدار ٹارچ کی روشنی میں بھی بہت مشکل سے تلاش کیا جاسکے ۔۔۔۔یہ حالت گلگت بلتستان جیسے متنازعہ سماج میں بھی سرایت کر گئی اور آج اس معاشرے میں پروفیسر سید احمد کے مطابق غلامی کا وہ دؤر یاد دلواتا ہے جہاں معاشرے میں انسان اور انسانی اقدار کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ عہدے اور منصب مال و دولت ہی فیصلہ کن عنصر ہوتا ہے تو یہ قوموں کی تباہی اور معاشرے کی تذلیل کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔سی ایس ایس کرنا پروفیشن کے لحاظ سے بہت اچھا ہے لیکن خدارا ایک مقابلہ کا امتحان پاس کرنے والے افراد کو معاشرے کا عقل کل نہ سمجھا جائے اور اسطرح معاشرے میں توازن بگڑنے کی کوشش نہ کر معاشرے کا ہر فرد چاہیے وہ میونسپل کارپوریشن کا صفائی ستھرائی والا بندے سے لیکر ڈاکٹر صاحب اور وزیر اعلیٰ تک کی اپنی اہمیت مسلمہ ہے اور ہمیں ان سب کی عزت احترام کرنے کا طریقہ سیکھنا چاہیے میں پچھلے سال امریک گیا تو حیرانی ہوئی کی ہوٹل کے ویٹروں کو جب کوئی بلاتا تھا تو سر کا خطاب ادا کرتے تھے پھر مجھے کچھ مقامی افراد سے ملنے کا موقع ملا تو مزید پوچھا تو حیرانگی میں اور اضافہ ہوا وہاں کوئی ڈاکٹر سی ایس ایس یا نواب یا شاہ صاحب دیکھ کر نہیں پارٹنر کی شخصیت اور دیانت داری اور محبت کو آزما کر یا بھروسے کے طور پر چنا جاتا ہے کیونکہ بقول سارہ لورین کے جس سے میری پہلی ملاقات ایک سوشل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ میں ہوئی تھی کہنا تھا کہ”# شادی زندگی کا وہ فیصلہ یا حصہ ہے جس میں دو انسان نئے نسل کی آبیاری کی بنیاد رکھتے ہیں نہ کہ ایک فیکٹری یا دوکان کی جس سے مزید پیسے بنائیں لھذا شادی افراد کی اپنی پسند سے وہ نہ کیہ مال دولت یا عہدے کی لائچ میں۔۔۔۔اگر معاشرے کو بہتر بنانا ہے تو ہمیں اقدار کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا ورنہ یہ شادی کے نام میں کاروبار معاشرے کو برباد کردیا گا#” جن معاشروں میں علم اور استاد کہ اہمیت ہوتی ہیں وہاں معاشرتی ترقی روکتی نہیں ورنہ مولوی،کپتان، اور دیگر مربوط گروپس معاشرے کو اپنی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں اور عزت نفس مجروح ہوتی رہے گی اور ہم اس انتظار میں ہونگے کہ کوئی آسمان سے آکر ہماری نجات کا ذریعہ بنے کیونکہ زمیں والے مخلص عوام دوست لیڈرز کو ہم ڈر خوف اور دہشت یا لائیچ کی وجہ سے سپورٹ نہی کرتے فرشتے فلحال فلسطین اور کشمیر میں دستیاب نہیں تو کہاں #گلگت #بلتستان اور پاکستان کا شمال جہاں موبائل کا نیٹ ورک تک میسر نہیں ٹھیک سے تو ایسے میں فرشتے کیونکر تمھاری مدد کو نکلے؟

 

تحریر: پروفیسر علی شفا
سابقہ امیدوار صوبائی اسمبلی گلگت بلتستان
چیرمین سپریم کونسل۔۔۔بلتستان یوتھ الائنس
ہیومین رائٹس ایکٹیویٹیس اورگلگت بلتستان میں
سوشل چینج کے لیے کوشاں ہیں

About TNN-ISB

2 comments

  1. یاور ملیاری

    زبردست کام کوریا ہے تحریر نیوز کی جانب سے

  2. یاور ملیاری

    Zaberdast kam horahy

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc