گلگت بلتستان میں انسداد دہشت گردی قانون کا بےجااستعمال۔

اکیس جون 2019ء کو گلگت بلتستان کی تاریخ میں ایک سیاہ ترین باب کا اضافہ ہوا۔ اس دن حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان میں قانون انسداد دہشت گردی کی شق شیڈول فور کا نا جائز اور بے جا استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں امن پسندشہریوں سے آزادی سے زندگی گزارنے کا حق چھین لیا۔حکومت پاکستان نے انسداددہشت گردی کا قانون پاکستان میں دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن لینے کے لئے بنایا تھا تا کہ امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ لیکن حکومت اس قانون کوغیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر متنازعہ گلگت بلتستان میں حقوق کی بات کرنے والے سیاسی رہنماؤں اور سوشل میڈیا کارکنوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں شیڈول فور میں شامل افراد پر کئے گئے غیر جانبدار نہ تحقیقات سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ گلگت بلتستان میں اس قانون کا اطلاق نہ کالعدم مذہبی و سیاسی جماعتوں پر ہو رہا ہے ا اور نہ ہی دہشت گردوں پر ہورہا ہے بلکہ شیڈول فورمیں ڈالے گئے افراد گلگت بلتستان کے عوام کی بنیادی حقوق کے لئے موثر آواز اٹھا نے والے پرامن سیاسی رہنما ہیں۔ ابتدائی طور پر حکومت نے 183 افراد کو شیڈول فور میں ڈالا تھا، ان میں سے اکثریت انفرادی اور اجتماعی طور پرگلگت بلتستان کے حقوق کے لئے آواز اٹھا نے والے سیاسی و سماجی کارکن تھے۔ ان پر امن شہریوں کوکسی بھی مذہبی و دہشت گرد تنظیم سے تعلق نہ ہونے کے باوجود بھی شیدول فور میں خانہ پوری کے لئے شامل کئے گئے تھے، تاکہ ریاستی ادروں کا خوف ان کے دلوں پر چھائے رہے اور ضلعی سطح پر بنائی گئی کمیٹی کے آٖفیسران اپنی کارکردگی دکھا کر ترقی و انعامات حاصل کر سکے۔ کچھ لوگوں کو ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پربھی شیڈول فور میں ڈالے گئے او کچھ لوگوں کو ذاتی و خاندانی دشمنی، سیاسی مخالفت، سرکاری اداروں کے لئے سہولت کاری نہ کرنے کے پیش نظر شیڈول فور میں شامل کئے گئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
شیڈول فور کی لسٹ پر کی گئی تحقیقات کے بعد انتہائی ہو شرباء انکشابات بھی سامنے آئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں سولین کاشیڈول فور میں نام ڈالنے اور نام نکالنے کا اختیارسول انتظامیہ کے پاس نہیں ہے۔ محکمہ پولیس گلگت بلتستان کے سابق سربراہ ثنا ء اللہ نے شیڈول فور کی لسٹوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ سال بیان دیا تھا کہ شیڈول فور میں شامل تمام بے گناہ افراد کو نکال دیا جائے گا کیونکہ ان افراد کے خلاف کسی بھی تھانے میں کسی بھی قسم کی معمولی شکایت تک نہیں تا ہم اعلیٰ قوتوں کی سخت مخالفت اور مداخلت کی وجہ سے انہیں فہرست میں خاطر خواہ کمی لانے میں کامیابی نہیں ملی۔ پچھلے دو سال سے شیڈول فور سے نام نکالنے کے لئے سرکاری خفیہ اداروں کی مختلف لوگوں کے ساتھ ڈیل بھی چلتی رہی ہے۔ کافی لوگوں کو خفیہ ڈیل کے بعد شیڈول فورسے نکال لئے گئے ہیں اور ان سے عہد لیا گیا کہ وہ گلگت بلتستان کی قومی اشیوز پر کسی بھی قسم کی سیاست نہیں کریں گے۔ حکومتی اقدامات کے خلاف کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے اورگمنامی کی زندگی گزاریں گے۔ سرکاری سطح پر بھی اس بات کا اعتراف کیا جا رہاہے کہ شیڈول فور کا گلگت بلتستان میں استعمال غلط ہوا ہے اس لئے، شیدول فور سے اب تک تقریبا 200 سے زیادہ افراد کو بے گناہ قرار دے کر نکالے جا چکے ہیں جو کہ اس قانون کی بے جا استعمال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ضلعی انتظامیہ نے ماؤرائے قانون ایک حلف نامہ بنایا ہے جس پر دستخط کرنے والوں کو بھی شیڈول فور سے نکالا جاتا ہے۔ یہ حلف نامہ جنیوا کنونشن اور آ ئین پاکستان کے دفعات سے متصادم ہیں جس میں مبینہ طور پر لوگوں کو حق رائے دہی، حق تنظیم سازی، حق اظہار رائے، حق ملازمت اور حق آزادی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
گلگت اور دیامر ڈویژنز سے کافی تعداد میں قومی مذہبی و سیاسی رہنماؤں، ماہرین تعلیم، سماجی کارکنوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹز کو شیڈول فور میں ڈالے گئے تھے ان میں سے بعض افراد پر سی پیک کے خلاف سازش کے الزمات کے تحت مقدمات بھی بنائے گئے تاہم اس وقت ان میں سے بیشتر کو قید و بند کی اذیت دینے کے بعد بے قصور قرار دے کر رہا کر دئیے ہیں اور ان کے نام شیڈول فور سے بھی خارج کئے گئے ہیں۔ اور اب بھی بہت سے سیاسی کارکنوں کو شیدول فور پر رکھا جا رہا ہے تاکہ انہیں معاشی طور پر کمزور کر کے ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو دبایا جا سکے اور انہیں عوامی حقوق کی جد و جہد سے دور رکھا جا سکے۔ گلگت ڈویژن سے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ حسنین رمل، راجہ میر نواز میر، کرنل (ر) نادر حسن، ابرار بگورو،،یاور عباس، شیخ موسیٰ کریمی، شیخ شبیر حکیمی،دیدار علی، عنایت عبدالی، راجہ میر نواز میر، یاور علی اور دیگر کئی سماجی و سیاسی کارکنوں کو عوامی حقوق کی ایک موثر آواز بننے کی جرم میں مسلسل شیڈول فور میں ر کھے جا رہے ہیں۔
بلتستان ڈویژن سے پانچ سرکردہ قومی رہنماؤں کو شیڈول فور میں ڈالے گئے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی فرد کا کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ ان افراد کو شیڈول فور میں شامل کرنے کی بنیادی وجہ بلتستان ڈویژن کی ضلعی شیڈول فورکمیٹی کے ممبران کی ذاتی خواہش بتائی جاتی ہے۔ بلتستان ڈویژن کو پر امن اور دہشت گردی سے پاک خطہ ہونے کی تاثر کو زائل کرنے کے لئے ضلعی کمیٹی نے ان افراد کو شیڈول فور میں ڈالنے کی سفارش کی تھی حالانکہ متعلقہ تھانوں اور سپیشل برانچ کی ڈیلی ڈائری میں بھی ان افراد کا کے خلاف کسی بھی قسم کی شکایت یا مقدمہ نہ ہونے کی رپورٹ سامنے آئی تھیں۔
بلتستان ڈویژن سے سید آغا علی رضوی،جنرل سکریٹری ایم ڈبلیو ایم، منظور پروانہ سابق صدر بلتستان سٹوڈینس فیڈریشن و چئیرمین گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ، شہزاد آغا ضلعی صدرپاکستان پیپلز پارٹی، شبیر مایار رہنماء بلتستان یوتھ الائنس، شیخ محمد علی کریمی رہنماء ایم ڈبلیو ایم شیڈول فور میں شامل ہیں۔ سید علی رضوی گلگت بلتستان میں حکومت مخالف احتجاج کا سر غنہ اور ایک نڈر عوامی لیڈر ہے، گندم سبسڈی دھرنا اوراینٹی ٹیکس مارچ میں علی رضوی کی قائدانہ صلاحیت سے حکومت خوف زدہ ہیں اس لئے شیڈول فور پر رکھا ہوا ہے۔ شبیر مایار، شیخ کریمی اور غلام شہزاد آغا بھی مزاحمتی تحریکوں کے ہیرو سمجھے جاتے ہیں جبکہ منظور پروانہ ایک حق پرست و قوم پرست رہنماء ہیں وہ سکردو حلقہ فور سے انتخابات میں بھی حصہ لیتے ہیں، منظور پروانہ، بلتستان اسٹوڈینس فیڈریشن کا صدر رہ چکا ہے۔منظور پروانہ گلگت بلتستان کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والی قدآ ور شخصیت ہیں، منظور پروانہ کوعوامی حقوق کی جد وجہد کو عالمی سطح پر متعارف کرانے، گلگت بلتستان میں کرپشن، اقربا پروری، انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے پرشیڈول فور میں ڈالا گیا ہے۔ وہ گزشتہ بیس سالوں سے گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کے لئے سرگرم ہیں۔ ان کے بینک اکا ؤنٹ منجمد کئے گئے ہیں، شناختی کاڑد بلاک اور پاسپورٹ ضبط کئے گئے ہیں اور ان کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے، ان کو انتخابی سیاست سے باہر رکھنے کے لئے بھی شیڈول فور کو استعمال کیا جا رہا ہے۔انتہائی دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان گلگت بلتستان کی آٹھ مذہبی جماعتوں کو دہشت گردی کے شبہ میں کالعدم قرار دے چکی ہیں، ان آٹھ مذہبی جماعتوں کے سر کردہ رہنماؤں، سہولت کاروں اور کارکنوں کو شیڈول فور میں نہیں ڈالا گیا ہے انہیں اپنی سرگرمیاں کرنے کی کھلی آزادی دی ہوئی ہیں،بلکہ ان کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں کو گلگت بلتستان اسمبلی میں اہم عہدوں پر فائز کئے گئے ہیں۔روز نامہ باد شمال میں ۱۱ مئی 2019 ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق حکومت نے کالعدم جماعتوں کے ان رہنماؤں کو پارٹی تبدیل کرنے کی صورت میں اپنے عہدوں پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سے یہ بات ثا بت ہو تی ہے کہ کوئی بھی کالعدم جماعت کا رہنماء یا رکن،مسلم لیگ یا پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر کے محفوظ راستہ حاصل کرسکتا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ گلگت بلتستان میں کالعدم تنظیموں کی حکومتی سرپرستی جاری و ساری ہیں۔
گلگت بلتستان کے قوم پرست رہنماؤں کو بھی اس طرح کے دباؤ کا سامناہے۔ضلع غذر سے بی این ایف اور بی این ایس او کے کافی کارکنوں کو پی پی پی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ میں شامل ہونے کے بعد شیڈول فور سے نکالے گئے ہیں۔ شیڈول فورکو پارٹی وفاداریاں تبدیل کروانے کے لئے بھی موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان میں کالعدم اور دہشت گرد قرار دیئے گئے کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کے کارکنوں کو شیڈول فور میں نہیں ڈالے گئے ہیں۔ سانحہ کوہستان، سانحہ یادگار چوک گلگت اور سانحہ چیلاس میں ملوث مشکوک دہشت گرد بھی شیڈول فور سے آزاد ہیں، دیامر میں سرکاری سکولوں کو جلانے اور کارگاہ نالہ میں پولیس جوانوں کو شہید کرنے والے کمانڈرز بھی شیڈول فور میں شامل نہیں تھے۔ اس سے بڑی انکشاف یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد علی خراسانی جس کا تعلق گلگت بلتستان سے بتایا جاتا ہے اس کا نام بھی شیڈول فور کی لسٹ میں کبھی شامل نہیں کیا گیاہے۔
انسداد دہشت گردی کا قانون آئینی و قانونی طور پر کسی بھی صورت ایک متنازعہ خطے میں نافذ نہیں کیا جا سکتا، اس قانون کے اطلاق کا مقصد صرف اور صرف نو آبادیاتی نظام حکومت کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کو کچل دینا ہے تاکہ حقوق کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو دہشت گردی سے جوڑ کردبایا جا سکے، اور گلگت بلتستان کے عوام کی بنیادی و انسانی حقوق کی آواز عالمگریت حاصل نہ کر سکے۔ کئی سال پہلے بھارت نے بھی جموں و کشمیر میں پوٹا نام سے شیڈول فور سے ملی جلی قانون کا نفاذ عمل میں لایا تھااوراب حکومت پاکستان گلگت بلتستان میں شیڈول فور کا قانون لا کرعوام کی سروں کو فتح کرنے میں کوشاں ہے۔ متنازعہ خطے میں جہاں استصواب رائے کا ہونا باقی ہو، عوام کے سروں پر حکومت قائم کرنے کی بجائے دلوں میں جگہ بنانے کی حکمت عملی اپنائی گئی تو تنازعہ گلگت بلتستان کا سود مند تنائج سامنے آ سکتا ہے۔ سود مندنتائج ایسی صورت میں ممکن ہے جب متنازعہ خطے میں انسانیت کش اور عوام دشمن کالے قوانین کی اندھا دھند استعمال سے گریز کرتے ہو ئے عوام کو آزادی سے جینے کا حق دیا جائے۔
تحریر: انجینئر منظور حسین پروانہ
سابق صدر بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن،چئیرمین گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc