مسلم عسکری اتحاد کی ضرورت۔ تحریر محمد عثمان حسین۔

دین اسلام آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے.اسوقت دنیا میں 57مسلم ممالک ہے. خالق نے مسلمانوں ہر قسم کے وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے. لیکن اتحاد کے فقدان کے سبب ان وسائل کو ڈھال بناکر عالم میں اپنی وقار برقرار رکھنے کے قابل نہیں.محفوظ مستقبل کیلئے مسلم امہ کا اتحاد ناگزیر ہیں.نااتفاقی دن بہ دن مسلمانوں کو سیاسی سماجی اوراقتصادی محاز پر کمزور کر رہی ہے.مسلمانوں کو یکجا کرنے کا واحد بین الاقوامی فارم اوآئی سی ہے.جس کا وجود 1969میں عمل میں آیا. تنظیم کے بنیادی مقاصد میں مسلمانوں اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ شامل ہے لیکن اپنی وجود سے لیکر اب تک اوآئی سی بجا طور پر سائس وٹئکنالوجی اور دوسرے شعبوں میں باہمی تعاون میں پشرفت کروانے میں کامیاب جبکہ اپنی بنادی ہدف مسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے.جس کی بنیادی وجہ ممبر ممالک کی آپس کی ناچاکیاں اور اپنے مفاد کو امت کی مفاد پر ترجیح دینا ہے. او آئی سی اب قرادادوں تک محدود ہوچکی ہے. حالیہ دنوں بھی اپنی سربراہی کانفرنس میں ترک صدر کے گرما گرم تقریر کے بعداو آئی سی نے ایک اعلانیہ جاری کرتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش مسائل ومشکلات کے علاوہ میانمر کی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کرے اور زمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے.لیکن حالات کے تناظر میں ایسی مطالبات کوئی معنی نہیں رکھتی.او آئی سی فلسطین وکشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والی مظالم پر بھارت اور اسرائیل سے بھی کئی دفعہ مطالبات کرچکاہے.ایسے مطالبات مہذب ملکوں اور قوموں سے کی جاتی ہے.اپنی حق کے لیے تشدد کے بجائے امن کا راستہ اپناتے ہوئے احتجاج کرنے والے مظلوم روہنگیا مسلمانوں پرمحض چند پولیس چوکیوں پر حملے کا بہانہ بناکر تاریخ کا بدترین ظلم کرنا دنیا کے کسی مزہب اور قانون کا حصہ نہیں .جہاں ریاست خوددہشتگردی میں ملوث ہوں وہاں مطالبات نہیں کی جاتی. میانمار کے حکمران پارٹی کے سربراہ نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی نے بھارتی خبررسال ایجنسی اے این آئی سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور میانمار کو ایک جیسی مسائَل کا سامنا ہے.جسطرح کشمیر میں بھارت کو دہشتگردی کا سامنا ہے اسی طرح روینگیا میں میانمر کو بھی دہشتگردی کا سامنا ہے. دوسری جانب اسرائیلی اخبار ہارٹر کے مطابق اسرائیل میانمار کی فوج کو اسلحہ اور تربیت فراہم کر رہا حقائق تو یہی ہے کہ بھارت اور اسرائیل بھی بدھ مت کے پیروکاروں کے ساتھ مسلمانون کی نسل کشی میں برابر کے شریک ہیں.مغربی ممالک کو بھی اب مسلمانوں کے قتل عام پر روایتی خاموشی ختم کرتے ہوئے انسانیت کے ناطے میانمر کی ساتھ رونگٹھے کھڑے کر دینے والے مظالم کے خلاف سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کر دینے چاہئے. جہاں عیسائی ریاست راتوں رات قائم کرنے کیلئے اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کی فوج مداخلت ہکرتی ہے وہاں میانمر , کشمیر اور فلسطین میں مظالم پر مجرمانہ خاموشی ک وجہ صرف صرف یہ ہے کہ یہاں مظلوم مسلمان ہیں .اسلیے ضرورت اس امر ک یے کہ ماضی کے تلخ حقائق اور حال کے مسائل ومشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام مسلمان اوآئی سی کے پلٹ فارم سے موثر اسلامی بلاک بن کر مسلمانوں کے تحفظ کیلیے اپنا کردار ادا کریں اقوام متحدہ پر بھروسہ کرنا احماقانہ عمل ہوگا.اتحادواتفاق کے ساتھ ایک ایسی مسلم عسکری اتحاد کی اشد ضرورت ہے جو چند آمر حکمرانوں کی آمرانہ حاکمیت کی بقا کے لیے وجود میں آنے کے بجائے مظلوم مسلمانوں کی عافیت اور بقا کا ذریعہ بنے.آخر میں حبیب جالب کے اس شعر پر ہی بحث کا اختتام مناسب ہوگا.اٹھ کر دردمندوں کے صبح و شام بد لو بھی-.جس میں تم نہیں شامل وہ نظام بدلو بھی۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc