بلتستان ریجن کیلئے اسپیکر قانون ساز اسمبلی کے کیا خدمات ہیں؟ خود نے واضح کردیا۔ مگر حقائق کچھ اور ہے جس پر غور فکر کرنے کی ضروت ہے۔

سکردو( تحریر نیوز) بلتستان ریجن گلگت شہر کی نسبت ہمیشہ سے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے نظرانداز ہوتے رہے ہیں مہدی شاہ کے دور میں نون لیگ پانچ سال یہی کہتے رہے کہ مہدی شاہ نے سب کچھ سکرود میں لگادیا لیکن حقیقت میں اُنہوں نے اپنے محلے کیلئے بھی ایک سڑک نہیں بنواکر دیا۔آج حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت شہر کی ترقی کیلئے جو بیڑا اُٹھایا ہے وہ اچھا اقدام ہے لیکن صرف گلگت ہی گلگت بلتستان نہیں، اُنہیں چاہئے کہ جس تیزی سے گلگت میں ترقیاتی کام ہورہا ہے بلکل اسی تناسب سے بلتستان ریجن میں بھی ترقیاتی کام ہونے چاہئے۔ دوسری طرف بلتستان سے تعلق رکھنے والے اراکین قانون ساز اسمبلی دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا لگتا ہے کہ بلتستان کے مسائل کی حل کیلئے اُن کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ممبران کسی بھی کسی کام کا کریڈیٹ لینے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ تفصیلات کے مطابق سپیکرقانون سازاسمبلی حاجی فداناشاد نے دعوٰی کیا ہے کہ سکردومیں کیڈٹ کالج،پبلک سکول اینڈکالج کے قیام اوراب بلتستان یونیورسٹی کی منظوری اُنکی کوششوں کا نتیجہ ہے یعنی اس حوالے سے دہائیوں تک جدوجہد کرنے والے طلبہ تنظیموں،اہل قلم اور دیگر شخصیات کا اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں۔ فدا ناشاد واقعی میں اگر اتنے بااختیارہیں تو اُنہیں چاہئے کہ کرگل سکردو،خپلو تورتک روڈ کی بحالی کیلئے کوشش کریں ،خالصہ سرکار کے نام پر عوامی املاک پر قبضے کو روکیں،بلتستان ریجن کو اہم عہدوں سے بلکل کنارے لگا کر میرٹ کی قتل عام پر اختیارات کا استعمال کریں، محکمہ ورک میں سرکاری ٹھیکوں کو جو بولی لگتی ہے اسے روکنے کیلئے اختیارات کا استعمال کریں، بلتستان میں پہلے ہائی اسکول کو کے یو کیمپس کا نام دیکر اب اسی کیمپس کو یونیورسٹی کا نام دینا ایک عجوبے سے کم نہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc