دنیا کا عجوبہ حوطونگ بیامہ نرسری محکمہ زراعت کھرمنگ کی لاپرواہی یا کچھ اور کہانی ؟ خصوصی رپورٹ پڑھنے کیلئے لنک کلک کریں

کھرمنگ (رپورٹ ۔ارشاد حسین کھرمنگی)80 کی دہائی میں ڈپٹی ڈائریکٹر مرحوم عبدالکریم بلغاری صاحب نے جناب شہید سید اسد زیدی صاحب کے کہنے پر سکردو میں جاری کسی پراجیکٹ سے تھوڑا بہت فنڈ نکال کر اسے قائم کیا تھا۔
80 کی دہائی، یعنی پورے چالیس سال، محکمہ زراعت بلتستان ایک غیر منظور شدہ اسکیم پر پچھلے چالیس سال سے سرمایہ کاری کررھا ھے، صرف ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں اب تک کڑوروں روپیےادا کیے جاچکے ہيں۔
یہ ان غریب ملازمین کی محنت ھے جنہوں نے ابتک یہاں کسی نہ کسی طرح ہریالی قائم رکھا ھوا ھے، کیونکہ اس میدان میں پانی میسر نہیں اور ملازمین لب دریا سے پانی بھر بھر کے لاکر انہیں ڈالتے ہیں۔
میں جب حوطونگ بیامہ نرسری میں موجود درختوں کو دیکھتا ھوں تو کبھی کبھار سوچتا ھوں کہ دریائے سندھ کے پانی میں آبِ حیات کی آمیزش ھوگی، کیونکہ تصاویر میں نظر آنے والی درختوں کی عمر تیس سے چالیس سال کے ھے، 80 کی دہائی میں پیدا ھونے والوں نے اب بڑھاپے کی دہلیز پہ قدم رکھا ھے مگر حوطونگ بیامہ میں موجود درخت ویسے کے ویسے ھی ھے، ایسا لگتا ھے کہ ان درختوں کی عمر دو سے تین سال کے درمیان ھوگی۔
نیشنل جیوگرافک چینل والوں سے رابطہ کرے تو وہ بھی شاید اس نایاب نرسری پہ پوری ڈاکومنٹری بنا لے۔
میں محکمہ سیاحت بلتستان اور کھرمنگ کی انتظامیہ سے بھی اپیل کرتا ھوں کہ حوطونگ بیامہ نرسری کو ٹورسٹ پوائنٹ قرار دے اور کھرمنگ میں موجود اس عجوبہ تک سیاحوں کی رسائی یقینی بنائے۔
محکمہ زراعت بلتستان چالیس سالوں سے ایک غیر منظورشدہ نرسری پہ سرمایہ کاری کیوں کررھا ھے، میری سمجھ سے تو بالاتر ھے، اگر اس نرسری کو آپ لوگ باقاعدہ منظور کرکے چلا نہیں سکتے تو اسے بند کیوں نہیں کرتے، ان لوگوں کی اطلاع کے لئے پہلے سے عرض کروں جو یہاں موجود چند ملازمین کی بات کرینگے تو وہ محکمہ زراعت کے ملازم ھےکہیں اور بھی ڈیوٹی کر لینگے، حوطونگ بیامہ نرسری کےنام سے ابتک کوئی پوسٹ نہیں آئی ھے کیونکہ یہ منظور شدہ نہیں۔
کیا محکمہ زراعت نے چالیس سالوں سے مایوردو تا گنگنی تک کے عوامی حقوق پہ ڈاکہ نہیں ڈالا ھے؟
محکمہ زراعت کے نرسریوں سے بلتستان بھر کے زمیندار و کسان مستفید ھورھے ھے لیکن اپر کھرمنگ کے زمیندار اور کسان محروم ھے۔
کیوں؟ اس لئے کی حوطونگ بیامہ نرسری کے نام سے چالیس سال سے ایک دھوکا ھے جو اپر کھرمنگ کے عوام کو دیا جارھا ھے اور ھم ھے کہ مسلسل اس فریب کو آنکھوں سے دیکھتے ھوئے بھی خاموش ھے۔
کہتے ھے کہ صحرا میں جب کوئی راستہ بھٹکتا ھے تو ایسا بھی ایک وقت آتا ھے کہ پیاس کی شدت سے اسے آنکھوں کے سامنے دور صرف پانی نظر آتا ھے اور وہ دوڑتے ھوئے وہاں پہنچتا ھے تو صرف ریت ہی ریت ھوتا ھے یعنی ایک سراب۔
حوطونگ بیامہ نرسری بھی اپر کھرمنگ والوں کے لئے ایک سراب ھے، کہنے کو یہاں بھی ایک نرسری ھے لیکن اس کی حقیقت ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں ۔

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc