جارج فلوئیڈ :پاکستانی خود ساختہ دانشوروں کی سوچ

قارئین

بہت عجیب لگا مجھے جارج فلوئیڈ کی ناگہانی موت کے بعد پاکستانی خود ساختہ دانشوروں کی ذہنیت اور سوچ کو دیکھ کر انکے اندر چھپی ہوئی نفرت اور بے بسی کی سوچ کو پرکھنے کا موقعہ ملا جو کہ مختلف آرٹیکلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے پڑھنے کو ملیں جس سے ان لوگوں کی ذہنی حالت کا اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کیسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ۔۔۔۔ احساس سوچ اور معاشرتی فکر کو معاشرتی بربادی تصور کیا جاتا ہے جو کہ امریکی لوگوں نے یکجا ہوکر دیکھایا ۔۔۔۔جناب پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریتی معاشرے میں لوگوں کی سوچ دیکھو کہ ایک انسان کی زندگی کے حادثاتی موت پر پورا معاشرہ بلا امتیاز آٹھ کھڑا ہوتا ہے اور پولیس اور فوج ماڑل ٹاؤن جیسا طاقت استعمال نہیں کرتا بلکہ سکوت سے استقبال کرتا ہے جس جلوس میں سیاہ فام اور سفید رنگ کے دونوں نسل ایک ہی جذبے اور احساس سے احتجاجی مظاہرے کر رہے یعنی عوام نے نسلی امتیاز کو رد کر کے امریکہ کو بچایا ۔۔۔۔ادھر پاکستان میں پانچ سو ہزاروں (کوئیٹہ) میں قتل عام پر صرف ہزاروں کو احتجاج کرنا پڑھتا اور تمام میڈیا کو ملک کی طاقتور اداروں نے بلیک آؤٹ کیا اور اس کو شعیہ وہابی کیس کہ کر غیر شعیہ علاقوں میں مارنے والوں کی تعریف کے ساتھ دعائیں کی گئی ۔۔۔جناب مولوی حضرات اور مطالعہ پاکستان کے استادوں امریکہ جارج کی موت سے ایک دفعہ پھر تازہ دم قوم اور ژندہ معاشرہ بن گیا اپنی مردہ دلی اور متعصبانہ سوچ کو بدلو اور معاشرتی نظام کو انسانی ڈگر پر بلانے کی فکر کرو جو کہ ابھی تعصب اور تنگ نظری پر مشتمل ہے جہاں انسانیت سے زیادہ فرقہ پرستی اور گروہ بندی بل رہی جس کو ریاست کی باقاعدہ سرپرستی حاصل ہے ۔۔۔۔۔دکھ تو یہ ہے کہ امریکہ کی فکر کرنے والوں کو اپنی نسلوں کی فکر نہی جن کو ہم پیشوا مانتے ہیں وہیں اداروں کی چنگل میں جنکا کام بجٹ لینا اور معاشرتی تفریق کو بڑھاوا دینا ہے۔گلگت بلتستان پچھلے سات عشروں سے خطرناک امتیاز کے اتاب میں جو کی فرقہ واریت اور نسل پرستی کی وجہ سے ہے اور یہاں کے معاشرتی زندگی کو برباد کردیا گیا اور معاشرے کو اس قدر متاثر کیا کہ آج ہر طرف تقسیم اور خوف پایا جاتا ہے۔ ہر طرف بد عنوانی اور بد اعتمادی کا راج جاری ہے جو کہ اقتدار اعلیٰ اور ایوان اختیار لوگوں نے معاشرے کو منصوبہ بندی کے مطابق برباد کیا ہے اور یہاں لاشوں کی ڈھیر لگائی گئی اور مخالف گروہ کی موت کو جشن بناکر پیش کیا جاتا رہا تو ایسے معاشرے کے افراد کیا حق رکھتے ہیں کہ امریکہ جیسے سماج کے اوپر تنقید کریں جہاں ایک جارج کے قتل پر معاشرے میں ایک نیا انقلاب آیا اور سکیورٹی فورسز اور ریاستی اداروں کی جانب سے عوام کی رائے کو مقدم رکھ کر انکے احترام میں بااداب سرخم تسلیم کرنا ہمارے جیسے سماج کے لیے ایک معجزاتی کرشمہ اور سبق آموز کام ہے
امریک کو کچھ مالی نقصان ضرور ہوا لیکن مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے خواب کو حقیقت میں قیام رکھنے کے لیے جارج فلوئیڈ کی ناگہانی موت نے ایک شماع کا کام کیا اور جس امریکہ کو میں نے دیکھا ہے وہ امریکہ ڈائورسٹی (Diversity of all kind ) کی جنت لگتی ہے اور لوگ آپس میں جوڑے ہوئے ہیں اور مزے کی بات اسٹبلشمنٹ عوام کو تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کرتی بلکہ جوڑنے کی کوشش میں مصروف نظر آتی ہے۔

تحریر:پروفیسر علی شفا
سابق امیدوار صوبائی اسمبلی گلگت بلتستان ،چیرمین سپریم کونسل۔
بلتستان یوتھ الائنس

About TNN-ISB

One comment

  1. محمد امیر حسین

    ماشاءاللہ بہترین تحریر۔ بدقسمتی سے ملک فرقہ واریت کی طرف دھکیلا گیا، جس میں پنجاب سے لیکر گلگت تک آگ نہ رکی۔ آج بھی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے من و عن قبول کرتے ہیں، کاش ہم اپنے فیصلے کرنا خود سیکھ لیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc